پاکستان میں انجینئر محمد علی مرزا گرفتار سوشل میڈیا پر گرفتاری کے خلاف مذمت کا امڈ آیا سیلاب

انجینئر محمد علی مرزا

25 اگست 2025 کو جہلم، پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف مذہبی اسکالر اور یوٹیوبر انجینئر محمد علی مرزا کو پولیس نے تھری ایم پی او (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) کے تحت گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری ڈپٹی کمشنر جہلم کے احکامات پر عمل میں آئی، اور اس کے ساتھ ہی ان کی جہلم میں واقع ریسرچ اکیڈمی کو بھی سیل کر دیا گیا۔ گرفتاری کی بنیادی وجہ مختلف مذہبی جماعتوں کی جانب سے ان کے خلاف دائر کی گئی شکایات تھیں، جن میں الزام لگایا گیا کہ مرزا کے بیانات سے نقصِ امن کا خطرہ ہے۔ خاص طور پر، ان کے ایک حالیہ بیان میں مسیحی برادری سے منسوب مبینہ گستاخانہ الفاظ کے استعمال پر شدید تنقید کی گئی، جس سے ملک بھر میں مسیحی برادری کی زندگیوں کے لیے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل: انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا، بالخصوص ایکس، فیس بک، اور یوٹیوب پر ان کے حامیوں اور ناقدین کی جانب سے ملے جلے جذبات کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ ان کے حامیوں نے اس گرفتاری کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرزا نے اپنی گفتگو کے ذریعے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور مثبت بحث کو فروغ دیا، اور ان کی گرفتاری دراصل ان کے غیر روایتی نظریات کو دبانے کی کوشش ہے۔ ایکس پر کچھ صارفین نے ان کی گرفتاری کو ایجنسیوں کی "زیادتی” سے تعبیر کیا، جبکہ دیگر نے ان کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا، خاص طور پر ان کے مسیحی برادری سے متعلق تبصروں کو۔

تاہم، سوشل میڈیا پر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو ان کی گرفتاری سے مطمئن نظر آیا۔ بعض مذہبی حلقوں نے مرزا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، ان کے بیانات کو گستاخی اور اشتعال انگیزی سے تعبیر کرتے ہوئے۔ تحریک لبیک پاکستان کے رہنما محمد آصف اشرف جلالی نے ان کے ایک بیان پر فتویٰ جاری کیا، جس میں مرزا پر رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کا الزام لگایا گیا۔ اس کے علاوہ، ایک مسیحی اسکالر ٹامی ولیم نے مرزا کے مسیحیت سے متعلق دعوؤں کی تردید کی، جس سے تنازع کو مزید ہوا ملی۔

یہ پہلا موقع نہیں جب مرزا کو گرفتار کیا گیا۔ مئی 2020 میں بھی انہیں سیکشن 153-اے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جب انہوں نے ایک ویڈیو میں پیری مریدی اور بعض مذہبی شخصیات پر تنقید کی تھی۔ اس وقت وہ دو دن بعد ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ، اپریل 2023 میں ان کے خلاف سیکشن 295-سی کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جو ان کے احمدی برادری سے متعلق بیانات اور بھارتی سیاستدان نوپور شرما کی حمایت سے منسلک تھا۔ ان کی گرفتاریوں اور متنازع بیانات نے ہمیشہ سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا ہے، جیسا کہ اب بھی دیکھا جا رہا ہے۔

26 اگست 2025 تک، مرزا جہلم ڈسٹرکٹ جیل میں ہیں، اور ان کی اکیڈمی سیل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاری قانونی تقاضوں کے تحت کی گئی، اور تحقیقات جاری ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں کی جانب سے رہائی کے مطالبات جاری ہیں، جبکہ ناقدین کا اصرار ہے کہ ان کے بیانات سے مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچتا ہے۔

انجینئر محمد علی مرزا کی گرفتاری نے ایک بار پھر پاکستان میں مذہبی گفتگو، آزادیِ رائے، اور سوشل میڈیا کے کردار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے، لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات سے معاشرتی امن کو خطرہ ہے۔ سیلاب کے تناظر میں، اگرچہ کوئی براہ راست تعلق واضح نہیں، لیکن ایکس پر موجود پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اس وقت متعدد چیلنجز سے گزر رہا ہے، جن میں قدرتی آفات اور سماجی تنازعات شامل ہیں۔

انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟

مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے