کوہستان یا راکاپوشی؟ 28 سال بعد گلیشیئر سے برآمد لاش کا معمہ اور حیران کن حالت

کوہستان یا راکاپوشی

گزشتہ دنوں ایک حیران کن خبر نے سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی: کسی گلیشیئر سے 28 سال بعد ایک لاش برآمد ہوئی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ نہ صرف جسم صحیح سلامت تھا بلکہ اس کے کپڑے بھی پھٹے ہوئے نہیں تھے۔ یہ خبر چونکا دینے والی تھی، کیونکہ عام طور پر اتنے لمبے عرصے کے بعد کسی لاش کا اس حالت میں ملنا غیر معمولی تصور کیا جاتا ہے۔

اگرچہ خبر میں کوہستان کا ذکر ہوا، مگر فراہم کردہ شواہد اور دستیاب رپورٹس کسی مخصوص واقعے کی نشاندہی نہیں کرتے جو کوہستان سے متعلق ہو۔ البتہ 2023 میں ایک مشابہ واقعہ پیش آیا تھا جب گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں واقع راکاپوشی گلیشیئر سے ایک پرانی لاش برآمد ہوئی تھی۔ اس واقعے کی تفصیلات خاصی دلچسپ اور پیچیدہ ہیں، اور اسی بنیاد پر ہم اس معمہ کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔


راکاپوشی کا واقعہ: ایک پرانی کہانی نئی توجہ کا مرکز

راکاپوشی گلیشیئر سے برآمد ہونے والی لاش کو ایک مقامی شخص نے دریافت کیا تھا۔ حکام کے مطابق، لاش کے بارے میں دو الگ الگ دعوے سامنے آئے:

  1. آسٹرین کوہ پیما: بعض نے کہا کہ یہ لاش 1984 میں لاپتہ ہونے والے ایک آسٹرین کوہ پیما کی ہو سکتی ہے، جس نے راکاپوشی سر کرنے کی کوشش کی تھی۔
  2. مقامی پورٹر سلطان اللہ بیگ: ایک مقامی شخص نے دعویٰ کیا کہ یہ لاش ان کے والد سلطان اللہ بیگ کی ہے، جو 1985 میں ایک مہم کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔

یہ دونوں دعوے قابلِ غور تھے، کیونکہ دونوں افراد راکاپوشی کے قریب لاپتہ ہوئے تھے، اور کئی دہائیوں بعد اس گلیشیئر نے وہ راز اُگل دیا جو برف میں دفن تھا۔


لاش کی حیران کن حالت: سائنسی نکتۂ نظر

جو چیز اس واقعے کو غیر معمولی بناتی ہے، وہ لاش کی حالت ہے۔ بتایا گیا کہ:

  • جسم مکمل حالت میں موجود تھا
  • کپڑے بھی پھٹے ہوئے نہیں تھے

یہ سن کر کئی لوگ حیرت زدہ ہوئے، لیکن ماہرین کے مطابق گلیشیئرز میں برف کی تہیں جسموں کو قدرتی فریزر کی طرح محفوظ رکھتی ہیں۔ برف نہ صرف درجہ حرارت کو بہت نیچے رکھتی ہے بلکہ بیکٹیریا اور ہوا کے اثرات سے بھی جسم کو محفوظ کرتی ہے۔

اسی وجہ سے کپڑے بھی گلنے سڑنے سے بچ سکتے ہیں۔ یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ 1991 میں آسٹریا کے الپس پہاڑوں میں 5,300 سال پرانی لاش ملی تھی جسے "اٹزی دی آئس مین” کہا جاتا ہے۔ اُس کی بھی حالت حیران کن طور پر محفوظ تھی۔


28 سال کا تضاد: کیا یہ کوہستان کا الگ واقعہ ہے؟

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے: اگر راکاپوشی کے واقعے کو مدنظر رکھا جائے تو وہ تو 1984–85 کا ہے، یعنی آج سے تقریباً 39–40 سال پرانا۔ جب کہ زیرِ بحث معاملہ 28 سال پرانے واقعے کی بات کرتا ہے، یعنی قریب 1997 کے آس پاس کا۔

یہ تضاد اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر راکاپوشی کا واقعہ نہیں بلکہ کوہستان کا کوئی الگ واقعہ ہو سکتا ہے — شاید کوئی مقامی شخص یا کوہ پیما، جو 1997 کے آس پاس کسی مہم یا حادثے کے دوران گلیشیئر میں دب گیا ہو، اور اب برف کے پگھلنے سے اس کی لاش ظاہر ہوئی ہو۔


شناخت کا تنازعہ اور تحقیقات کی ضرورت

ایسے واقعات میں سب سے اہم مرحلہ شناخت ہوتا ہے۔ اگر لاش کے ساتھ کوئی شناختی چیز نہ ہو تو ڈی این اے ٹیسٹ، دانتوں کی جانچ، یا دیگر فرانزک طریقے ہی شناخت میں مدد دے سکتے ہیں۔

راکاپوشی واقعے میں بھی یہی مسئلہ پیش آیا تھا کہ دو مختلف خاندان اس لاش کو اپنا پیارا قرار دے رہے تھے۔ یہی چیلنج کوہستان جیسے علاقے میں بھی درپیش ہو سکتا ہے، جہاں وسائل کی کمی کی وجہ سے شناخت کا عمل سست ہو جاتا ہے۔


میڈیا اور علاقائی الجھنیں

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات میڈیا رپورٹس میں علاقوں کے ناموں میں غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ مثلاً، گلگت بلتستان کے کسی دور دراز مقام کو کوہستان کہہ دینا، یا برعکس۔ اس وجہ سے ممکن ہے کہ زیرِ بحث لاش وہی ہو جو راکاپوشی میں برآمد ہوئی تھی، لیکن کسی نے اسے غلطی سے کوہستان سے منسوب کر دیا ہو۔


نتیجہ: معمہ ابھی باقی ہے

فی الحال، یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ یہ لاش کس کی ہے، کب کی ہے، اور یہ واقعہ کوہستان کا ہے یا راکاپوشی کا۔ البتہ جو بات یقینی ہے، وہ یہ کہ گلیشیئرز قدرت کے وہ خزانوں کی طرح ہیں جو وقت کے ساتھ اپنے راز افشا کرتے ہیں۔

اگر یہ واقعی ایک نیا اور الگ واقعہ ہے، تو متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ فرانزک تحقیقات کے ذریعے نہ صرف لاش کی شناخت کریں بلکہ مکمل طور پر واقعے کی تفصیلات کو عوام کے سامنے لائیں، تاکہ حقائق کی روشنی میں اس معمے کو حل کیا جا سکے۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے