انقرہ/واشنگٹن، 8 اکتوبر 2025 – ترک صدر رجب طیب اردوغان نے ایک اہم انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ذاتی طور پر کی گئی ایک نجی درخواست کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ نے ان سے حماس کو غزہ کی جاری جنگ ختم کرنے اور ایک نئے امن منصوبے پر راضی کرنے کی اپیل کی تھی۔ یہ بیان ترکی واپس آنے کے دوران صدر کے خصوصی طیارے میں صحافیوں سے کی گئی گفتگو کا حصہ ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے حل کی کوششوں میں ترکی کے کلیدی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
ٹرمپ کی ذاتی اپیل: "حماس کو سمجھائیں، امن منصوبہ قبول کروائیں”
صدر اردوغان نے تفصیل سے بتایا کہ یہ بات چیت ٹرمپ کے ساتھ فون کال اور امریکہ کے حالیہ دورے کے دوران ہوئی تھی۔ ان کے الفاظ میں، "ٹرمپ نے صاف صاف کہا کہ ‘ہم حماس سے ملیں اور انہیں سمجھائیں کہ وہ ہمارے امن منصوبے کو قبول کریں۔'” یہ منصوبہ امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی جامع امن پلان کا حصہ ہے، جو غزہ کی تعمیر نو، جنگ بندی، یرغمالوں کی رہائی، اور علاقے کو دہشت گردی سے پاک بنانے پر مبنی ہے۔ اس پلان کے تحت غزہ کو ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کیا جائے گا، جو غیر سیاسی ماہرین پر مشتمل ہو گی اور روزمرہ امور کی نگرانی کرے گی، جبکہ حماس کو غیر مسلح کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول سونپنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اردوغان نے مزید کہا کہ ترکی نے امریکہ کو فلسطین میں امن بحال کرنے کے لیے عملی مشورے دیے ہیں، جن میں غزہ کی مکمل بحالی اور فلسطینیوں کی خودمختاری کو یقینی بنانا شامل ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی اس اپیل کو "ایک نہایت اہم موقع” قرار دیا، جو خطے میں دیرینہ تنازعے کو ختم کرنے کی طرف قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
حماس کا مثبت جواب: "بات چیت کے لیے کھلے ہیں، کوئی منفی رویہ نہیں”
اردوغان کے مطابق، انہوں نے فوری طور پر حماس کے رہنماؤں سے رابطہ کیا اور تنظیم کو امریکی منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ حماس کی جانب سے ملنے والا جواب انتہائی مثبت رہا۔ صدر نے بتایا، "حماس نے کوئی منفی رویہ نہیں اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بات چیت کے لیے کھلے ہیں۔ میں اسے ایک بیش قیمتی قدم سمجھتا ہوں۔” یہ بیان حماس کی حالیہ پوزیشن سے مطابقت رکھتا ہے، جہاں تنظیم نے ٹرمپ کے پلان کو بڑی حد تک قبول کرتے ہوئے یرغمالوں کی رہائی، غزہ کا کنٹرول فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے، اور ہتھیاروں کی جمع آوری پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم، حماس نے کچھ ترامیم کا مطالبہ بھی کیا ہے، جیسے غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، انسانی امداد کی بلا روکٹوک رسائی، بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، تعمیر نو میں فلسطینی ماہرین کی شمولیت، اور قیدیوں کا منصفانہ تبادلہ۔
یہ پیشرفت پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان سے بھی ہم آہنگ ہے، جنہوں نے حماس کی آمادگی کو "جنگ بندی اور امن قائم کرنے کا موقع” قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے بھی حماس کے یرغمال رہانے کے عندیے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی اپیل کی ہے۔
ترکی کا غزہ مذاکرات میں کلیدی کردار: شرم الشیخ میں وفد کی شرکت
صدر اردوغان نے واضح کیا کہ ترکی غزہ کے امن مذاکرات میں مرکزی حیثیت ادا کر رہا ہے۔ ان کے حکام مصر کے شہر شرم الشیخ میں جاری بالواسطہ بات چیت میں فعال طور پر شریک ہیں، جہاں قطر، مصر اور دیگر عرب ممالک بھی ثالثی کر رہے ہیں۔ ترکی مسلسل حماس سے رابطے میں ہے اور ہر قدم پر صورتحال کو پرامن حل کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اردوغان نے کہا، "ہم حماس کو یہ سمجھا رہے ہیں کہ سب سے مناسب راستہ کیا ہے اور فلسطین کو اپنے مستقبل کے بارے میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔”
اس سلسلے میں، ترکی کے خفیہ ادارے (MIT) کے سربراہ ابراہیم کالن کی قیادت میں ایک خصوصی وفد بدھ کے روز (9 اکتوبر) مذاکرات میں حصہ لے گا۔ یہ وفد امریکی منصوبے کی شقوں پر حماس کی تشویشات کو دور کرنے اور عملی اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔ ترکی اور حماس کے درمیان طویل عرصے سے قریبی تعلقات رہے ہیں، اور اردوغان فلسطین کے حق میں کھل کر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں "قتل عام” کے الزامات لگائے ہیں اور بار بار عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
امریکی امن منصوبے کی تفصیلات: 20 نکات میں کیا ہے؟
ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ غزہ تنازعے کے خاتمے کا جامع فارمولا ہے، جس کی بنیاد پر یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اس کے اہم نکات میں شامل ہیں:
- جنگ بندی اور انخلا: فوری اور مستقل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا۔
- غزہ کی انتظامیہ: علاقے کو ایک عبوری فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنا، جو تکنیکی ماہرین پر مشتمل ہو گی اور بلدیاتی امور سنبھالے گی۔ حماس کو غیر مسلح کر کے فلسطینی اتھارٹی کو کنٹرول سونپنا۔
- تعمیر نو اور امداد: "ٹرمپ اقتصادی ترقیاتی منصوبہ” کے تحت غزہ کی بحالی، جس میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور ماہرین کی کمیٹی شامل ہو گی۔ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی۔
- یرغمال اور قیدی: تمام یرغمالوں کی فوری رہائی اور فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ۔
- مستقبل کی ضمانت: غزہ کو فلسطینی ریاست کا حصہ بنانا، جہاں انتظام فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہو، اور علاقے کو دہشت گردی سے پاک بنانا۔
اردوغان نے زور دیا کہ جنگ کے بعد غزہ کسی بھی صورت فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ بنے گا اور وہاں کا انتظام و انصرام فلسطینیوں کے پاس ہی رہے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے پر اتفاق کیا ہے، لیکن حماس کی ترامیم کے مطالبات اب کلیدی چیلنج بن چکے ہیں۔
عالمی ردعمل: امید اور خدشات
اس پیشرفت پر عالمی سطح پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے اسے "نہایت اہم موقع” قرار دیا، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسرائیل سے غزہ میں بمباری روکنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم، غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، اور حماس کی ترامیم کے مطالبات (جیسے مکمل انخلا اور رہنماؤں کی حفاظت) مذاکرات کو طول دے سکتے ہیں۔
یہ بیان نہ صرف ترکی کی سفارتی طاقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ غزہ میں امن کی امید کو زندہ بھی کرتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حماس اور اسرائیل کے درمیان حتمی اتفاق ہو جائے تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا اہم موڑ ثابت ہو گا۔ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور شرم الشیخ مذاکرات کے نتائج اگلے چند دنوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔
مزید خبریں:
گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد 137 کو اسرائیل نے کیارہا
گلوبل صـمود فلوٹیلا کے گرفتار رکن ‘توماسو بورٹولازی’ نے اسـرائیلی جیل میں اسـلام قبول کرلیا
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں