سمجھنے اور جاننے کی دعوت

علم کی بنیاد بے چینی ہے: سوال، جستجو اور یقین کا فکری سفر

گیارہ دسمبر 2025 کی وہ دل آویز صبح تھی جب لیسٹر کی پُرسکون اور متفکر فضاؤں نے ہمیں اپنے آغوش میں یوں لیا جیسے کوئی پیرِ دانا اپنے کم سن مرید کو پہلی بار اسرارِ حکمت کی پرتیں کھول کر دکھانا چاہتا ہو۔ اس شہر کی ہوا میں ایک لطیف سنجیدگی ہے، اور اس کے سکوت میں ایک ایسی معنویت چھپی ہوئی ہے جو انسان کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
انہی فضاؤں میں چار روزہ علمی اعتکاف کی محفل سجی، اور معہد السلام کے نوجوان طلبہ و طالبات کے سامنے میں نے وہ حقیقت بیان کی جو علم کی بنیاد ہے؛ وہ حقیقت جس کے بغیر نہ فکر پروان چڑھتی ہے، نہ ذہن میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ علم کی اصل بنیاد قناعت نہیں بلکہ عدم قناعت اور بے اطمينانى ہے، سکون نہیں بلکہ جستجو ہے، جواب نہیں بلکہ سوال ہے۔ وہ مقدس بے چینی جو دل کو تھکا دیتی ہے مگر روح کو بیدار کرتی ہے؛ جو ظاہر میں اضطراب ہے مگر باطن میں اطمینان کا چراغ۔
یہ بے چینی کسی بیمار دل کی گھبراہٹ نہیں، نہ وہم و خیال کی دھند ہے؛ یہ تو اُن عقلوں کی سرشت ہے جن پر تہذیبوں کا دارومدار رہا ہے۔ سچا عالم وہ ہے جو جاده عام پر قانع نہیں ہوتا، جو محض جواب سن کر مطمئن نہیں ہوتا، جو حقیقی علم تک پہنچنے کے لیے جواب کی تہوں میں چھپی علتوں کو تلاش کرتا ہے۔ انسانی تہذیب کی عمارت انہی بے چین ارواح نے اٹھائی جو راحت کى نہیں، بلکہ حقیقت کى متلاشی تھیں؛ جو آرام کى نہیں بلکہ راه نور کى مسافر تھیں۔ یہی بے چینی ہے جو انسان کو زمین سے آسمان تک سفر کرنے کى ہمت دیتی ہے۔
اسی جستجو کا پہلا درخشندہ مینار خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ ہیں۔ وہ ایمان کے امام اور یقین کے شہسوار ہیں، مگر ربِّ کائنات سے عرض کرتے ہیں: رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى۔ یہ سوال شک کا نتیجہ نہیں بلکہ یقین کی بلند ترین چوٹی پر پہنچنے کی آرزو ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی جراتِ سوال ہمیں بتاتی ہے کہ اطمینان تحقیق سے پیدا ہوتا ہے، اور سوال وہ چراغ ہے جس سے حقیقت کی روشنی پھوٹتی ہے۔ جب یقین کے بادشاہ سوال کرتے ہیں، تو طالبِ علم کے لیے سوال سے بھاگنے کا راستہ کہاں باقی رہتا ہے؟
فکرِ مغرب میں یہی بے چینی سقراط کى شكل مجسم میں ہو کر سامنے آتی ہے۔ ایتھنز کی گلیوں میں وه ہر قدم پر سوال كرتا تھا، وہ سوال جس سے ذہن بیدار ہوتا ہے، روح جاگتی ہے اور انسان ظواہر سے نکل کر حقیقت کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے۔ بعد میں دیسکارٹ نے اس بے چینی کو ایک اور ڈھب دیا۔ اس نے ہر چیز پر شک کیا، یہاں تک کہ اپنے وجود پر بھی، تاکہ یقین کی بنیاد زمانوں کے تغیرات سے بے نیاز ہو جائے۔ اور اس شک نے علم کی دنیا میں ایک نیا باب کھولا جس کی روشنی آج تک قائم ہے۔
مگر جب نگاہ اپنے اسلامی ورثے پر اٹھتی ہے تو بے چینی کی سب سے حسین، متوازن اور باوقار مثالیں وہاں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ امام بخاری و مسلم نے احادیث کو محض جمع نہیں کیا بلکہ اس کی جانچ، اس کی تہہ در تہہ تحقیق، اور سند کے ہر حرف پر غور کی وہ عمارت کھڑی کی جس کی مثال انسانی تاریخ پیش نہیں کرتی۔ کسی ایک لفظ کے لیے سفر در سفر، کسی ایک راوی کے لیے راتوں کی محنت، یہ سب اسی بے چینی کا ظہور تھا جس نے صحیحین کو امت کے تاج کا درجہ دیا۔
سیبویہ نے عربی زبان کو محض قواعد کا مجموعہ بنا کر نہیں چھوڑا؛ اس نے اس کی روح کو پہچانا، اس کی منطق کو بیان کیا، اور اس کے اسرار کو ایسی ترتیب دی کہ آج تک اہلِ زبان اس کے نام کے آگے ادب سے سر جھکاتے ہیں۔
ابنِ سینا کی بے چینی نے طب و فلسفہ دونوں میں ایک نئی دنیا آباد کی۔ مسئلہ اس کے سامنے آتا تو وہ اسے نمٹائے بغیر دم نہ لیتا، یہاں تک کہ وہ مسئلہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا۔ الشفا اور القانون اسی بے قرار جستجو کے آثار ہیں۔
غزالی کی بے قراری انہیں علمِ کلام کی مناظرانہ دنیا سے فلسفہ کی پیچیدہ وادیوں اور پھر تصوف کی گہرائیوں تک لے گئی۔ المنقذ من الضلال آج بھی زندہ ثبوت ہے کہ ہر بے چینی گمراہی نہیں ہوتی؛ بعض بے چینیاں ہدایت کا نور بنتی ہیں۔
ابن الہیثم نے روایت سے اوپر اٹھ کر تجربے کی بنیاد پر بصریات کی دنیا روشن کی، اور ابن رشد نے فلسفے کی حفاظت کو اپنا فرض جانا، تاکہ عقل کا چراغ کسی تعصب کی آندھی سے بجھ نہ جائے۔
اور پھر شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی مثال ہے، وہ عظیم مرد جو عقل و نقل کے درمیان موجود غلط فہمیوں کی دھول صاف کرنے کے لیے اٹھا۔ اسے گوارا نہ تھا کہ وحی کو یونانی منطق کی زنجیروں میں جکڑ دیا جائے۔ چنانچہ اس نے الرَّدّ علی المَنطِقیین میں منطق کے بے بنیاد سہارے توڑ دیے، اور درء تعارض العقل والنقل میں ثابت کیا کہ عقلِ صریح اور نقلِ صحیح میں کبھی تعارض نہیں ہوتا۔ اگر کہیں اختلاف دکھائی دیتا ہے تو وہ انسان کی کم فہمی یا غلط تاویل کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ حقیقت کی کوئی کمی۔
یہ سب ہستیاں ہمیں ایک ہی بات سکھاتی ہیں: علم اُنہیں ملتا ہے جو بے چین ہوتے ہیں، حقیقت اُنہیں ملتی ہے جو سوالوں سے گھبراتے نہیں بلکہ انہیں سینے سے لگاتے ہیں۔
میں نے معہد السلام کے نوجوانوں سے عرض کیا کہ تمہارا زمانہ معلومات کے انبار سے بھرا ہوا ہے، مگر تحقیق کی حرارت سے محروم۔ تمہیں چاہیے کہ وہی بات کہو جو اولین قافلوں نے کہی تھی: "یہ جواب ابھی کافی نہیں؛ میں حقیقت کا طالب ہوں، جب تک حقیقت خود سامنے نہ آ جائے۔”
کیونکہ بے چینی بظاہر اضطراب ہے، مگر حقیقت میں اطمینان کی شاہراہ ہے۔ سوال حجاب نہیں؛ چراغ ہے۔ اور یقین اسی چراغ کی روشن کرن۔
جو تلاش کرتا ہے، وہ آخرکار پا لیتا ہے؛ اور جو جستجو کے سفر میں قدم رکھتا ہے، اس پر حق کے دروازے ضرور کھلتے ہیں۔

عربى زبان وادب كى تعليم

قلمکار : ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے