لاہور کے 15 سالہ سکھ طالب علم اونکار سنگھ نے غیرمعمولی تعلیمی کارکردگی دکھاتے ہوئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور کے 2025 کے نویں جماعت کے امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اونکار نے 554 میں سے 555 نمبر حاصل کیے، جو نہ صرف ایک شاندار ریکارڈ ہے بلکہ اقلیتوں کے لیے باعثِ فخر بھی ہے۔ سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اونکار نے اسلامیات اور ترجمہ قرآن جیسے مضامین میں بھی شاندار نمبر لے کر بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔
عام نتائج کے پس منظر میں شاندار کامیابی
BISE لاہور نے 20 اگست 2025 کو نتائج کا اعلان کیا جس میں پنجاب بھر کے طلبہ کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ صرف 45 فیصد طلبہ کامیاب ہو سکے۔ ایسے مشکل حالات میں اونکار سنگھ کی کامیابی ایک روشن چراغ بن کر سامنے آئی۔
ان کے کل نمبر 554/555 یعنی 99.1 فیصد ہیں، جو پاکستان کے تعلیمی بورڈ کے نظام میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔
نمبرات کی تفصیل
اونکار کی شاندار کارکردگی ہر مضمون میں نمایاں رہی:
- اسلامیات – 98/100
- ترجمہ قرآن – 49/50
- فزکس – 60/60
- کیمسٹری – 60/60
- بیالوجی – 59/60
- انگریزی – 75/75
- ریاضی – 75/75
- اردو – 74/75
ہر مضمون میں A+ گریڈ حاصل کرنے والے اونکار لاہور بورڈ کے بلامقابلہ ٹاپر قرار پائے۔
اسلامیات اور ترجمہ قرآن میں دلچسپی
پاکستانی قانون کے تحت اقلیتی طلبہ اسلامیات کے بجائے اخلاقیات یا شہریت کے مضامین کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم اونکار نے اسلامیات اور ترجمہ قرآن کو منتخب کیا اور نمایاں نمبر حاصل کیے۔
اونکار نے کہا کہ انہیں اسلام کے مطالعے میں حقیقی دلچسپی ہے اور اس علم نے ان کے سکھ مذہبی عقائد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان کے بقول: "تعلیم اتحاد کی کنجی ہے”۔
خاندانی پس منظر اور تعاون
اونکار سنگھ لاہور میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔ ان کے والد ڈاکٹر ممپل سنگھ معروف معالج ہیں جنہیں صحت کے شعبے میں نمایاں خدمات پر تمغۂ امتیاز بھی مل چکا ہے۔ والدین اور اساتذہ نے ہمیشہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔
اساتذہ اور دوستوں کے مطابق اونکار نہایت محنتی، منظم اور خاموش طبیعت کے طالبعلم ہیں جو گھنٹوں مطالعہ کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ سائنسی اور مذہبی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔
پاکستان میں سکھ برادری اور اونکار کی کامیابی
پاکستان میں سکھ برادری کی تعداد 20 ہزار سے بھی کم ہے جو آبادی کا 0.01 فیصد بنتی ہے۔ ایسی چھوٹی برادری میں اونکار کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
اسلامی مضامین میں کامیابی حاصل کر کے اونکار نے بین المذاہب احترام اور علم کے تبادلے کی ایک شاندار مثال قائم کی ہے۔
پاکستان اور بیرون ملک ردعمل
اونکار سنگھ کی کامیابی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح سوشل میڈیا پر پھیل گئی:
- پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے انہیں مبارکباد دی اور کہا کہ یہ کارکردگی کمزور کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
- سکھ ڈائسپورا رہنماؤں نے انہیں سکھ قوم کا فخر قرار دیا۔
- عام پاکستانیوں نے ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں "امید کی علامت” کہا۔
بھارت کے بڑے میڈیا اداروں جیسے انڈیا ٹوڈے اور نیوز 18 نے بھی اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا جبکہ پاکستان کے چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کیے گئے۔
تعلیمی اور سماجی اہمیت
ماہرین تعلیم کے مطابق اونکار سنگھ کی کامیابی صرف ذاتی نہیں بلکہ ایک اجتماعی پیغام ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ اقلیتی طلبہ بھی ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں اگر انہیں مواقع اور رہنمائی فراہم کی جائے۔
یہ کہانی پاکستان میں بین المذاہب مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
مستقبل کے خواب
اونکار سنگھ اپنے والد کی طرح ڈاکٹر بننے کا خواب رکھتے ہیں اور پاکستان کے شعبہ صحت میں خدمات انجام دینا چاہتے ہیں۔ شاندار تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر توقع ہے کہ انہیں مقامی اور بین الاقوامی اداروں سے اسکالرشپس بھی ملیں گی۔
ان کے الفاظ میں: "علم سب کا ہے اور اسے حاصل کرنا ہمارا فرض ہے۔”
خلاصہ
اونکار سنگھ کی کامیابی نہ صرف انہیں لاہور بورڈ کا ٹاپر بناتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ اصل تعلیم مذہب اور ثقافت کی سرحدوں سے ماورا ہے۔ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر محنت اور خلوص نیت سے پڑھا جائے تو اقلیت ہو یا اکثریت، کامیابی سب کی ہے۔
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں