تعلیم میں توجہ کی اہمیت

محمد اکرم ندوی

جو شئی انسان کے لئے قابلِ فہم بن گئی، وہی درحقیقت اُس کے علم میں داخل ہوئی، اور جو چیز اُس کے فہم و ادراک سے ماورا رہی، وہ اُس کے لئے ناآشنا اور مجہول رہی، فہم کی مختلف سطحیں ہیں، اور ان سطحوں کے اختلاف کے ساتھ ہی علم کے مدارج بھی مختلف ہوتے جاتے ہیں۔

اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بات ایک ناگزیر نتیجے کے طور پر سامنے آتی ہے کہ جب جاننے کو سمجھنے کے مترادف قرار دیا جائے، تو لازم ہے کہ علم کا گہرا اور نا گزیر تعلق عقل و خرد سے تسلیم کیا جائے، تعلیم کے تمام مراتب میں عقل، فکر، تدبر اور استدلال کو مرکزی اہمیت حاصل رہتی ہے، اور اگر کسی تعلیم میں ان عوامل کو نظرانداز کیا جائے تو وہ محض الفاظ کا ایک بےروح انبار رہ جاتا ہے، جس میں فہم و ادراک کا کوئی جوہر باقی نہیں رہتا۔
اس سیاق میں یہ سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ فہم، جو علم کا حقیقی مظہر اور علم کے حقیقی حصول کی بنیاد ہے، وہ کس طریقے سے حاصل ہوتی ہے؟ کیا محض الفاظ کو زبانی یاد کر لینا کسی شے کو سمجھنے کے مترادف ہے؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے، یادداشت بلاشبہ ایک معین حد تک مددگار ہو سکتی ہے، لیکن یہ عمل بذاتِ خود فہم و ادراک کی ضمانت نہیں دیتا، محض الفاظ کو یاد کر لینا اور ان کی تکرار کرنا علم کی روح تک رسائی کا ذریعہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ فہم کا سرچشمہ ذہنی انہماک، تدبر اور شعوری التفات میں پوشیدہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے عمل میں محض رٹنے یا یاد کرنے کو بنیادی مقام دینے کے بجائے، اس عمل کو ایک ضمنی اعانت کے طور پر اختیار کرنا چاہیے، تاکہ اصل توجہ طلبہ کی ذہنی تربیت، فکری صلاحیتوں کی آبیاری اور فہم کی گہرائی پر مرکوز رہے۔


علم کے حصول میں جو امر سب سے زیادہ اہم اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے، وہ "توجہ” ہے۔ یہ لفظ سطحی مفہوم سے بہت بلند ایک ایسا شعوری اور فکری عمل ہے جس میں طالب علم اپنی تمام ذہنی قوتوں کو مجتمع کرکے، اپنے باطن کی ساری توانائیوں کو ایک خاص نکتے پر مرکوز کرتا ہے، اسی عمل کو اہلِ لغت اور اصحابِ معرفت "ہمّت” کا نام دیتے ہیں، جو ارادے، یکسوئی، اخلاص اور محنت کا مجموعہ ہے، جب کوئی طالب علم کسی علمی مسئلے، فکری اصول، یا نظریہ کی تفہیم کے لئے اپنی توجہ کو یکسو کرتا ہے، تب جا کر اُس کے لئے وہ علمی حقیقت آہستہ آہستہ منکشف ہونے لگتی ہے، یہ وہی نکتہ ہے جسے جلیل القدر محدث، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی واضح کیا کہ علم میں رسوخ اور مہارت کی راہ صرف توجہ کے ذریعے ہی ہموار ہوتی ہے، علم ایک ایسا جوہر ہے جو محض سنے جانے یا دیکھے جانے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لئے شعوری التفات، عقلی جستجو اور مسلسل محنت ناگزیر شرائط ہیں۔
عصری تعلیمی نظاموں میں توجہ پیدا کرنے کے لئے متعدد ذرائع اور طریقے اختیار کیے گئے ہیں، ان میں بلیک بورڈ پر تحریر، چارٹس کی مدد، تصاویر اور خاکے، تعلیمی فلمیں، بصری و سمعی آلات، درسی کتب میں رنگین تصاویر اور نقشے شامل ہیں، اور آج کے دور میں کمپیوٹر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال نے ان ذرائع میں مزید تنوع اور وسعت پیدا کر دی ہے، بلاشبہ یہ تمام ذرائع کسی حد تک طلبہ کو علمی مواد کی طرف مائل کرتے ہیں، اور ان کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہیں، لیکن ان کا دائرہ عمل محدود ہے، ان وسائل کا کام محض توجہ کو اپنی طرف کھینچنا ہے، نہ کہ اصل معنوں میں شعوری توجہ کو بیدار کرنا، یہ چیزیں طلبہ کی توجہ کو وقتی طور پر ضرور مرکوز کرتی ہیں، لیکن ان کے باطنی فہم، فکری ارتکاز، اور علمی گہرائی میں اضافہ کرنے سے قاصر رہتی ہیں، نتیجتاً طلبہ حقیقی فہم سے محروم رہتے ہیں، اور تعلیم کا مقدس عمل ایک تفریحی مشغلے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو کہ ایک سطحی ذہنی اطمینان تو فراہم کرتا ہے، لیکن علمی رسوخ اور فکری تربیت سے محروم ہوتا ہے۔


توجہ درحقیقت ایک ایسا ذہنی عمل ہے جو پوری شعوری آمادگی، ارادے، اور جہدِ مسلسل کا متقاضی ہوتا ہے، یہ کوئی ایسی کیفیت نہیں جو خارجی ذرائع سے پیدا کی جا سکے؛ بلکہ یہ ایک داخلی اور باطنی التزام ہے، جو طالب علم کے نفس، اُس کی عقل، اُس کے ارادے اور اُس کی قلبی وابستگی کا مرکب ہوتا ہے، جب انسان پورے شعور اور سنجیدگی کے ساتھ کسی حقیقت پر غور کرتا ہے، تو اُس کا ذہن اس حقیقت کی باریکیوں اور گہرائیوں تک رسائی حاصل کرتا ہے، یہی توجہ ہے جو تدبر کو جنم دیتی ہے، تفکر کو مضبوط کرتی ہے، اور عقل و فہم کو جِلا بخشتی ہے، اسی کے ذریعے طالب علم کی شخصیت میں فکری ٹھہراؤ، نظریاتی پختگی، اور علمی بصیرت پیدا ہوتی ہے۔
یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ تعلیم میں توجہ محض ایک طریقہ کار نہیں، بلکہ وہ اساسی ستون ہے جس پر پورے علمی و تربیتی نظام کی عمارت قائم ہے، تعلیم کا مقصد صرف معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ فہم کی تشکیل اور شخصیت کی تعمیر ہے، اور یہ مقصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک توجہ، سنجیدگی، اور محنت کو مرکزی حیثیت نہ دی جائے۔
لہٰذا لازم ہے کہ جديد تعلیمی نظام اس بنیادی اصول کو اپنی اساس بنائے اور طلبہ کی اندرونی توجہ کو بیدار کرنے، اُن کی فکری قوتوں کو جِلا بخشنے، اور اُن کی عقلی استعداد کو ترقی دینے کے لئے ایسے ذرائع اور طریقے اختیار کرے جو انہیں محض دیکھنے اور سننے والے افراد نہ بنائیں، بلکہ سوچنے، سمجھنے، اور حقیقت کی تہہ تک رسائی حاصل کرنے والے باشعور انسان بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے