امریکہ کے بدلتے تیور نے واضح کردیا کہ ایران کو میدان جنگ میں شکست دینا ممکن نہیں ہے
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مشرق وسطیٰ کی سیاسی اور عسکری جغرافیائیہ میں ایک واضح تبدیلی رونما ہوئی ہے: ایران خطے میں ایک طاقتور اور ناقابل تسخیر قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ امریکہ کی حالیہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی، جس میں ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز اور سفارتی مذاکرات کی طرف رجحان شامل ہے، اس بات کی گواہی ہے کہ واشنگٹن نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ ایران کو روایتی جنگ کے میدان میں شکست دینا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ تبدیلی محض عارضی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ گہری جغرافیائی، عسکری، سیاسی اور معاشی حقائق کا نتیجہ ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
1. جغرافیائی اور عسکری مضبوطی:
ایران کا جغرافیہ اس کی سب سے بڑی دفاعی طاقت ہے۔ وسیع اور پہاڑی علاقے، خاص طور پر زاگرس اور البرز کے سلسلے، کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف ایک قدرتی رکاوٹ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے پر حملہ آور ہمیشہ مشکل ترین حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ جدید دور میں ایران نے اس جغرافیائی فائدے کو جدید دفاعی نظاموں سے جوڑ کر ایک جامع اور گہری دفاعی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔ اس میں میزائل ٹیکنالوجی میں خودکفالت، ہوابازی اور بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافہ، اور غیر روایتی جنگ (Asymmetric Warfare) میں مہارت شامل ہے۔ ایران کے میزائل پروگرام کا دائرہ کار پورے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے تک ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی جارحانہ کارروائی ایران کی طرف سے وسیع پیمانے پر جوابی حملے کی زد میں آئے گی۔
2. علاقائی اثر و رسوخ اور پراکسی نیٹ ورک:
ایران نے گزشتہ چالیس سالوں میں خطے میں ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے، جو درحقیقت اس کی دفاعی گہرائی کو کئی گنا بڑھاتا ہے۔ حزب اللہ (لبنان)، عراقی شیعہ ملیشیاؤں، یمن میں حوثی تحریک، اور شام میں حکومت کے ساتھ اتحاد نے ایران کو ایک ایسا اثر و رسوخ دیا ہے جو روایتی فوجی مداخلت سے ماورا ہے۔ یہ نیٹ ورک ایران کو ایسے دباؤ کے اوزار فراہم کرتے ہیں جو براہِ راست جنگ کے بغیر امریکی اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پورے خطے میں پھیل جائے گی، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی میں خلل، عالمی معیشت کو شدید نقصان، اور امریکہ کے لیے ایک طویل، مہنگا اور خونریز جنگ کا خطرہ ہوگا۔
3. سیاسی استحکام اور عوامی یکجہتی:
ایران کا سیاسی نظام، چاہے اس پر کتنے ہی تنقید ہوں، اندرونی بحرانوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود مضبوطی سے قائم ہے۔ بیرونی خطرے کے وقت ایرانی عوام میں قومی یکجہتی کی تاریخ رہی ہے۔ کسی بھی بیرونی جارحیت کو اندرونی انتشار اور نظام کے خلاف بغاوت کا موقع فراہم کرنے کی بجائے، اس کے برعکس، عوام کو حکومت کے گرد اکٹھا کرنے کا سبب بننے کا زیادہ امکان ہے۔ یہ امریکہ جیسے جمہوری معاشروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جہاں طویل اور مہنگی جنگوں کے خلاف عوامی ردعمل حکومتوں کے لیے بڑی سیاسی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
4. امریکہ کی جنگ سے تھکاوٹ اور حکمتِ عملی میں تبدیلی:
عراق اور افغانستان میں طویل جنگوں نے امریکہ کو "جنگ سے تھکا” دیا ہے۔ ان جنگوں کے وسیع مالی اخراجات، امریکی فوجیوں کی جانیں، اور محدود سیاسی فائدے نے امریکی عوام اور پالیسی سازوں دونوں میں براہِ راست فوجی مداخلت کے خلاف گہری ہچکچاہٹ پیدا کر دی ہے۔ امریکہ اب اپنی توانائیوں کو چین جیسے "استحکامی چیلنجز” پر مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں، ایران کے ساتھ ایک بھرپور جنگ میں الجھنا، جو کہ ایک پیچیدہ اور طاقتور دشمن ہے، امریکہ کی عالمی حکمتِ عملی کے لیے ایک بھیانک خواب ہے۔
5. معاشی پابندیوں کے محدود اثرات:
اگرچہ امریکہ نے ایران پر انتہائی سخت معاشی پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن ان کا اصل مقصد ایران کے نظام کو گرانا نہیں رہا، بلکہ اسے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ پابندیوں نے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن وہ اسے فوجی یا سیاسی طور پر ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکیں۔ اس کے برعکس، ایران نے ان پابندیوں کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھا اور بہتر بنایا ہے، جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف معاشی دباؤ سے ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
نتیجہ:
امریکہ کے بدلتے تیور — جس میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے (JCPOA) میں واپسی کی کوشش، براہِ راست فوجی تصادم سے احتیاط، اور علاقائی تنازعات میں محدود فوجی ردعمل شامل ہے — ایک واضح اشارہ ہے کہ واشنگٹن نے اس خطائی کو سمجھ لیا ہے کہ ایران کو میدان جنگ میں شکست دینا ممکن نہیں۔ ایران کی جغرافیائی پوزیشن، اس کی عسکری خودکفالت، اس کا وسیع علاقائی نیٹ ورک، اور اس کا سیاسی استحکام اسے ایک ایسا مخالف بناتے ہیں جس کو شکست دینے کی قیمت امریکہ یا کوئی اور طاقت ادا کرنے کو تیار نہیں۔ مستقبل میں، خطے میں طاقت کا توازن براہِ راست جنگ کے بجائے، دباؤ، مذاکرات، اور محدود تنازعات کے ذریعے طے ہوگا۔ ایران کے خلاف فوجی آپشن کا انتخاب نہ صرف ناقابلِ فتح ہے، بلکہ امریکہ کی عالمی پوزیشن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ لہٰذا، امریکہ کا موجودہ رویہ کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک مشکل حقیقت کا ادراک اور ایک نئے دور کی سفارت کاری کی طرف ضروری قدم ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !