آکسفورڈ کی سردی: ایک مزاج سے دوسرے مزاج تک کا سفر
میں جنوری 1991ء میں ہندوستان سے آکسفورڈ، انگلستان پہنچا، اس وقت مجھے پورا یقین تھا کہ میں ایک ملک سے دوسرے ملک جا رہا ہوں؛ بعد میں معلوم ہوا کہ میں دراصل ایک مزاج سے دوسرے مزاج میں داخل ہو گیا ہوں، تعلیمی کاغذات میرے ہاتھ میں تھے، مگر موسم نے انہیں دیکھنے کی زحمت ہی نہ کی، اس نے مجھے انسان سمجھنے کے بجائے ایک تجربہ سمجھا، اور تجربات کے ساتھ عموماً نرمی نہیں برتی جاتی۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
میں نے باہر قدم رکھا تو سردی نے یوں میرا استقبال کیا جیسے کوئی سخت گیر استاد بغیر اطلاع کلاس میں آ جائے، ہر طالب علم کی حرکت پر نظر رکھے، اور پہلی ہی گھڑی میں نئے قواعد و ضوابط لاگو کر دے، ایسے قواعد کہ آدمی سوچتا رہ جائے کہ آخر کس حرکت پر سزا ملے گی اور کس پر صرف تنبیہ۔ ایسے لمحے میں انسان خود کو بالکل بے بس محسوس کرتا ہے، اور یہ احساس دل پر بیٹھ جاتا ہے کہ یہاں ہر سانس پر حساب لیا جائے گا، اور غلطی کا کوئی موقع نہیں، مجھے فوراً یاد آ گیا کہ یہ کیفیت مجھے ندوہ میں داخلے کے پہلے دن بھی محسوس ہوئی تھی، جب میں سلیمانیہ ہاسٹل میں آیا تھا اور مولانا عبدالعزیز بهٹكلى صاحب نے ہمیں دیکھتے ہی نئے ضوابط کے ساتھ پہلی پیشی دے دی تھی،۔ قواعد اتنے سخت، اتنے تفصیلی، اور اتنے حیران کن تھے کہ آدمی سوچتا رہا کہ آخر یہ اصول ہمیں ہدایت کے لیے دیے گئے ہیں یا محض خوفزدہ کرنے کے لیے۔ اور میں؟ میں وہاں ایک نیا طالب علم، جو ابھی جان ہی نہیں پایا تھا کہ کہاں بیٹھنا محفوظ ہے اور کہاں صرف قوانین کی کتاب کھلتی ہے۔
سچ پوچھیے تو، یہ سارا تجربہ سردی کے ساتھ ملا کر ایک عجیب سا طنز پیدا کر رہا تھا، ایک طرف جسم کانپ رہا تھا، اور دوسری طرف ذہن مسلسل سوال کر رہا تھا کہ آخر یہ قوانین اور یہ سردی مجھے کس سبق کے لیے آزما رہے ہیں۔
یہ سردی مہمان نہیں تھی، نہ عارضی سی مداخلت تھی، بلکہ مستقل مکین تھی، ایسی مکین جو اپنے اصولوں میں لچک نہیں رکھتی، اور اپنی موجودگی کا اعلان ہر سانس کے ساتھ کر دیتی ہے، ہر قدم پر یہ سردی میرے ارد گرد گھوم رہی تھی، ہر سانس کے ساتھ اندر گھس رہی تھی، اور مجھے بتا رہی تھی کہ اب یہاں کے قوانین کے مطابق ہی جینا ہے، چاہے آدمی کتنا ہی ہنستا یا بولتا ہو۔
یہ سردی چیختی نہیں تھی، شور نہیں مچاتی تھی، کسی قسم کا اعلان نہیں کرتی تھی۔ یہ خاموشی سے انسان کے اندر داخل ہو جاتی تھی، اور اندر جا کر بیٹھ جاتی تھی، جیسے کوئی خاموش سامع جو بات کم کرتا ہے مگر نتیجہ زیادہ نکالتا ہے۔ اس کے بعد آدمی خود بھی کم بولنے لگتا ہے۔ اور اگر بولے بھی تو الفاظ کو کوٹ کی جیب میں رکھ کر نکالتا ہے، کہیں گر نہ جائیں یا جم نہ جائیں۔
میں نے پہلے ہی دن سمجھ لیا کہ انگلستان میں سردی کا مقابلہ جسم سے کم اور مزاج سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ بدن کو تو کپڑوں سے سنبھالا جا سکتا ہے، مگر مزاج کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، اور میرا مزاج ابھی کسٹم کلیئرنس پر ہی تھا، کاغذات دکھا رہا تھا، وضاحتیں دے رہا تھا، اور بار بار کہہ رہا تھا کہ میں عارضی ہوں۔
انگلستان میں جنوری کے دن اتنے مختصر ہوتے ہیں کہ دن ہونا ایک اخلاقی دعویٰ بن جاتا ہے، جسے سورج خود بھی پوری سنجیدگی سے ثابت نہیں کر پاتا، جیسے ہندوستان کے مناظرين اور علم الكلام كے ماہرين خدا کا وجود نہیں ثابت کر سکتے، سورج اگر نمودار بھی ہو جائے تو یوں لگتا ہے جیسے کسی طویل اور بے مقصد اجلاس میں محض حاضری لگانے آیا ہو، اور پہلا سوال یہی ہو کہ واپسی کی اجازت کب ملے گی۔ یہاں صبح اور شام میں فرق سورج نہیں، گھڑی بتاتی ہے، اور گھڑی بھی کچھ افسردہ سی معلوم ہوتی ہے، جیسے وہ خود بھی اس ذمہ داری سے خوش نہ ہو، اور بس خاموشی سے انتظار کر رہی ہو کہ کب دن ختم ہو جائے اور رات کی مہذب چھتری نیچے آ جائے۔
دن کی روشنی یہاں کسی جوش یا خوشی سے نہیں آتی؛ وہ آتی ہے جیسے کوئی مہذب مہمان، سلام کرے، اور فوراً واپس جانے کی تیاری کرے۔ اور رات؟ رات آتی ہے جیسے اجلاس کے بعد ایک ماتحت کرسی پر بیٹھا ہو، جو جانتا ہے کہ اس کی موجودگی ضروری ہے، مگر کسی کی نظر میں نہ آئے اور نہ کوئی اس کا شکریہ ادا کرے۔
میں ایک ایسے گاؤں سے آیا تھا جہاں سردی اجتماعی سرگرمی ہوتی تھی۔ جاڑا آتا تھا تو لوگ خود بخود آگ کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ وہ آگ صرف لکڑیاں نہیں جلاتی تھی، موضوعات بھی جلاتی تھی۔ باتوں کا کوئی موضوع ممنوع نہ تھا: دنیا کے حالات، گاؤں کے مسائل، پچھلے سال کی سردی، اور یہ سوال کہ آخر اس سال سردی زیادہ کیوں ہے، گویا سردی بھی کوئی ذاتی منصوبہ رکھتی ہو۔
اس آگ کے سامنے بیٹھنا کسی لذیذ کھانے سے کم نہ تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہاں پلیٹ نہیں بدلتی تھی، گفتگو بدلتی تھی؛ اور کبھی کبھی گفتگو کے ساتھ آدمی بھی بدل جاتا تھا۔ سردی وہاں جسم کو لگتی تھی، دل کو نہیں۔
آکسفورڈ میں سردی کا تصور مختلف نکلا۔ یہاں سردی اجتماعی نہیں تھی، نجی تھی، اور نجی بھی اس حد تک کہ اس کا اعتراف کرنا بد تہذیبی سمجھا جاتا تھا۔ ہر شخص اپنی سردی خود اٹھاتا تھا، جیسے یہ اس کا ذاتی امتحان ہو۔ لوگ کوٹوں میں لپٹے رہتے تھے، مگر شکایت کو تہہ کر کے رکھ لیتے تھے، جیسے یہ بھی کوئی سرکاری فائل ہو۔
کوئی یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ سردی لگ رہی ہے۔ بس اتنا فرمایا جاتا تھا کہ موسم "ذرا سا ٹھنڈا” ہے۔ یہ "ذرا سا” انگلستان میں ایک نہایت طاقتور لفظ ہے۔ یہ پورے جسم کی کپکپی کو شائستگی میں بدل دیتا ہے، اور انسان کو اجازت دیتا ہے کہ وہ تکلیف میں بھی مہذب رہے۔
پھر برف پڑنی شروع ہوئی، اور یہ برف کسی شاعر کے تخیل کی پیداوار نہ تھی، بلکہ ایک مستقل مزاج حقیقت تھی۔ دو ہفتے تک مسلسل برف گرتی رہی۔ پورا آکسفورڈ سفید ہو گیا، چھتیں، سڑکیں، درخت، حتیٰ کہ خاموشی بھی۔ شروع میں یہ منظر ایسا لگا جیسے شہر نے تہذیب کے ساتھ سفید چادر اوڑھ لی ہو۔ چند دن بعد معلوم ہوا کہ اس چادر میں چلنا پھرنا، اور خاص طور پر جینا، خاصا مشکل کام ہے۔
زندگی تقریباً رک گئی، مگر کسی نے مانا نہیں کہ وہ رکی ہوئی ہے۔ یہاں رُک جانے کو رُک جانا نہیں کہتے؛ یہاں اسے "انتظامی تاخیر” کہا جاتا ہے، اور یوں مسئلہ حل ہو جاتا ہے، کم از کم زبان کی حد تک۔
انہی دنوں میں نے انگریزی سیکھنے کا آغاز کیا۔ میرے استاد ایک خالص انگریز تھے۔ لباس میں ترتیب، بات میں ناپ تول، اور جذبات میں ایسی کفایت شعاری کہ بعض اوقات شبہ ہوتا تھا کہ شاید جذبات بھی کرایے پر لیے گئے ہوں۔ ایک دن انہوں نے نہایت شائستگی سے فرمایا کہ میں انگریزی میں ایک مضمون لکھوں۔ موضوع تھا: "سردیوں میں انگلستان”، میں نے سوچا کہ جب دیانت داری مطلوب ہے تو اسے عنوان سے ہی شروع کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں نے پورے خلوص کے ساتھ عنوان لکھ دیا: "ایسے ملک سے، جہاں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تها ایسے ملک تک، جہاں اب سورج کبھی طلوع نہیں ہوتا”، استاد نے عنوان پڑھا، خاموش رہے، چہرے پر وہی مخصوص انگریزی مسکراہٹ آئی، جو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان ناراض ہو، مگر تہذیب اسے اظہار کی اجازت نہ دے۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا، بس عینک درست کی، جیسے اصل مسئلہ عنوان میں نہیں بلکہ دیکھنے کے زاویے میں ہو۔
میں فوراً سمجھ گیا کہ استاد ناراض ہیں، مگر اس انداز سے ناراض ہیں کہ اگر خود نہ سمجھو تو کوئی بتانے والا بھی نہ ملے۔ یہی انگریزی غصہ ہوتا ہے: موجود، مگر ناقابلِ گرفت؛ محسوس، مگر ناقابلِ حوالہ۔
اسی لمحے مجھے پوری طرح احساس ہوا کہ انگلستان میں موسم اور جذبات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، مدھم، دھندلے، اور حد درجہ مہذب۔ یہاں نہ سردی کا کھلا اعتراف کیا جاتا ہے، نہ غصے کا۔ سب کچھ برداشت کے دائرے میں رکھا جاتا ہے، چاہے اندر سب کچھ آہستہ آہستہ جم رہا ہو۔
مجھے اپنے گاؤں کی سردیاں یاد آئیں۔ وہاں سورج نکلتا تھا، لوگ نکلتے تھے، باتیں نکلتی تھیں، اور اگر کچھ دل میں رہ بھی جائے تو آگ کے سامنے بیٹھ کر نکل آتا تھا۔ یہاں سورج بھی اجازت لے کر نکلتا تھا، اور باتیں بھی سوچ سمجھ کر۔ انگلستان آ کر سورج نے بھی شائستگی سیکھ لی تھی: کم نکلنا، کم ٹھہرنا، اور زیادہ اثر چھوڑ جانا۔
یوں جنوری 1991ء کی وہ آمد میرے لیے محض ایک ملک میں داخلہ نہ تھی، بلکہ ایک مزاج میں داخلہ تھی۔ ایک طرف گاؤں کی وہ سردی تھی، جو جسم تک محدود رہتی تھی، مگر دلوں میں آگ روشن کر جاتی تھی؛ اور دوسری طرف انگلستان کی وہ سردی تھی، جو آہستہ آہستہ جسم کے ساتھ ساتھ احساسات تک رسائی حاصل کر لیتی تھی، اور آدمی کو یہ سمجھا دیتی تھی کہ یہاں سردی صرف لمس کی نہیں، تہذیب کی بھی ہے۔
وہاں آگ کے گرد بیٹھ کر باتیں ہمیں انسان بناتی تھیں: باتوں میں چمک، دلوں میں حرارت، اور ہنسی میں اپنی ہی دنیا کی خوشبو۔ ہر جملہ، ہر مسکراہٹ، ایک چھوٹی روشنی کی مانند، جو سردی کے اندھیروں کو مٹا دیتی تھی۔ اور یہاں؟ یہاں ہیٹر کے پاس بیٹھ کر خاموشی ہمیں مہذب ثابت کرتی تھی، خاموشی میں بھی آداب، خاموشی میں بھی اصول، اور خاموشی میں بھی وہ دھیمی شرمندگی جو انسان کو یاد دلاتی تھی کہ یہاں حرارت صرف جسم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ احساسات پر بھی ضابطہ لازم ہے۔
یوں میں نے سیکھا کہ کچھ جگہیں ہمیں باتوں سے انسان بناتی ہیں، اور کچھ جگہیں خاموشی سے۔ کچھ ملکوں میں سورج نکلتا ہے، اور دل گرم رہتے ہیں، اور کچھ ملکوں میں سورج موجود ہونے کے باوجود احساسات برف کی طرح جم جاتے ہیں، سردی کی یہ دو صورتیں نہ صرف موسم کی تھیں، بلکہ انسان کے مزاج، تہذیب اور خاموشی کے اصول کی بھی عکاس تھیں۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !