Dr Akram Nadwi

مسئلۂ شر: خدا کے عدل، حکمت اور انسانی اختیار پر ایک سنجیدہ فکری تجزیہ

سوال: مشفق محترم جناب حافظ محمود کریم صاحب کی جانب سے درجِ ذیل استفسار موصول ہوا ہے:
محترم ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ، امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک معروف علمی ڈیبیٹ زیرِ بحث ہے، جس کے نتیجے میں ایک قدیم مگر نہایت اہم فکری سوال دوبارہ شدت کے ساتھ سامنے آ گیا ہے، جسے فلسفے کی اصطلاح میں مسئلۂ شر (Problem of Evil) کہا جاتا ہے۔ اس بحث سے قطعِ نظر کہ کوئی بھی ڈیبیٹ مجموعی طور پر کس حد تک مفید یا مضر ہے، ایک مثبت پہلو یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ متشکک ذہنوں اور ملحدین کے سوالات کے سنجیدہ اور مدلل جوابات دینے کی طلب ہم میں پہلے سے زیادہ پیدا ہو گئی ہے۔
اکثر ملحد یا تشکیک رکھنے والے افراد یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ دنیا میں معصوم بچوں کا قتل، عورتوں کی آبروریزی، ظلم اور ناانصافی اس قدر وسیع پیمانے پر کیوں پائی جاتی ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ موجود ہے، اور وہ قادرِ مطلق، عادل اور رحیم ہے، تو پھر وہ ان مظالم کو روکتا کیوں نہیں؟ اور اگر وہ انہیں نہیں روکتا، تو کیا یہ بات اس کے وجود کے خلاف دلیل نہیں بنتی؟
میرا سوال یہ ہے کہ اس نوعیت کے اعتراضات کا ایسا عقلی، متوازن اور فکری جواب کس انداز سے دیا جائے کہ اگر سوال کرنے والا ضد یا ہٹ دھرمی پر نہ ہو تو وہ واقعی مطمئن ہو سکے، اور یہ سمجھ سکے کہ مسئلۂ شر درحقیقت خدا کے وجود کی نفی نہیں بلکہ کسی گہری حکمت اور وسیع تر تناظر کی طرف رہنمائی کرتا ہے؟
براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت اپنے علمی و فکری تجربے کی روشنی میں فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً، والسلام، یاسر غفران

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے .

جواب:
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ، محترم یاسر غفران صاحب! اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
مسئلۂ شر (Problem of Evil) فلسفۂ مذہب کے اُن قدیم اور بنیادی مباحث میں سے ہے جو ہر دور میں انسانی فکر کو اپنی گرفت میں لیے رہے ہیں۔ تاہم بعض اوقات یہ سوال محض ایک نظری یا تجریدی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ انسانی تاریخ کے کسی خاص مرحلے پر ایک زندہ اور کربناک اخلاقی چیخ بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ ہمارے عہد میں غزہ جیسے اندوہناک واقعات، جہاں طویل عرصے سے معصوم بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کو قتل، تباہی اور مسلسل اذیت کا سامنا ہے، اس سوال کو غیر معمولی شدت کے ساتھ ابھار رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بہت سے اذہان میں یہ اضطراب پیدا ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ واقعی موجود ہے، اگر وہ قادرِ مطلق، عادلِ مطلق اور نہایت رحیم ہے، تو پھر وہ ان مظالم کو فوراً کیوں نہیں روکتا؟ اور اگر وہ انہیں نہیں روکتا تو کیا یہ بات اس کے وجود یا اس کی صفاتِ کمال کے خلاف دلیل نہیں بن جاتی؟
یہ اعتراض بظاہر نہایت اثر انگیز اور جذباتی قوت رکھتا ہے، مگر جب اسے سنجیدہ عقلی اور فلسفیانہ معیار پر پرکھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کی بنیاد چند ایسے مفروضات پر قائم ہے جو خود محتاجِ نظرِ ثانی ہیں۔ اس اعتراض کا سب سے بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ انسانی اخلاقی وجدان کو خدائی افعال کے جانچنے کا حتمی اور قطعی معیار مان لیا جائے، یعنی جو چیز انسان کو فی الحال ظلم، ناانصافی یا بے رحمی محسوس ہو، وہ لازماً خدا کے نزدیک بھی ظلم ہی ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک گہرا فکری مغالطہ جنم لیتا ہے، اور وہ مغالطہ خدا اور انسان کے مابین حقیقی امتیاز کو نظرانداز کر دینے کا نتیجہ ہے۔
جدید ذہن، خصوصاً وہ جو ایسے مذہبی یا ثقافتی ماحول میں پروان چڑھا ہو جہاں الوہیت اور انسانیت کے تصورات کسی حد تک خلط ملط ہو چکے ہوں، خدا کو اکثر ایک ایسے اخلاقی فاعل کے طور پر تصور کرتا ہے جو انسان ہی کی طرح سوچتا، محسوس کرتا اور فیصلے کرتا ہے، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کے پاس طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ اس تصور کے نتیجے میں انسانی راحت، ذہنی سکون، وقتی جذبات اور شخصی یا اجتماعی اخلاقی احساسات کو خدا کی عدالت میں معیار بنا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی واقعہ انسانی احساسِ انصاف یا ذہنی آسودگی کو مجروح کرتا ہے، تو فوراً یہ نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے کہ خدا ناکام ہو گیا ہے، یا پھر سرے سے موجود ہی نہیں۔
یہ بات یہاں واضح رہنی چاہیے کہ ظلم پر دل کا تڑپ اٹھنا، معصوموں کے لیے دکھ اور غم محسوس کرنا، اور ناانصافی کے خلاف بے چین ہونا نہ صرف فطری بلکہ اخلاقی طور پر مطلوب ہے۔ اگر انسان ظلم دیکھ کر بے حس ہو جائے تو یہی سب سے بڑی اخلاقی تباہی ہوگی۔ اس اعتبار سے غزہ کے مظالم پر اضطراب انسانی ضمیر کی زندہ علامت ہے، اور یہی اضطراب انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے اور مظلوم کی مدد کے لیے متحرک کرتا ہے۔ مسئلہ اس اخلاقی اضطراب میں نہیں بلکہ اس سے اخذ کیے گئے اس فلسفیانہ نتیجے میں ہے کہ خدا کو بھی لازماً اسی انسانی وجدان کے مطابق، اسی وقت اور اسی طریقے سے مداخلت کرنی چاہیے۔
انسانی عقل، وجدان اور اخلاقی فہم اپنی جگہ نہایت قیمتی ہیں، مگر وہ بہرحال محدود ہیں۔ انسان واقعات کو جزوی معلومات، فوری نتائج اور جذباتی قربت کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ اس کا تصورِ عدل نفسیاتی، ثقافتی اور تاریخی عوامل سے مشروط ہوتا ہے۔ اس کے برعکس خدائی علم مطلق، ہمہ گیر اور غیر محدود ہے، جو زمان و مکان کی قیود سے ماورا ہے۔ خدا نہ ماضی میں مقید ہے نہ مستقبل میں؛ اس کے لیے تمام زمانے ایک ہی حقیقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی حدود کو خدا پر منطبق کرنا ایک صریح فکری غلطی ہے جسے فلسفے کی اصطلاح میں تصنیفی مغالطہ (Category Error) كہا جاتا ہے۔ کلاسیکی توحیدی فکر، بالخصوص اسلامی الٰہیات، اس بات پر متفق ہے کہ خدا محض انسان کا بڑا یا زیادہ طاقتور نمونہ نہیں بلکہ بالکلیہ مختلف نوعیت کی ہستی ہے۔
یہی امتیاز اس مفروضے کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے کہ اگر خدا عادل ہوتا تو وہ فوراً مداخلت کرتا۔ اس دعوے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ انسان کو پوری کائنات کے اخلاقی نظام، اس کے آغاز و انجام، اور اس کے تمام ممکنہ نتائج کا علم حاصل ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انسان نہ یہ جانتا ہے کہ کسی برائی کو کتنی مدت تک باقی رہنا چاہیے، نہ یہ کہ کس لمحے مداخلت عدل کے حقیقی تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے، اور نہ ہی اس پر انسانوں کے مابین کوئی اتفاقِ رائے موجود ہے۔
غزہ ہی کی مثال اس حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ آشکار کر دیتی ہے۔ جہاں دنیا کے ایک بڑے حصے کو وہاں کے مظالم کھلی ناانصافی، ظلم اور نسل کشی محسوس ہوتے ہیں، وہیں بعض گروہ، خصوصاً صہیونی فکر سے وابستہ افراد اور ان کے حامی، انہی اعمال کو سیاسی، اخلاقی بلکہ بعض اوقات مذہبی بنیادوں پر درست اور جائز قرار دیتے ہیں۔ اگر انسانی اخلاقی وجدان واقعی ایک آفاقی، قطعی اور ناقابلِ اختلاف معیار ہوتا تو یہ شدید اور بنیادی اختلاف کبھی پیدا نہ ہوتا۔ یہی اختلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی اخلاقی فیصلہ خدائی عدل کا حتمی پیمانہ نہیں بن سکتا۔
مذہبی روایات اس علمی عدمِ توازن کو بار بار نمایاں کرتی ہیں اور انسان کو اس کی فکری حدوں کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ حضرت مریمؑ کی والدہ کا واقعہ اس کی نہایت بلیغ مثال ہے۔ انہوں نے عبادت کے لیے ایک بچے کى نذر مانى اور اپنے محدود سماجی اور عملی تصور کے مطابق یہ سمجھا کہ یہ مقصد لڑکے ہی کے ذریعے پورا ہو سکتا ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر مایوسی فطری تھی، مگر خدائی جواب میں یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ خدا بہتر جانتا ہے۔ بعد میں تاریخ نے یہ ثابت کیا کہ خدائی منصوبے میں ایک لڑکی ہی ناگزیر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی تھی۔ اسی طرح حضرت زکریاؑ کا واقعہ بھی انسانی عقل اور خدائی تقدیر کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔ اولاد کی بشارت پر ان کا تعجب انسانی اسباب کے دائرے میں تھا، جبکہ خدائی فیصلہ ان اسباب سے ماورا۔ یہ واقعات انسانی عقل کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس کی حد بندی کرتے ہیں۔
مسئلۂ شر پر ہونے والی گفتگو میں ایک نہایت اہم پہلو وہ ہے جسے عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے، اور وہ ہے انسانی اختیار اور اخلاقی ذمہ داری۔ یہ مطالبہ کہ خدا خود آ کر ہر ظلم کو روک دے، دراصل انسان کو اس کے اخلاقی فریضے سے سبک دوش کرنے کے مترادف ہے۔ دنیا کا اخلاقی نظام اس بنیاد پر قائم ہے کہ انسان کو اختیار دیا گیا ہے، اور اسی اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی لازم ہے۔ ظلم کا تسلسل اس بات کا ثبوت نہیں کہ خدا غیر موجود یا بے پروا ہے، بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ انسان اپنی دی گئی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں ناکام رہا ہے۔
اس زاویے سے دیکھا جائے تو شر خدائی نظام کی خرابی نہیں بلکہ انسانی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ یہ آزمائش ہے، نہ صرف مظلوم کے لیے بلکہ ظالم، خاموش تماشائی، اداروں اور معاشروں کے لیے بھی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ خدا ظلم کو کیوں برداشت کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان ظلم کو کیوں برداشت کرتا ہے، بلکہ بعض اوقات اسے قبول یا اس کا دفاع بھی کیوں کرتا ہے۔ غزہ کا سانحہ اسی معنی میں انسانیت کو بے نقاب کر رہا ہے: اس کی اخلاقی دو رُخاپن، اس کی انتخابی حساسیت اور اس کے ادارہ جاتی تضادات کو۔
فوری خدائی انصاف کا مطالبہ اس بنیادی حقیقت کو بھی نظرانداز کر دیتا ہے کہ یہ دنیا آخری عدالت نہیں۔ اسلامی اور دیگر توحیدی روایات کے مطابق مکمل اور قطعی عدل کا ظہور آخرت میں ہوگا۔ انصاف کی تاخیر انصاف کی نفی نہیں ہوتی۔ اگر دنیا کو ایک آزمائش گاہ تسلیم کر لیا جائے تو اس میں ناانصافی کا باقی رہنا منطقی طور پر خدائی عدل کے انکار پر منتج نہیں ہوتا۔
ایمان بالغیب دراصل اندھی تقلید نہیں بلکہ انسانی علم کی حدود کا شعوری اعتراف ہے۔ خدا کی رحمت اور عدل پر یقین انسان کی اخلاقی ذمہ داری کو کم نہیں کرتا بلکہ اسے مزید گہرا اور سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ انسان اپنے عمل کا جواب دہ ہے، جبکہ خدا کا مکمل اور ہمہ گیر عدل ایک ایسی حکمت کے مطابق ظہور پذیر ہوگا جو محدود انسانی ذہن کے احاطے سے باہر ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسئلۂ شر خدا کے وجود کے خلاف دلیل نہیں بلکہ اس فکری لغزش کی نشان دہی کرتا ہے جو خدائی الوہیت کو انسانی وجدان کے پیمانوں میں قید کر دیتی ہے۔ شر اس لیے موجود نہیں کہ خدا عادل نہیں، بلکہ اس لیے کہ انسان اپنی آزادی کو درست طور پر استعمال نہیں کرتا، خدائی نظامِ حکمت کی نوعیت کو پوری طرح سمجھنے میں غلطی کرتا ہے، اور اپنی علمی حدود سے باہر قطعی جوابات کا مطالبہ کرتا ہے۔ صحیح تناظر میں دیکھا جائے تو شر خدا کے انکار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی ذمہ داری، فکری عاجزی اور عملی امتحان کا آئینہ ہے۔ حقیقی اور کامل عدل قائم ہے، مگر انسانی پیمانوں پر نہیں بلکہ خدائی معیار اور خدائی وقت پر۔
واللہ أعلم بالصواب۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے