فطرت، عقل اور دین کی ہم آہنگی: انسان کی ہدایت کے تین خدائی مینار

محمد اکرم ندوی

فطرت، عقل اور دین، یہ تینوں انسان کی ہدایت کے وہ خدائی مینار ہیں جن کے درمیان نہ کوئی تصادم ہے، نہ اضطراب، نہ تناقض۔ یہ ایک ہی نور کی تین شعاعیں ہیں، ایک ہی حقیقت کی تین تجلیاں، اور ایک ہی الٰہی ہدایت کے مختلف پہلو، جو شخص ان میں اختلاف تلاش کرتا ہے وہ حقیقت میں اپنی ہی کم فہمی کو بے نقاب کرتا ہے، ورنہ خدا کی اسکیم میں کوئی شے بے ربط نہیں، تاریخِ انسانیت گواہ ہے کہ عقل کو ہمیشہ عزت و توقیر حاصل رہی ہے۔ دنیا کی کسی زبان میں عقل مذموم نہیں ٹھہری؛ ہر تہذیب میں وہ انسان کی امتیازی شان سمجھی گئی۔ حیرت ہے کہ ہمارے برصغیر کے بعض حلقوں میں کبھی ایسا ماحول پیدا ہوا کہ عقل کو گویا دین کی ضد سمجھ لیا گیا، جیسے دونوں دو متحارب طاقتیں ہوں۔ حالانکہ قرآن کی پہلی پکار ہی عقل بیدار کرنے کی پکار ہے۔ قرآن کا اسلوب بتاتا ہے کہ خدا نے انسان کو پہلے سوچنے کی دولت دی، پھر وحی کی روشنی سے اس سوچ کو راہ دکھائی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قرآن کا سب سے پہلا مخاطب عقل ہے، اور سنتِ نبوی کا سب سے پہلا میدان انسان کا شعورِ باطن۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
عقل اور ہویٰ میں وہی فرق ہے جو روشنی اور دھویں میں ہے۔ عقل چیزوں کو واضح کرتی ہے، ہویٰ انہیں دھندلا دیتی ہے۔ عقل بلند کرتی ہے، ہویٰ گراتی ہے۔ عقل راستہ دکھاتی ہے، ہویٰ راستہ بھٹکاتی ہے۔ قرآن نے بار بار "أفلا تعقلون” کہہ کر عقل کی عظمت کو نمایاں کیا، اور بارہا نفسِ امّارہ کی پیروی کو انسان کی تباہی کا سرچشمہ قرار دیا۔ اگر انسان عقل اور ہویٰ کے فرق کو نہ سمجھے تو یہ اس کے شعور کی پسماندگی کی دلیل ہے، نہ کہ کسی دینی مسئلے کی پیچیدگی کی۔
انسانی فطرت وہ الٰہی نقش ہے جو ہر انسان کے باطن میں ابتدائے آفرینش سے ودیعت کیا گیا ہے۔ وہ انسان کے اندر خیر کی آواز بھی ہے اور حق کی طرف مائل کرنے والی پہلی شہادت بھی۔ اگر دنیا کی تہذیبوں کی گرد انسان کے باطن تک پہنچ بھی جائے، فطرت کی لو بجھتی نہیں؛ وہ کبھی کبھی دھیمی ضرور پڑتی ہے مگر ماند نہیں ہوتی۔ عقل وہ میزان ہے جو زندگی کے پیچیدہ تر مسائل میں توازن اور اعتدال قائم کرتی ہے، اور وحی اس روشنی کو کامل بناتی ہے، جیسے سورج صبح کی روشنی کو دوپہر کی تابانی میں بدل دیتا ہے۔ دین عقل اور فطرت دونوں کی تکمیل ہے، نہ ان کی نفی۔ دین عقل کا دشمن نہیں، اس کا محافظ ہے؛ عقل دین کی منکر نہیں، اس کی گواہ ہے؛ اور فطرت دین کی مخالف نہیں، اس کا اولین ثبوت ہے۔
گمراہی وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں خواہشِ نفس ان تینوں چراغوں میں سے کسی کی روشنی کو اپنی دھند سے آلودہ کرنا شروع کر دیتی ہے۔ تاریخ کا ہر بگاڑ اسی دروازے سے آیا۔ جب خواہش معیارِ حق بن گئی، تو عقل خواہش کا وکیل ہو گئی؛ فطرت رسومات کے بوجھ تلے دب گئی؛ اور دین اپنی اصلی صورت سے ہٹ کر ثقافتی لبادوں میں بدل دیا گیا۔ خواہش نے جہاں دسترس پائی، وہاں انسان نے حق کو حق کی حیثیت میں نہیں دیکھا بلکہ اپنے میلانات کے نور سے دیکھا، اور یہی اصل فتنہ تھا۔
اہلِ حکمت اور اہلِ دین نے ہمیشہ اسی لیے کہا کہ عقل کو خواہش کے تابع نہ ہونے دو، بلکہ خواہش کو عقل کے ضبط میں رکھو۔ فطرت کو رسوم و رواج کی مٹی سے آزاد رکھو۔ دین کو شخصی جھکاؤ اور مقامی تعصبات سے پاک رکھو۔ جب تک یہ تینوں اپنی اصل حالت میں سلامت رہیں، انسان منزلِ ہدایت سے دور نہیں ہو سکتا۔
دین، عقل اور فطرت کا باہمی رشتہ ایسا ہے جیسے درخت کی جڑ، تنہ اور سایہ: فطرت جڑ ہے جو غذا دیتی ہے؛ عقل تنہ ہے جو توازن رکھتا ہے؛ اور دین وہ سایہ ہے جو سایۂ رحمت بھی ہے اور ثمر آوری کی علامت بھی۔ جب جڑ سالم ہو، تنہ مضبوط ہو، اور سایہ ثابت؛ تو درخت سرسبز بھی ہوتا ہے اور ثمر بار بھی۔ یہی انسانی زندگی کا درخت ہے، اور اسی کے سہارے انسان اپنی زمین اور آسمان دونوں کو پہچان سکتا ہے۔
اصل خرابی نہ دین میں ہے، نہ عقل میں، نہ فطرت میں، خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خواہش ان میں سے کسی پر غالب آ جائے۔ اگر خواہش عقل کی لگام تھام لے، اگر رسم و رواج فطرت کی جگہ لے لیں، اگر میلانات دین کا چہرہ اوجھل کرنے لگیں، تو پھر ہدایت کی شاہراہ کو گھاٹیوں کا سفر بننے میں دیر نہیں لگتی۔
اصلاح اسی میں ہے کہ انسان خواہش کو ضبط میں رکھے، عقل کو آزاد رکھے، فطرت کو تازہ رکھے اور دین کی روح کو پہچانے، یہی انسان کی نجات کی بنیاد ہے، یہی معاشرت کی تعمیر کا راز، اور یہی تہذیبِ انسانی کی بقا کی ضمانت۔
امام ابن تیمیہؒ کی کتاب درء تعارض العقل والنقل اسی حقیقت کی مضبوط ترین علمی شہادت ہے، اور مولانا حمیدالدین فراہیؒ کی حجج القرآن اسی فکر کا قرآنی استدلال۔ یہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ صحیح عقل اور صحیح نقل کبھی ایک دوسرے کا دامن نہیں چھوڑتیں؛ اختلاف وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یا عقل صحیح نہیں رہتی، یا نقل کی فہم میں کوئی خلل آجاتا ہے۔
خدا ہمیں وہ عقل دے جو ہویٰ کی غلام نہ ہو، وہ فطرت دے جو رسومات کی دھول سے پاک رہے، اور وہ دین دے جو اپنی اصل الٰہی شان میں ہمارے سامنے روشن ہو۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے