قاتل اور مقتول

دل دہلا دینے والا سانحہ :ٹک ٹاک کے ذریعے عشق میں مبتلا تین بچوں کے ماں نے اپنے تینوں بچوں کو کس بے رحمی سے قتل کردیا ؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کی تحصیل سرائے عالمگیر میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا سانحہ، جو دسمبر 2025 کے آخر میں سامنے آیا، نہ صرف ایک ماں کی سفاکی کی داستان ہے بلکہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی ایک دردناک مثال بھی۔ یہ واقعہ انسانیت کو شرمندہ کرنے والا ہے، جہاں عشق کے جنون میں اندھی ایک خاتون نے اپنے ہی تین معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، صرف اس لیے کہ وہ اپنے آشنا سے شادی کر سکیں ۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے .

واقعے کی تفصیلات

19 دسمبر 2025 کو سرائے عالمگیر کے گاؤں برنڈ کے رہائشی رضوان اقبال کی اہلیہ سدرہ بشیر (عمر تقریباً 26 سال) اپنے تین بچوں – 7 سالہ فجر فاطمہ، 4 سالہ حرم فاطمہ اور 2 سالہ محمد ذکریا – کے ساتھ گھر سے نکلیں۔ ان کا بہانہ تھا کہ وہ بازار سے کچھ سامان خریدنے جا رہی ہیں۔ لیکن وہ واپس نہ آئیں۔ رضوان اقبال، جو ایک موٹر سائیکل مکینک ہیں، نے کئی دن انتظار کیا اور پھر 21 دسمبر کو تھانہ صدر سرائے عالمگیر میں اپنی بیوی اور بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔

پولیس نے تحقیقات شروع کیں تو موبائل فون کی کال ڈیٹا ریکارڈ (CDR) اور لوکیشن ٹریسنگ سے پتہ چلا کہ سدرہ کی آخری لوکیشن آزاد کشمیر کے علاقے بھمبر کی طرف تھی۔ انٹیلیجنس اور ٹیکنیکل مدد سے پولیس نے سدرہ کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔ دورانِ تفتیش سدرہ نے اعترافِ جرم کر لیا اور اپنے ساتھی بابر حسین (عمر 27 سال، بھمبر کا رہائشی) کی نشاندہی کی، جسے بھی فوراً گرفتار کر لیا گیا۔

ملزمہ سدرہ کے اعتراف کے مطابق، ڈیڑھ سال پہلے ٹک ٹاک پر بابر حسین سے اس کی دوستی ہوئی تھی۔ دونوں ویڈیو کالز کرتے اور ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے۔ جلد ہی انہوں نے شادی کا ارادہ کر لیا۔ سدرہ نے اپنے شوہر سے طلاق مانگی، لیکن رضوان نے انکار کر دیا۔ بابر نے بھی بچوں کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ "میں تمہارے بچے کیسے پالوں گا؟”۔ سدرہ کے مطابق، اگر وہ بچوں کو گھر چھوڑ کر بھاگتی تو پتہ چل جاتا کہ وہ کہاں گئی ہے۔ چنانچہ دونوں نے مل کر بچوں کو راستے سے ہٹانے کا سفاکانہ منصوبہ بنایا۔

سدرہ بچوں کو لے کر بھمبر پہنچی۔ وہاں انہوں نے بچوں کو نیند کی گولیاں ملا کر فروٹ چاٹ کھلائی۔ جب بچے گہری نیند میں چلے گئے تو ایک ایک کر کے گلہ دبا کر قتل کر دیا۔ شناخت چھپانے کے لیے لاشوں کو جزوی طور پر جلا کر بھمبر کے ویران پہاڑی علاقے کسچناتر میں دفن کر دیا گیا۔

ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے لاشیں برآمد کیں۔ پوسٹ مارٹم کے بعد یکم جنوری 2026 کو تینوں معصوموں کی نمازِ جنازہ آبائی گاؤں برنڈ میں ادا کی گئی اور انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ عدالت نے سدرہ بشیر کو 4 سے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر جبکہ بابر حسین کو 7 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا۔ تفتیش جاری ہے اور مقدمہ قتل کے سنگین دفعات کے تحت درج ہے۔

سوشل میڈیا کا کردار اور اخلاقی زوال

یہ واقعہ سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی ایک خوفناک مثال ہے۔ ٹک ٹاک پر لاکھوں لوگ ویڈیوز بناتے اور دیکھتے ہیں، لیکن کچھ لوگ اسے غلط روابط قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سدرہ اور بابر کی دوستی بھی یہیں سے شروع ہوئی، جو محبت کا روپ دھار کر جنون میں تبدیل ہو گئی۔ خاندانی اقدار، ماں کی فطری محبت اور اخلاقی حدود سب کچھ بھلا دیے گئے۔

رضوان اقبال نے بتایا کہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی بیوی ٹک ٹاک استعمال کرتی ہیں، لیکن وہ سمجھتے تھے کہ یہ محض تفریح ہے۔ گھر میں جھگڑوں کو بھی وہ معمول کی بات سمجھتے رہے۔ یہ سانحہ بتاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر خاندان کے افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا کتنا ضروری ہے، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کی۔

معاشرتی اثرات اور سبق

یہ واقعہ پورے علاقے میں صدمے کی لہر دوڑا گیا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ ایک ماں کیسے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اتنی بے دردی سے قتل کر سکتی ہے؟ یہ صرف ایک قتل نہیں، بلکہ خاندانی نظام، اخلاقیات اور سماجی اقدار پر حملہ ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے مواد اور روابط پر سخت نگرانی کریں جو خاندانوں کو تباہ کر سکتے ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں اور گھر کے افراد کو سوشل میڈیا کے خطرات سے آگاہ کریں۔ حکومت اور اداروں کو بھی ایسے پلیٹ فارمز پر پابندیاں یا فلٹرز لگانے چاہییں۔

یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عشق کا جنون کبھی کبھی انسان کو درندہ بنا دیتا ہے، اور سوشل میڈیا کی چکاچوند میں کھو کر ہم اپنی سب سے قیمتی نعمتوں – خاندان اور اولاد – کو کھو بیٹھتے ہیں۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے