اُستاد اور شاگرد کے اٹوٹ رشتے کا بے مثال واقع جو آج بھی قابل تقلید ہے
شادی کی ایک تقریب میں ایک صاحب اپنے جاننے والے آدمی کے پاس جاتے ہیں اور پوچھتے ھیں۔۔ کیا آپ نے مجھے پہچانا؟”
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
انہوں نے غور سے دیکھا اور کہا "ہاں آپ میرے پرائمری اسکول کے شاگرد ہو۔ کیا کر رھے ہو آج کل؟”
شاگرد نے جواب دیا کہ "میں بھی آپ کی طرح سکول ٹیچر ہوں۔اور ٹیچر بننے کی یہ خواہش مجھ میں آپ ھی کی وجہ سے پیدا ھوئی۔” ،،،،،،،،
استاد نے پوچھا "وہ کیسے؟””””””””””””
شاگرد نے جواب دیا، "آپ کو یاد ھے کہ ایک بار کلاس کے ایک لڑکے کی بہت خوبصورت گھڑی چوری ھو گئی تھی اور وہ گھڑی میں نے چرائی تھی۔ آپ نے پوری کلاس کو کہا تھا کہ جس نے بھی گھڑی چرائی ھے واپس کر دے۔ میں گھڑی واپس کرنا چاھتا تھا ، لیکن شرمندگی سے بچنے کے لئے یہ جرأت اور ہمت نہ کر سکا۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،
آپ نے پوری کلاس کو دیوار کی طرف منہ کر کے ، آنکھیں بند کر کے کھڑے ھونے کا حکم دیا اور سب کی جیبوں کی تلاشی لی اور میری جیب سے گھڑی نکال کر بھی میرا نام لئے بغیر وہ گھڑی اس کے مالک کو دے دی اور مجھے کبھی اس عمل پر شرمندہ نہ کیا۔ میں نے اسی دن سے استاد بننے کا تہیئہ کر لیا تھا۔””””””””””””””””””””””
استاد نے کہا کہ "کہانی کچھ یوں ھے کہ تلاشی کے دوران میں نے بھی اپنی آنکھیں بند کر کے تلاشی لی تھی اور مجھے بھی آج ھی پتہ چلا ھے کہ وہ گھڑی آپ نے چرائی تھی۔”””””””
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو کوئی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔۔
مطلب یہ کہ ایک مسلمان کو اپنی بھائی پر لگائے گئے الزامات کو دور کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے ، تاکہ کسی مسلمان کی آبرو ریزی نہ ہو سکے۔۔ یہ عمل یعنی عیب پوشی اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ وہ اس کے صلہ میں اسے آتش جہنم، سے بچائے گا۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت اس حدیث کو بیان فرمایا، اس وقت قرآن مجید کی یہ آیت ،۔و کان حقا علینا نصر المومنین۔۔ تلاوت فرمائی۔۔ اہل ایمان کی نصرت اور مدد ہم پر واجب ہے ، یہ ہم پر ایک حق ہے۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ خدا تو مومنین کا حامی اور ناصر ہو اور ہم اہل ایمان کی ابرو ریزی اور ان کی پردہ دری کے درپے ہوں۔ آج ہم اس بیش قیمت تعلیم کو فراموش کئے ہوئے ہیں۔۔
اسلام میں رازداری اور عیب پوشی کی بڑی اہمیت ہے، اسلام کسی کی پردہ دری کو ہرگز روا نہیں رکھتا۔ اس کا حکم پردہ دری کا نہیں۔ بلکہ عیب پوشی کا ہے۔ اسلام اس کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ لوگوں سے ان کی عزت و آبرو چھین لی جائے۔ اس کے برعکس اسلام کی تعلیمات میں یہ ہے کہ بے آبرو اور ذلیل قسم کے آدمی کو بھی عزت دی جائے اور آبرو بخشی جائے، اسلام یوں تو کسی کی بھی رسوائی کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن اہل ایمان کے معاملہ میں تو وہ مسلمانوں کو حددرجہ متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بھائی مسلمانوں کی عیب پوشی کریں اور انہیں حتیٰ الامکان بے آبرو ہونے سے بچائیں۔ ایک مسلمان کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی آبرو اور اس کی عزت کے محافظ بنیں خواہ وہ اس کا قریبی ہو یا اس کا دور کا ساتھی اور متعلق یا غیر متعلق ، بہر صورت انہیں اپنے بھائی کی خیر خواہی سے تغافل نہیں کرنا چاہیے۔
*کیا ھم ایسے معلم اور استاد اور داعی و مبلغ بن سکتے ھیں ، کیا ہم اس کے لیے کوشش کرتے ہیں جو اپنے اعمال سے سامنے والے کو کامیاب استاد، معلم، مربی اور داعی بننے کی ترغیب دے سکیں ، کے سامنے والا کبھی شرمندہ نہ اور اس کی کمی پر کسی کی نظر نہ پڑھ سکے اور حکمت کے ساتھ اس کی اصلاح بھی ہو جائے۔۔۔ شاید اس کا جواب نفی ہی میں ملے۔۔۔۔
اسلام میں پردہ پوشی اور راز داری کی کتنی اہمت ہے اور اسلام اس پر کتنا زور دیتا ہے، اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا،، میرے صحابہ میں سے کوئی شخص کسی کی کوئی برائی مجھ سے بیان نہ کرے۔ اس لیے کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آؤں تو میرا سینہ صاف ہو۔۔ ابو داؤد شریف۔۔
یعنی اگر کسی کو کسی شخص کی کوئی برائی کمی، نقص اور عیب معلوم ہو تو وہ اس کا ذکر نہ کرے اسے راز میں رہنے دے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کی طرف سے میرا دل صاف ہو، کسی کے لیے کوئی کدورت اور ناراضی میرے دل میں پیدا نہ ہو، لوگوں کے بارے میں میرا گمان اور خیال اچھا ہی رہے ۔ اس لیے اگر کسی پر کسی شخص کی کوئی برائی یا عیب ظاہر ہوجائے تو اے اپنی ہی حد تک رکھے۔ اس راز کو بیان نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ پسند تھا کہ آپ کا دل اپنے ساتھیوں کی جانب سے صاف رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور نسبت رکھنے والے مسلمانوں کا بھی یہی ذوق ہونا چاہیے۔ انہیں بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ ان کا دل اپنے بھائیوں کی طرف سے صاف رہے۔ کوئی نفرت اور کدورت اس کے اندر نہ رہے۔ یہ جب ہی ممکن ہو سکے گا کہ ہم نہ تو لوگوں کے عیوب اور نقائص کی تلاش میں رہیں اور نہ ان کے عیبوں کو ادھر ادھر بانٹتے پھریں۔ عیوب اور کمزوریوں کے بجائے ہمیں دلچسپی لوگوں کی خوبیوں اور اچھے اوصاف سے ہو۔ (کلام نبوت ۲/ ۳۵۸)
لیکن افسوس کہ آج یہ بیماری عام ہے،ہر آدمی ایک دوسرے کی کمیوں اور خامیوں کو تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے، ہر شخص دوسروں کے راز سے واقف ہو کر اسے سر عام ذلیل کرنے کی فکر میں لگا ہوا ہے، اس میں اس کو لذت ملتی ہے اور اپنے دل میں سکون پاتا ہے۔
امت کا سب سے وی آئی پی،کریم اور انتہائی معزز طبقہ، جنہیں خواص امت کا درجہ حاصل ہے، یعنی علماء وہ بھی اس میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، بلکہ بعض توعوام الناس سے دو قدم آگے نظر آرہے ہیں یقین نہ ہو تو سوشل میڈیا پر آنے والی تحریروں کا ذرا جائزہ لے لیجئے، سب کچھ سامنے آ جائے گا۔۔ خدا اس لعنت اور برائی سے ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین۔
قلمکار : محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام، موئی کلاں ،کنڈہ پرتاپگڑھ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !