امریکہ ایران کے سرنڈر کا خواہش مند ہے ایرانی سپریم لیڈر خامنائی نے امریکی دباؤ کے خلاف قومی اتحاد کی اپیل کی

ایرانی سپریم لیڈر خامنائی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی نے اتوار کو زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ کو امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔یہ بیان تہران کی ایک مسجد میں دیا گیا اور ان کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع کیا گیا۔ یہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کو دو ماہ مکمل ہو گئے ہیں، جس میں امریکہ نے بھی عارضی طور پر حصہ لیا تھا، اور ساتھ ہی تہران عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے۔

خامنه ای نے کہا کہ جون میں ہونے والے اسرائیل اور امریکہ کے غیر معمولی حملے، جن میں اہم جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ایران نے جوابی کارروائی کی، اسلامی جمہوریہ کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز میں ایران پر اسرائیلی حملے کے اگلے ہی دن “امریکی ایجنٹ” یورپ میں ملے تاکہ یہ طے کریں کہ اسلامی جمہوریہ کے بعد ایران پر کون سی حکومت حکمران ہوگی۔ ان کے مطابق، واشنگٹن کا اصل مقصد ایران کو “مطیع” بنانا ہے۔

جون کی جنگ کے بعد

خامنه ای نے کہا کہ ایران اس 12 روزہ جنگ سے زیادہ مضبوط ہوکر نکلا ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اس کا سب سے براہِ راست اور شدید ٹکراؤ تھا۔ انہوں نے کہا: “ایرانی قوم نے مسلح افواج، حکومت اور نظام کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے دشمنوں کو زبردست ضرب لگائی۔”

انہوں نے داخلی اختلافات سے خبردار کرتے ہوئے کہا: “دشمن کا راستہ یہ ہے کہ ایران میں انتشار پیدا کیا جائے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ “امریکہ اور صیہونی حکومت کے ایجنٹ” ملک میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ آراء مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن نظام اور وطن کے دفاع میں قوم متحد ہے۔

جوہری تناؤ اور سفارت کاری

ایران اور امریکہ کے تعلقات 1979 کے اسلامی انقلاب اور امریکی سفارتخانے کے یرغمال بحران کے بعد سے منقطع ہیں۔ اس کے بعد امریکہ نے تہران پر متعدد پابندیاں عائد کیں، جن میں تازہ ترین پابندیاں جوہری پروگرام سے متعلق ہیں۔

مغربی طاقتیں ایران پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران اس الزام کو بارہا مسترد کر چکا ہے۔ جون کی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جوہری پروگرام پر چھٹے دور کے مذاکرات ہونے والے تھے، لیکن جھڑپوں کی وجہ سے یہ بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔

اب ایران منگل کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کرے گا، اور یورپی طاقتوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ دوبارہ پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔

اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام

عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے