بڑھاپا

بڑھاپا ميرے وجود کی نفی ہے !

اے ذات من! یاد رکھ، بڑھاپا کسی حادثۂ ناگہانی کا نام نہیں، نہ یہ اچانک دروازہ کھٹکھٹا کر داخل ہوتا ہے، جیسے کسی خفیہ مہمان نے اعلان کر دیا ہو: آ گیا ہوں! يہ تو زندگی کی کتاب میں ہونے والی ایک نہایت شائستہ، مگر مستقل مزاج ترمیم ہے۔ متن وہی رہتا ہے، مگر معانی آہستہ آہستہ بدل جاتے ہیں، جیسے کوئی باریک بین محرر صبر و تدبیر سے جملے پر انگلی پھیر دے۔ وہ جملے جو کبھی شہ سرخی ہوا کرتے تھے، خاموشی سے حاشیے میں سرک جاتے ہیں۔ اور میں ایک دن، پورے وثوق کے ساتھ کہتا تھا: میں ہوں، اور کچھ ہی عرصے بعد وہی جملہ یوں پڑھا جاتا ہے: یہ کبھی ہوا کرتا تھا۔
یہ لمحہ، یہ شعور کہ وقت خود میری موجودگی کو غیر ضروری سمجھنے لگا ہے، میرے وجود کے لیے ایک عجیب ہلکی سی مہر ہے: "مزید کارروائی کی ضرورت نہیں”۔ اور میں مسکرا دیتا ہوں، کیونکہ جانتا ہوں، زندگی نے مجھے ریٹائر کر دیا ہے، نہ کسی دشمن نے، نہ کسی حادثے نے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے .
میری موجودگی، میرے ہونے کا مطلب اب صرف سانس لینا نہیں رہا۔ فلسفہ اور معاشرتی اصول بتاتے ہیں کہ وجود حصہ لینے اور دنیا میں رابطے میں رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یعنی، دنیا مجھے بلائے، مجھ سے الجھے، میری بات کاٹے، اور کبھی کبھى میری لغزش پر ہلکی ڈانٹ دے، اور میں نے محسوس کیا کہ یہ سب رعایتیں جوانی کی مہربانی تھیں، جنہیں میں نے بخوشی لیا تھا، اور جنہیں اب بڑھاپے میں دنیا صرف ادب کے لیے یاد رکھتی ہے۔
اور میں نے محسوس کیا کہ بڑھاپا، چپکے سے مگر فیصلہ کن انداز میں، خود کو غیر فعال قرار دے دیتا ہے؛ دنیا بوڑھوں سے بحث نہیں کرتی، انہیں صرف سمجھاتی ہے کہ اب ان کی رائے، ان کے جوش و جذبے، محض ماضی کی گونج ہیں۔ یوں میں موجود ہوں، مگر فعلِ حال سے سرک کر فعلِ ماضی کی کسی غیر ضروری شاخ پر بیٹھ چکا ہوں، اور یہ احساس کبھی تلخ، کبھی عجیب طرح کی تسکین لاتا ہے: میں اب صرف مثال ہوں، نہ کہ کسی نئے کارنامے کا شریک۔
فلسفی صدیوں سے کہتے آئے ہیں کہ وجود ماہیت پر مقدم ہے۔ اور میں، اب، ان چھوٹے حروف میں چھپی وضاحت کو سمجھ سکتا ہوں: وجود آخرکار ماہیت میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں اب بننے کے مرحلے میں نہیں ہوں؛ میں نمونہ بن چکا ہوں، حوالہ بن چکا ہوں، اور شاید کبھی کبھى کسی اور کے مذاق کا سبب بھی۔ لوگ مجھے "دانش مند” کہتے ہیں، اور مجھے معلوم ہے کہ یہ خطاب، دراصل، ایک مہذب ریٹائرمنٹ نوٹس ہے۔ حکمت اسی وقت ملتی ہے جب جستجو سے تحریری ضمانت لے لی جائے کہ آئندہ میں کسی نئی بات پر اصرار نہیں کروں گا۔
میری تعریف اس لیے کی جاتی ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں، تاکہ مجھ سے کچھ نیا جاننے کی توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ اور میں ہنس کر سوچتا ہوں: یوں معاشرہ مجھے خوشبودار حنوط میں محفوظ کر رہا ہے، جیسے کسی مومی بت کو مہندی لگائی جا رہی ہو۔
میرا جسم، جو کبھی میری زندگی کا شریک تھا، اب محتسب بن چکا ہے۔ گھٹنے احتجاج کرتے ہیں، حافظہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست دیتا ہے، اور آئینہ ہر روز ایک نئے اجنبی سے تعارف کرواتا ہے، جیسے میں خود اجنبی ہوں۔ میں موجود ہوں، مگر ہر حرکت پر جسم اجازت نامہ طلب کرتا ہے، گویا زندگی نے مجھے پاسورڈ کے بغیر لاگ ان کرنے کی عارضی اجازت دے دی ہو۔
وقت، جو کبھی میرے لیے ایک فرار کا سکہ تھا، اب بڑھاپے میں ایک نایاب یادگار بن گیا ہے۔ مستقبل سکڑ کر محض انتظامی مسئلے کا نام رہ گیا ہے: احتیاطیں، خدشات، تدريس وتصنيف، اور کبھی کبھى یہ سوچ کہ شاید کچھ یاد آ جائے۔ اور ماضی، اس کے برعکس، ایک وسیع و عریض محل بن چکا ہے، جس کے ہر کمرے میں کوئی یاد آرام کر رہی ہے، اور ہر کمرہ اپنی کہانیاں سناتا ہے۔
میں وقت میں نہیں جیتا؛ میں وقت کو ترتیب دیتا ہوں، اس کی تدوین کرتا ہوں۔ یادداشت میرا مستقل پتہ ہے، میرا ٹھکانہ۔ سب سے زیادہ میں وہاں موجود ہوں جہاں كى میں یاد کر رہا ہوں، نہ کہ وہاں جہاں میرا جسم حرکت کر رہا ہے۔ یوں میرا وجود پیچھے کی طرف ہجرت کر چکا ہے، جیسے کوئی تہذیب اپنے ہی کھنڈرات میں پناہ لے، اور چھت سے مسلسل پانی ٹپک رہا ہو۔
معاشره میں میری جگہ نظروں میں تو ہے، مگر مرکز میں نہیں؛ میں موجود ہوں، مگر فیصلہ کن نہیں۔ میری رائے کی اجازت ہے، بشرطیکہ اس کے نتائج کوئی اور بھگتے۔ میرا غصہ تلخی کہلاتا ہے، میری خواہش انکارِ حقیقت، اور میری خوشی کو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے: کیا بات ہے، ابھی تک مسکرا لیتے ہیں! حتیٰ کہ بغاوت بھی مجھ سے چھین لی گئی ہے؛ میں خطرناک نہیں، بس شاید عینک کا نمبر بدل گیا ہے۔
اور میں ہنس دیتا ہوں۔ ہنس کر جان لیتا ہوں کہ بڑھاپا، بیک وقت، وجود کی نفی بھی ہے اور اسے شائستگی کے ساتھ انجام دینے کی کاری ضرب بھی۔ یہ میرے نمائشی وجود کو منہدم کرتا ہے، جو شور، منصوبوں اور وعدوں پر کھڑا تھا۔ اور جو باقی رہتا ہے وہ حیرت انگیز حد تک سادہ ہے: محض دوام۔ نہ ترقی، نہ امکانات، صرف موجود رہ جانا۔
اور میں، اپنے آپ سے یہ کہتا ہوں: یہ نفی، یہ سادگی، یہ تمام محدودیتیں، حقیقت میں آزادی کی ایک قسم ہیں۔ کیونکہ آخرکار، بڑھاپا وجود سے انکار نہیں کرتا؛ یہ صرف اس کے رائج، مقبول اور فریب کار بھیس بدلنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ وجود ہے بغیر تماشے کے، بغیر عجلت کے، بغیر عذر کے۔
اور میں یہ بھی جانتا ہوں: اگر یہ سب نفی محسوس ہوتی ہے، تو قصور بڑھاپے کا نہیں، میری اس پرانی غلط فہمی کا ہے کہ وجود کو زندہ رہنے کے لیے ہمیشہ کن سہاروں اور سرٹیفیکیٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہاں، میں موجود ہوں، بس اسی لیے کہ میں ابھی تک یہاں ہوں، اور یہی میری سب سے خالص، سب سے سچی حقیقت ہے۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے