ندوۃ العلماء لکھنو دینی نہیں ایک دنیاوی ادارہ ہے اور اس کے بانیان دیندار اور متقی نہیں تھے !
سوال: محترم ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب! السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته
امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے۔ میں نہایت ادب و احترام کے ساتھ آپ کی خدمت میں یہ سطور پیش کر رہا ہوں۔ سب سے پہلے میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کی تحریروں سے مجھے بے حد فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ میں آپ کے مضامین کا مستقل قاری ہوں، اور علمی و فکری رہنمائی کے اعتبار سے انہیں اپنے لیے سرمایۂ افتخار سمجھتا ہوں۔
عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد کے امام صاحب اکثر و بیشتر مجھ پر طنز کرتے رہتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ندوۃ العلماء لکھنو کے بانیان دیندار اور متقی نہ تھے، بلکہ ندوہ محض ایک دنیوی ادارہ ہے۔ آج کل وہ آپ کی ذات پر بھی سخت تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکرم ندوی کنویں کے مینڈک ہیں، انہیں علمِ مناظرہ سے کوئی واقفیت نہیں، اگر مناظرین نہ ہوتے تو ہندوستان میں باطل کو غلبہ حاصل ہو چکا ہوتا اور حق کا پرچم ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہو جاتا۔ ان کے بقول اگر آج اہلِ مناظرہ یہاں سے کنارہ کش ہو جائیں تو ہندوستان سے حق کا نام و نشان مٹ جائے۔
امام صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ اکرم ندوی میں مناظرہ کرنے کی جرأت نہیں، اسی لیے وہ مناظرے پر تنقید کرتے رہتے ہیں، ہم نے ان کے مضامین پر اتنے ردود لکھے اور آج تک ان کی طرف سے کسی ایک کا بھی جواب سامنے نہیں آیا، جو شخص حق سے ٹکراتا ہے وہ بالآخر ذلیل و خوار ہو کر رہتا ہے۔
اس نوعیت کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں، جنہیں تفصیل سے لکھ کر میں آپ کا قیمتی وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میری آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ اگر ممکن ہو تو آپ اس موضوع پر کوئی ایسا مضمون تحریر فرما دیں جس سے میرے دل کو تسلی ہو جائے اور فکری اضطراب کسی حد تک کم ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، عافیت اور قلم کی مزید قوت عطا فرمائے، اور امت آپ کے علم سے برابر مستفید ہوتی رہے۔ والسلام خاکسار
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے .
جواب:
محترم بھائی! وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
آپ کا مکتوب نہایت توجہ، سنجیدگی اور دل کی آمادگی کے ساتھ پڑھا۔ اس میں آپ کا اضطراب بھی محسوس ہوا، اور وہ فکری الجھن بھی جو اس زمانے میں حق کے متلاشی سنجیدہ اذہان کو لاحق ہو جاتی ہے۔ میں سب سے پہلے یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ نے جو کچھ لکھا ہے، اس پر میرا پہلا اور فطری ردِّ عمل یہی تھا کہ کہیں مجھے غصہ نہ آ جائے؛ اور میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ غصے کی حالت میں انسان جو کچھ کہتا یا لکھتا ہے، وہ اکثر شیطانی وسوسے کے قریب تر ہوتا ہے، نہ کہ ربانی حکمت کے مطابق۔ اسی بنا پر میں نے یہ طے کیا کہ اس معاملے میں فوری ردِّ عمل کے بجائے تحمل، سکون اور فکری فاصلے کے ساتھ بات کی جائے۔
اسی مقصد کے تحت، میں اپنے اور اپنے طرزِ فکر و عمل کے مزاج کو واضح کرنے کے لیے ایک قصہ بیان کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ قصے بعض اوقات طویل دلائل سے زیادہ گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔
یہ قصہ نہ تو دبشلیم الملک کو معلوم تھا، اس لیے کہ یہ علاقہ اس کی سلطنت کی حدود سے بہت باہر واقع تھا، اور نہ ہی بیدبا الفیلسوف کو اس کا علم تھا، کیونکہ وہ بستی اتنی دور افتادہ تھی کہ اس تک نہ وہاں کی خبریں پہنچتی تھیں اور نہ واقعات کی بازگشت۔ مزید برآں، کلیلہ و دمنہ کے جنگلات بھی اس آبادی سے اس قدر فاصلے پر تھے کہ ان کی دانا آنکھیں بھی اس قصے کو نہ دیکھ سکیں اور نہ سن سکیں۔
اس دور افتادہ بستی میں ایک بڑھیا رہتی تھی۔ اس کے پاس ایک مرغ تھا جو ہر صبح وقتِ سحر بانگ دیا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ پوری بستی میں اس بڑھیا اور اس کے مرغ کی شہرت ہو گئی، بڑھیا کا یہ پختہ اور غیر متزلزل یقین بن چکا تھا کہ صبح اس کے مرغ کی بانگ سے طلوع ہوتی ہے، اور اگر مرغ بانگ نہ دے تو گویا صبح کا امکان ہی باقی نہیں رہتا۔
ایک مرتبہ بڑھیا کسی بات پر بستی والوں سے ناراض ہو گئی، ناراضی اس حد تک بڑھی کہ اس نے بستی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنا مرغ اٹھایا، اور رخصت ہوتے ہوئے یہ جملہ کہا: اب میں دیکھتی ہوں کہ تمہاری بستی میں صبح کیسے ہوتی ہے!
یہ قصہ محض قصہ نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی ایک مستقل بیماری کی تمثیل ہے۔
اگر لوگ آپ پر، یا آپ کے ادارے پر، یا ان شخصیات پر جن سے آپ محبت رکھتے ہیں، طعن و تشنیع کریں، الزام تراشی کریں، یا تمسخر و تحقیر کا اسلوب اختیار کریں، تو یاد رکھیے کہ ان سے الجھنا نہ آپ کے لیے ضروری ہے، نہ مفید، اور نہ ہی دعوتِ اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ۔ قرآنِ مجید میں خود رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی ہے: ﴿وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ اور ایک دوسری جگہ فرمایا: ﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ﴾، یعنی جب لوگ مناظرانہ رویہ اختیار کریں، الزام لگائیں، طنز کریں اور اشتعال دلائیں، تو مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ حسنِ اخلاق کے ساتھ معاملہ کرے، اعراض اختیار کرے، اور صبر کو اپنا ہتھیار بنائے۔ صبر ہمیشہ اللہ کے منتخب بندوں کی پہچان رہا ہے۔ جو صبر کرتا ہے، اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے؛ اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے کسی طعن، کسی الزام، کسی مہم یا کسی شور و غوغا سے کیا خوف؟
آپ کی محبوب شخصیات، جن پر طعن کیا جا رہا ہے، اللہ کے حضور جا چکی ہیں۔ وہ ان کے حالات، نیتوں اور خدمات سے پوری طرح واقف ہے۔ لوگوں کی طعن و تشنیع بظاہر نقصان ده معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں وہ ان کے لیے نفع کا ذریعہ بن جاتی ہے، کیونکہ حدیث کے مطابق قیامت کے دن طعن کرنے والوں کی نیکیاں مظلوم کے پلڑے میں ڈال دی جائیں گی۔ اس لیے بہتر اور زیادہ نافع رویہ یہ ہے کہ آپ اپنی درسگاہ کے بانیوں کے دفاع میں الجھنے کے بجائے ان کے لیے مغفرت، رفع درجات اور قبولیت کی دعا کریں۔
اسلام اور حق کو پھیلانے کا راستہ کیا ہے، یہ کوئی انسانی اجتہاد نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے، اور اس راستے میں مناظرہ ہرگز كوئى جزو نہیں۔ اگر آپ اس موضوع کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی تاریخِ دعوت و عزیمت کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں، اور بالخصوص ہندوستان کے تناظر میں مولانا مسعود عالم ندویؒ کی کتاب الدعوة الإسلامية في الهند وتطوراتها کو بار بار پڑھیں۔ یہ دونوں کتابیں واضح کرتی ہیں کہ دعوت کی اصل روح کیا ہے اور اس کا مزاج کن چیزوں سے مجروح ہو جاتا ہے۔
اب اس بات کو ذہن میں بٹھا لیجیے کہ جس طرح وہ بڑھیا یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اس کی بستی میں صبح مرغ کی بانگ سے ہوتی ہے، اور اگر وہ مرغ کو ساتھ لے جائے گی تو وہاں اندھیرا چھا جائے گا، بعینہٖ ہر دور میں ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جن کی مرغیاں ہر چوراہے، ہر منبر اور ہر مجمع میں بانگ دیتی رہتی ہیں، اور وہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اگر وہ منظر سے ہٹ گئے تو نہ سورج طلوع ہو گا، نہ روشنی باقی رہے گی، اور دنیا تاریکی میں ڈوب جائے گی۔
مناظرے سے میری نفرت ندوہ کے زمانے سے ہے۔ میں نے اس دور کا گہرا مطالعہ کیا ہے جب ندوۃ العلماء کے قیام سے پہلے پورا ہندوستان مناظرہ گاہ بنا ہوا تھا۔ ہر فرقہ دوسرے فرقے سے برسرِ پیکار تھا، اور فرقہ پرستی مسلمانوں میں اس حد تک سرایت کر چکی تھی کہ امت کی وحدت پارہ پارہ ہو رہی تھی۔ ندوہ کے بانیوں نے اسی فرقہ وارانہ فضا کو توڑنے اور امت کو اس مہلک روش سے نکالنے کے لیے اس عظیم ادارے کی بنیاد رکھی۔
میں نے اسی وقت یہ نذر مان لی تھی کہ نہ میں مناظرہ کروں گا، نہ اپنے خلاف لکھی گئی کسی تحریر کا جواب دوں گا، نہ ایسی تحریریں پڑھوں گا، اور نہ اپنے خلاف کی گئی تقریریں سنوں گا۔ اور اگر کوئی مجھے چیلنج کرے گا تو میں اس سے یہی کہوں گا: آپ بلا مقابلہ جیت گئے، خوشیاں منائیے، اور مجھے میرا کام کرنے دیجیے۔
اس نذر کی بدولت مجھے جو قلبی سکون حاصل ہوا ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔ اور میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی رویے کی برکت سے مجھے ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس تجربے کے بعد میرا یہ یقین پختہ ہو گیا کہ مناظرہ ایک بے برکت عمل ہے۔
جو لوگ میری ذلت آمیز شکست پر خوش ہیں، انہیں خوش رہنے دیجیے۔ میں آدمؑ کے اس فرزند کی سنت پر چلنے کی کوشش کر رہا ہوں جس نے اپنے بھائی سے کہا تھا: ﴿لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ﴾
اللہ تعالیٰ مجھے بھی نیک بنائے، اور تمام مسلمانوں کو بھی نیک بنائے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !