یونیسف کی دل دہلا دینے والی رپورٹ میں انکشاف، غزہ میں روزانہ 28 بچے جاں بحق ہوئے ہیں

یونیسف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے ایک دل دہلا دینے والی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں روزانہ اوسطاً 28 بچے جاں بحق ہو رہے ہیں۔ بچوں کی یہ ہلاکتیں بمباری، قحط، غذائی قلت اور طبی امداد کی عدم دستیابی کے باعث ہو رہی ہیں۔ یہ تعداد ایک عام اسکول کلاس کے برابر ہے، جو اس انسانی المیے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

“بمباری سے موت۔ بھوک اور قحط سے موت۔ امداد اور بنیادی سہولیات کی کمی سے موت۔ غزہ میں روزانہ 28 بچے اپنی جانیں کھو رہے ہیں۔ ان بچوں کو خوراک، پانی، دوا اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر، انہیں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے،” یونیسف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا۔

الجزیرہ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک — جب حماس نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا — 18,000 سے زائد بچے غزہ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں غزہ میں کل فلسطینی ہلاکتیں 60,933 سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ 1.5 لاکھ سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

فلسطینیوں کو نکالنے

امدادی ناکہ بندی اور قحط کی شدت

اسرائیل نے 2 مارچ 2025 سے غزہ کی سرحدیں بند کر رکھی ہیں، جس سے انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی تقریباً رک گئی ہے۔ غزہ کی گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق، روزانہ صرف 86 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ 600 ٹرک روزانہ کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی انسانی ضروریات پوری ہو سکیں۔

اس شدید کمی کے باعث غزہ میں تاریخ کا بدترین قحط پیدا ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں اور کمزور طبقات کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین اور 150 سے زائد عالمی امدادی تنظیموں نے فوری مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ امداد کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور غزہ کی نسلِ نو کو "کھوئی ہوئی نسل” بننے سے بچایا جا سکے۔


بمباری اور مزید ہلاکتیں

بدھ کے روز اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ کے مختلف علاقوں میں کم از کم 83 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 58 افراد وہ تھے جو امداد لینے آئے تھے۔

فلسطینی سول ڈیفنس نے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر ایندھن اور ریسکیو آلات فراہم کیے جائیں تاکہ زخمیوں کو بچایا جا سکے اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔

ادھر، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ چھ ممالک کی جانب سے غزہ میں 110 امدادی پیکجز فضا سے گرائے گئے، جس سے 27 جولائی سے اب تک کل 785 پیکجز پہنچائے جا چکے ہیں۔ تاہم یہ تعداد ضرورت کے مقابلے میں نہایت قلیل ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس

مکمل قبضے پر اسرائیلی غور

الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلیٰ سیکیورٹی حکام سے ملاقات کی ہے جس میں غزہ پر مکمل قبضے سمیت مختلف جنگی آپشنز پر غور کیا گیا۔

اگرچہ عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، مگر اب تک مستقل جنگ بندی کا کوئی عندیہ نظر نہیں آ رہا۔ ادھر غزہ کے بچے — جو اس جنگ کا نہ آغاز ہیں نہ سبب — سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔


عالمی برادری سے مطالبہ

یونیسف اور دیگر عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ غزہ میں نسلی تباہی اور نفسیاتی صدمہ پیدا ہو چکا ہے، جسے روکنے کے لیے فوری اور سنجیدہ عالمی اقدامات کی ضرورت ہے۔

“غزہ کے بچے صرف اعداد و شمار نہیں، وہ بھی بیٹے، بیٹیاں، طالبعلم اور خواب دیکھنے والے انسان ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ ضرورت امن کی ہے،” اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ دنیا کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر حقیقی، مربوط انسانی امداد اور سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی — اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے