9 مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مظاہروں کے دوران فیصل آباد میں ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملہ، تھانہ غلام محمد آباد پر حملہ، اور دیگر توڑ پھوڑ کے واقعات رونما ہوئے، جن کے نتیجے میں انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 31 جولائی 2025 کو ان مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے 108 رہنماؤں اور کارکنوں کو قید کی سزائیں سنائیں، جبکہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، زین قریشی، اور خیال کاسترو کو بری کر دیا گیا۔
مقدمات کا پس منظر
9 مئی 2023 کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھے جاتے ہیں۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں نے ملک بھر میں احتجاج کیا، جو کئی مقامات پر پرتشدد رخ اختیار کر گیا۔ فیصل آباد میں مظاہرین نے ایک حساس ادارے کے دفتر پر حملہ کیا اور تھانہ غلام محمد آباد سمیت دیگر مقامات پر توڑ پھوڑ کی۔ ان واقعات کی بنیاد پر تین اہم مقدمات درج کیے گئے:
- مقدمہ نمبر 835 (تھانہ سول لائن): حساس ادارے کے دفتر پر حملہ۔
- مقدمہ نمبر 832 (تھانہ سول لائن): پولیس وین جلانے کا واقعہ۔
- مقدمہ نمبر 1277 (تھانہ غلام محمد آباد): تھانے پر حملہ اور توڑ پھوڑ۔
ان مقدمات میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں سمیت 185 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے ان مقدمات کی سماعت مکمل کرنے کے بعد 108 ملزمان کو سزا سنائی، جبکہ 77 کو بری کر دیا گیا۔
عدالت کا فیصلہ
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے فیصلے میں مندرجہ ذیل اہم نکات پیش کیے:
- سزائیں: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شبلی فراز، سابق وفاقی وزیر زرتاج گل، اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا سمیت 108 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ دیگر نمایاں ملزمان میں شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق، رائے حسن نواز، اور کنول شوذب شامل ہیں۔ رکن صوبائی اسمبلی جنید افضل ساہی کو تین سال قید کی سزا دی گئی۔
- بریت: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری، زین قریشی، اور خیال کاسترو کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ ان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے انہیں شک کا فائدہ دیا گیا۔
- شواہد: عدالت نے مقدمات کی سماعت کے دوران 50 سے زائد گواہان کے بیانات قلمبند کیے اور فرانزک ایجنسی سے ڈیجیٹل شواہد کی تصدیق کروائی۔ تاہم، بری ہونے والوں کے خلاف شواہد ناکافی پائے گئے۔
پی ٹی آئی کا ردعمل
پی ٹی آئی رہنماؤں نے عدالت کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ یہ سزائیں قانونی تقاضوں کو پورا کیے بغیر سنائی گئیں، جس سے عوام کا عدالتوں پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ فیصلے کو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی کے وکیل مقصود بٹر نے کہا کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے اور استغاثہ ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
زرتاج گل نے فیصلے کے بعد کہا کہ ان پر عائد کردہ الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ اپنے نظریے پر قائم ہیں۔ عمر ایوب نے بھی فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو دبانے کی کوشش ہے۔
سیاسی اثرات
9 مئی کے مقدمات کے فیصلوں نے پاکستان کی سیاسی فضا کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، ان فیصلوں سے پی ٹی آئی کے اندر پہلے سے موجود اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سینئر رہنماؤں کی سزا اور کچھ کی بریت سے پارٹی کے اندر گروہ بندی بڑھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، شاہ محمود قریشی کی لاہور کے مقدمات میں بریت نے کئی سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا وہ دیگر مقدمات میں بھی رہائی حاصل کر کے پارٹی میں کوئی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے رواں سال اپریل میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کو 9 مئی کے مقدمات کے فیصلے چار ماہ کے اندر سنانے کا حکم دیا تھا، جس کی ڈیڈ لائن 8 اگست 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں فیصل آباد کی عدالت کے فیصلے کو ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ فیصلے پی ٹی آئی کے لیے سیاسی چیلنجز کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر جب پارٹی پہلے ہی اپنے رہنماؤں کی گرفتاریوں اور فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔
فوجی عدالتوں کے فیصلے
9 مئی کے واقعات سے متعلق فوجی عدالتوں میں بھی مقدمات چل رہے ہیں۔ دسمبر 2024 تک فوجی عدالتوں نے 85 ملزمان کو مختلف سزائیں سنائیں، جن میں عمران خان کے بھانجے حسان نیازی کو 10 سال اور دو سابق فوجی افسران کو بالترتیب چھ اور دو سال قید کی سزائیں شامل ہیں۔ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو بھی پی ٹی آئی نے سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
نتیجہ
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پی ٹی آئی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ یہ فیصلہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے، اور اس کا نتیجہ پاکستان کی سیاسی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ فی الحال، یہ مقدمات پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں، جو پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کے عزم کو آزمانے کا باعث بن رہے ہیں۔
مزید خبریں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں