آسٹریلیا بونڈائی بیچ دہشت گرد حملہ کی سچائی کیا ہے؟
آسٹریلیا کے مشہور سیاحتی مقام بونڈائی بیچ پر پیش آنے والا ہولناک واقعہ نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا کے لیے صدمے کا باعث بنا۔ یہ حملہ یہودی برادری کی مذہبی تقریب “Chanukah by the Sea” کے دوران ہوا، جس میں تقریباً ایک ہزار افراد شریک تھے۔ اس واقعے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں بچے، خواتین اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
آسٹریلوی حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے اس حملے کو یہودیوں کے خلاف منصوبہ بند دہشت گردانہ (targeted antisemitic terrorist attack) قرار دیا ہے۔ تاہم واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور بعض غیر مصدقہ ذرائع پر کئی دعوے سامنے آئے، جن میں حملہ آوروں کی شناخت، پس منظر اور محرکات کے حوالے سے کنفیوژن پیدا کی گئی۔ اس مضمون میں انہی دعوؤں اور حقائق کی روشنی میں سچائی واضح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حملہ کیسے اور کہاں ہوا؟
حملہ 14 دسمبر 2025 کو شام تقریباً 6:47 بجے اس وقت شروع ہوا جب Archer Park میں ہنوکہ کی پہلی رات کی تقریب جاری تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق:
- دو حملہ آور ایک پیدل پل (pedestrian bridge) پر کھڑے ہو کر نیچے موجود مجمع پر فائرنگ کرنے لگے
- تقریباً 50 گولیاں چلائی گئیں
- مجمع میں بھگدڑ مچ گئی، لوگ جان بچانے کے لیے سمندر، گاڑیوں اور عمارتوں کی آڑ لینے لگے
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہو گیا۔
حملہ آور کون تھے؟
تحقیقات کے بعد پولیس نے تصدیق کی کہ حملہ آور باپ بیٹا تھے:
1. ساجد اکرم (عمر تقریباً 50 سال)
- موقع پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک
- آسٹریلیا میں قانونی اسلحہ لائسنس کے حامل
- چھ رجسٹرڈ ہتھیار رکھتے تھے
- روزگار کے طور پر پھلوں کا کاروبار کرتے تھے
2. نوید اکرم (عمر 24 سال)
- شدید زخمی حالت میں گرفتار
- اسپتال میں پولیس حراست میں
- ماضی میں 2019 میں ASIO (آسٹریلوی انٹیلی جنس) کی نظر میں آ چکے تھے
- تاہم اُس وقت انہیں فوری خطرہ قرار نہیں دیا گیا
پولیس کے مطابق دونوں آسٹریلوی شہری تھے اور واقعے میں کسی غیر ملکی نیٹ ورک کے براہِ راست ملوث ہونے کا کوئی ثبوت تاحال سامنے نہیں آیا۔
ساجد اکرم کا پس منظر: حقیقت کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ساجد اکرم کا تعلق پاکستان سے تھا، تاہم سرکاری تحقیقات اور بھارتی و آسٹریلوی حکام نے اس کی تردید کی۔
مصدقہ معلومات کے مطابق:
- ساجد اکرم اصل میں حیدرآباد، تلنگانہ (بھارت) کے رہائشی تھے
- انہوں نے B.Com کی تعلیم حاصل کی
- 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا گئے
- بھارت کا متعدد بار دورہ کیا، مگر کسی مجرمانہ یا شدت پسند سرگرمی کا کوئی ریکارڈ نہیں
- تلنگانہ پولیس نے واضح کیا کہ ان کی radicalisation کا بھارت سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا
یہ بھی واضح کیا گیا کہ ابتدائی طور پر “پاکستانی حملہ آور” کی خبریں غلط معلومات پر مبنی تھیں۔
اسلحہ اور دیگر خطرناک مواد
پولیس نے حملہ آوروں کی گاڑی سے:
- Improvised Explosive Devices (IEDs)
- ISIS کا جھنڈا
برآمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد اس حملے کو ISIS-inspired قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی نتائج آنا باقی ہیں۔
ایک عام شہری کی غیر معمولی بہادری
حملے کے دوران احمد الاحمد نامی ایک پھل فروش نے جان کی پرواہ کیے بغیر:
- ایک حملہ آور پر پیچھے سے جھپٹ کر
- اس سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی
وہ خود گولی لگنے سے زخمی ہوئے، مگر ان کے اس اقدام کو آسٹریلوی وزیراعظم نے “قومی ہیرو” قرار دیا۔ پولیس کے مطابق اس عمل سے مزید جانیں بچ سکتی ہیں۔
حکومتی اور عالمی ردعمل
- وزیراعظم Anthony Albanese نے حملے کو “خالص دہشت گردی اور یہود دشمنی” قرار دیا
- آسٹریلیا بھر میں یہودی عبادت گاہوں کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی
- امریکہ، برطانیہ، فرانس، بھارت اور اسرائیل سمیت کئی ممالک نے مذمت کی
یہ واقعہ 1996 کے Port Arthur massacre کے بعد آسٹریلیا کا سب سے مہلک فائرنگ واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
نتیجہ: سچائی کیا ہے؟
✔ حملہ واقعی ایک منصوبہ بند دہشت گردانہ کارروائی تھا
✔ حملہ آور باپ بیٹا ساجد اکرم اور نوید اکرم تھے
✔ ساجد اکرم کو غلط طور پر پاکستانی قرار دیا گیا، جو بعد میں غلط ثابت ہوا
✔ داعش سے نظریاتی اثر کے شواہد ملے ہیں، مگر مکمل نیٹ ورک کی تصدیق باقی ہے
✔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غلط معلومات، نفرت انگیزی اور بغیر تحقیق کے الزامات معاشروں کو مزید تقسیم کرتے ہیں۔ سچائی تک پہنچنے کے لیے معتبر ذرائع اور سرکاری تحقیقات پر ہی اعتماد ضروری ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !