کابل/اسلام آباد: افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی آج (بدھ) سے نافذ ہوگئی ہے۔ دونوں ممالک نے سرحدی فائرنگ اور عسکری جھڑپوں کے بعد سفارتی سطح پر رابطے بڑھاتے ہوئے اس عارضی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ دونوں ممالک کے عسکری حکام کے درمیان چمن بارڈر پر ہونے والی ہنگامی ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں فریقین نے فوری طور پر فائر بندی پر عملدرآمد اور سیکیورٹی اہلکاروں کی پسپائی پر اتفاق کیا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امن کی بحالی اور تجارتی گزرگاہوں کو کھولنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ترجمان وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ اسلام آباد امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے اور توقع رکھتا ہے کہ افغان حکام بھی اس عمل کو پائیدار بنانے میں کردار ادا کریں گے۔
افغان وزارتِ دفاع نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام امن اور تعاون کی فضا میں زندگی گزاریں۔ سرحدی تنازعات کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔”
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے چمن اور اسپین بولدک کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا تھا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ تجارت بند ہونے سے سرحدی علاقوں میں عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دونوں ممالک نے اعلان کیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے دوران اعتماد سازی کے اقدامات، سرحدی نگرانی میں تعاون، اور فائر بندی کی خلاف ورزیوں کی مشترکہ تفتیش پر بات چیت جاری رہے گی۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ عارضی جنگ بندی کامیاب رہی تو مستقبل میں اسے مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو خطے کے استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں