غزہ کے گلی کوچوں میں اگر کسی نام کی بازگشت سب سے زیادہ سنائی دیتی ہے، تو وہ ہے اسماعیل ہنیہ۔
یہ وہ نام ہے جو صرف بندوق یا سیاست سے نہیں، بلکہ تعلیم، شعور اور مزاحمت کے امتزاج سے ابھرا۔
اکثر مغربی میڈیا انہیں محض “ایک جنگجو” کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ عمیق ہے ۔
یہ شخص عربی ادب کا طالبِ علم، سیاسی بصیرت رکھنے والا رہنما، اور قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے والا قائد ہے۔
دنیاوی تعلیم — ادب و دانش کا چراغ
اسماعیل ہنیہ نے اسلامک یونیورسٹی آف غزہ سے عربی ادب میں بیچلر کیا۔
یہ وہ دور تھا جب غزہ میں تعلیمی ادارے خود ایک محاذ بن چکے تھے —
جہاں طلبہ صرف زبان و ادب نہیں، بلکہ شناخت، آزادی اور مزاحمت کا فلسفہ پڑھتے تھے۔
ہنیہ انہی طلبہ میں سے ایک تھے جو عربی شاعری اور اسلامی ادب کے ذریعے قوم کے دکھوں کا بیان سیکھ رہے تھے۔
انہوں نے کئی ادبی تحریریں لکھی اور طلبہ سیاست میں "اسلامی بلاک” کے سرگرم رکن رہے۔
اسی دوران وہ شیخ احمد یاسین کے قریبی شاگرد بنے — اور یہی قربت بعد میں ان کے نظریے اور کردار کی بنیاد بنی۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
دینی شعور — درس و بصیرت کی دنیا
ہنیہ کی تعلیم عربی ادب تک محدود نہ رہی۔
وہ اسلامی فقہ، تفسیر، اور عربی بلاغت کے گہرے طالبِ علم بن گئے۔
ان کی دینی بصیرت انہیں محض نعرے باز نہیں بناتی بلکہ ایک فکری مزاحمت کار بناتی ہے۔
وہ اکثر اپنے بیانات میں قرآن و حدیث کے حوالے دیتے ہیں اور سیاسی فیصلوں کو “فقہ المصلحہ” یعنی اجتماعی مصلحت کے اصولوں پر پرکھتے ہیں۔
ان کی تقریروں میں جذبات کے ساتھ دینی استدلال بھی نمایاں ہوتا ہے۔ وہ ایمان اور عمل کو الگ نہیں سمجھتے۔
سیاسی تجربہ — غزہ کی راہنمائی سے عالمی قیادت تک
اسماعیل ہنیہ کا سیاسی سفر طلبہ تنظیم سے شروع ہوا اور رفتہ رفتہ حماس کی مرکزی قیادت تک جا پہنچا۔
2006 میں جب فلسطین میں پہلی بار حماس نے الیکشن جیتے تو ہنیہ وزیرِاعظم بنے۔
یہ وہ وقت تھا جب دنیا نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ فلسطین کی قیادت میں ایک استاد، ایک ادیب، اور ایک فکری رہنما کھڑا ہے۔
ان کا انداز نرم مگر مضبوط، گفتگو میں تحمل مگر دلیل، اور موقف میں استقامت تھی۔
انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی مہارت دکھائی — عرب دنیا، ایران، ترکی اور قطر سے تعلقات میں توازن رکھا،
اور فلسطینی عوام کے داخلی انتشار کے باوجود ایک سیاسی وحدت قائم رکھنے کی کوشش کی۔
جنگی تجربہ — نظریاتی سپہ سالار
اگرچہ ہنیہ خود میدانِ جنگ کے کمانڈر نہیں، لیکن وہ فکری محاذ کے سپہ سالار ہیں۔
ان کے فیصلے غزہ کی مزاحمتی کارروائیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں،
اور وہ جنگ کے ایام میں بھی غزہ سے باہر نہیں گئے —
بلکہ اپنی قوم کے درمیان، انہی ملبوں کے درمیان،
انہوں نے کہا تھا:
ہم مرنے کے لیے نہیں، جینے کے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔”
ہنیہ کی یہی استقامت انہیں دیگر رہنماؤں سے ممتاز کرتی ہے ۔
وہ بندوق کے پیچھے نہیں، ایمان، عزم، اور قوم کی عزت کے پیچھے کھڑے ہیں۔
کاروبار اور ذریعۂ معاش۔
ہنیہ کا کوئی ذاتی کاروبار یا سرمایہ دارانہ پس منظر نہیں۔
ان کا ذریعۂ معاش تنظیمی و سیاسی خدمات پر مبنی ہے۔
انہوں نے اپنی جوانی کے بیشتر سال سید احمد یاسین کے ادارے میں تدریس اور تنظیمی ذمہ داریوں میں گزارے۔
غربت اور پابندیوں کے باوجود وہ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔
انہیں ذاتی عیش و آرام سے زیادہ “امت کی حالت” فکر میں رکھتی ہے۔
✍️ فقیر کا نکتۂ نظر
ہنیہ کی شخصیت یہ ثابت کرتی ہے کہ مزاحمت صرف بندوق سے نہیں ہوتی ۔
قلم، تعلیم اور ایمان سے بھی ہوتی ہے۔
انہوں نے دنیا کو دکھایا کہ فلسطین کے رہنما "ان پڑھ جذباتی جنگجو” نہیں،
بلکہ دانشور، مفکر اور اہلِ بصیرت انسان ہیں جنہیں حالات نے تلوار اٹھانے پر مجبور کیا۔
یہ وہ نسل ہے جس نے کتاب اور بندوق دونوں کے وزن کو پہچانا
اور کبھی ایک کو دوسرے پر قربان نہیں کیا۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !