ڈھاکہ یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی تاریخی جیت نے بھارت کو تشویش میں مبتلا کردیا

ڈھاکہ یونیورسٹی

بنگلہ دیش کی سب سے قدیم اور بااثر یونیورسٹی، ڈھاکہ یونیورسٹی، ہمیشہ سے ملکی سیاست کا گڑھ سمجھی جاتی رہی ہے۔ یہاں کے طلبہ یونین انتخابات نہ صرف کیمپس کی سیاست کا رخ متعین کرتے ہیں بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کے طلبہ وِنگ، اسلامی چہترا شِبیر، نے غیر متوقع اور بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ جیت اس لیے تاریخی ہے کہ 1971 کی آزادی کے بعد پہلی مرتبہ اسلام پسند گروپ نے یونیورسٹی میں نمایاں اکثریت حاصل کی ہے۔


انتخابی نتائج

اس بار کے انتخابات میں اسلامی چہترا شِبیر نے بارہ میں سے نو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ نائب صدر اور جنرل سیکریٹری جیسے اہم عہدے بھی شِبیر کے امیدواروں کے حصے میں آئے۔ باقی نشستوں پر دیگر طلبہ تنظیموں نے مقابلہ کیا مگر وہ شِبیر کے اثر کے سامنے کمزور ثابت ہوئیں۔


تاریخی پس منظر

1971 کی جنگِ آزادی کے بعد بنگلہ دیشی سیاست میں جماعت اسلامی کو حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا۔ اس پر پاکستان کا ساتھ دینے اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں شریک ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اسی وجہ سے ڈھاکہ یونیورسٹی میں اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ مگر پانچ دہائیوں بعد اس کی واپسی محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک علامتی اور سیاسی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔


طلبہ سیاست میں بڑی تبدیلی

یونیورسٹی سطح پر اس جیت کا مطلب ہے کہ سیکولر اور حکومتی حامی طلبہ گروپ، خاص طور پر عوامی لیگ کے طلبہ وِنگ، اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان طبقے میں ایک نئے بیانیے کو پذیرائی مل رہی ہے جو اسلام پسند اور اپوزیشن کے قریب ہے۔ یہ تبدیلی مستقبل میں قومی سیاست کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔


اپوزیشن کا ردِعمل

اپوزیشن جماعتوں نے اس کامیابی کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم کچھ گروپوں نے الیکشن کے عمل پر سوالات اٹھائے اور نتائج کو دھاندلی زدہ کہا۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ شِبیر نے اپنے امیدواروں کو منظم کیا اور طلبہ کی بڑی تعداد کو متحرک کرنے میں کامیاب رہا۔


بھارت کی تشویش

اس انتخابی نتیجے نے بھارت میں سیاسی حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارتی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جماعت اسلامی کی مقبولیت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو مستقبل میں یہ قومی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ بھارت کو ایک ایسے ہمسایہ ملک سے نمٹنا پڑے گا جہاں اسلام پسند قوتیں فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتی ہوں گی۔


خطے پر اثرات

  • خارجہ تعلقات: اگر جماعت اسلامی مستقبل میں مضبوط ہوتی ہے تو بنگلہ دیش کی بھارت سے قربت کم ہو سکتی ہے۔
  • سکیورٹی خدشات: اسلام پسند سیاست کا ابھرنا بھارت میں سرحدی سلامتی اور انتہا پسندی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔
  • عوامی رجحان: یہ جیت اس بات کا اشارہ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، حکومتی بیانیے سے ہٹ کر نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔

نتیجہ

ڈھاکہ یونیورسٹی میں جماعت اسلامی کی فتح صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک سیاسی اور نظریاتی موڑ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پانچ دہائیوں بعد بھی اسلام پسند قوتیں عوامی سطح پر اپنی جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بھارت کے لیے یہ ایک "تشویش ناک” پیش رفت ہے، کیونکہ یہ مستقبل میں خطے کی سیاست اور تعلقات کے نقشے کو بدل سکتی ہے۔


انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟

مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے