روش دہر كا ہر نقش پكارے گا مجهے
يہ نہ سمجهو كه مجهى تكـ مرا افسانہ ہے
دار العلوم ندوة العلماء میں میرا پہلا سال تھا، وہ سال جو آج بھی یادوں کے افق پر دھندلی روشنیوں میں جھلملاتا ہے، انہی ایام میں میں نے دو جلیل القدر حسنی بزرگوں کو اکثر ایک ساتھ آتے جاتے دیکھا، ایک تھے مولانا محمد الحسنیؒ اور دوسرے مولانا محمد واضح رشیدؒ، دونوں کی وجاہت، دونوں کا وقار، اور دونوں کے چہروں کی نورانی تمکنت، گویا دو مشعلیں، يا ایک ہی روشنی کى دو کرنیں ہوں، میں بارہا دیکھتا رہا، مگر یہ امتیاز کبھی نہ کر سکا کہ ان میں محمد الحسنی حسنی کون ہیں اور واضح رشید کون۔
وہ سال ابھی اپنے انجام کو نہ پہنچا تھا کہ ایک روز دِل دہلا دینے والی خبر پہنچی: مولانا محمد الحسنیؒ کم عمری میں اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے، دِل جیسے ٹھہر گیا، نگاہیں بے حس ہو گئیں۔ ابھی تو پہچاننے کا لمحہ بھی نہ آیا تھا کہ وہ افقِ جاوداں کے مسافر بن گئے۔ اب تو شرافت، بلند فکر اور لطیف ادب میں ان کے توام بهى راہى ملكـ بقا ہو گئے۔ غمِ حسنین پايانے ندارد
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
ان کی متعدد تصانیف سے تعارف نصیب ہوا، مگر "الإسلام الممتحن”، آہ! وہ کتاب دل پر ایسا نقش ثبت کر گئی کہ وقت کی گرد بھی آج تک اسے مٹانے میں ناکام رہی، ہر صفحے میں ایک آگ، ایک روشنی، ایک درد تھا، جو روح میں اترتا چلا گیا۔
مولانا محمد الحسنیؒ اُن جلیل القدر اربابِ علم و قلم میں سے تھے جن کی ذات میں علم کی جلالت، فکر کی گہرائی، اور روحانیت کی لطافت یکجا تھی، وہ علم و عرفان کے پیکر، ادب و بلاغت کے امام، اور اخلاص و ایمان کے چراغ تھے، ان کی شخصیت میں ایسا امتزاج تھا کہ گویا فکر، ادب اور صلاح وتقوى ایک ہی وجود میں سمٹ آئے ہوں، انہوں نے لکھنؤ کی علم پرور فضا میں آنکھ کھولی، وہیں دینی ذوق نے سانس لی، اور عربی و فارسی کے جمال نے ان کے بیان کو صیقل کیا، ان کے والدِ ماجد اور عمِ محترم حضرت مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کی تربیت نے ان کے شعور کو علم کی روشنی اور ایمان کی حرارت سے منور کیا۔
مولانا مرحوم نے اپنے چچا سے صرف علم نہیں اخذ كيا، بلکہ ادبِ عربی کا ذوق، فکر کی تہذیب، اور اسلوبِ تحریر کی روح بھی حاصل کی، ان کے یہاں نثر محض اظہار کا وسیلہ نہ تھی، بلکہ دعوت و اصلاح کا ہتھیار تھی، وہ ایسے عالم تھے جن کے علم میں بصیرت کی روشنی اور بصیرت میں تاثیر کی حرارت گھلی ہوئی تھی۔
پچاس کی دہائی کے اوائل میں جب فکری بیداری کے نئے چراغ روشن ہو رہے تھے، مولانا نے "المنتدی الأدبی” کے نام سے ایک علمی و ادبی انجمن قائم کی، یہ محفلیں علم و فکر کے نخلستان بن گئیں، جہاں اربابِ قلم کے دل و دماغ کی خوشبو بکھرتی تھی، انہی علمی نشستوں سے ایک فکری مجلہ نکالنے کا خیال پیدا ہوا، اور مولانا نے اسے حقیقت کا روپ دے دیا۔ اپنے رفیقِ علم و قلم مولانا سعید الاعظمیؒ کے تعاون سے ۱۳۷۵ھ (۱۹۵۵ء) میں عربی مجلہ "البعث الإسلامي” جاری کیا:
در آں ديار كه گوہر خريدن آئين نيست
دكاں كشوده ام وقيمت گہر گويم
وہ مجلہ جس نے برصغیر کی علمی فضا کو عرب دنیا کی فکری لہروں سے ہم آہنگ کر دیا۔ پہلے ہی شمارے میں ان کی افتتاحیہ نے اس رسالے کے مزاج اور مشن کو واضح کر دیا: "یہ مجلہ اُن ادبی رسائل کی طرح نہیں جو محض تفننِ طبع کے لیے نکلتے ہیں؛ یہ ایک دعوت، ایک عقیدہ، ایک پیغام اور ایک صدا ہے۔” یہ جملہ مولانا الحسنیؒ کی فکری قامت کا آئینہ دار ہے، انھوں نے ادب کو مقصدِ حیات سے جوڑ دیا، اور قلم کو اصلاحِ امت کا علمبردار بنا دیا، ’’البعث الإسلامي‘‘ نے عرب و عجم کے درمیان فکری وحدت کی ایک نئی راہ ہموار کی اور اسلامی احیاء کے سفر میں سنگِ میل بن گيا۔
ان کی علمی و ادبی میراث میں کئی گراں قدر تصانیف شامل ہیں، مگر ان کے فکری سرمایے کی روح، ان کی جاوداں تصنیف "الإسلامُ المُمتَحَن” ہے، ایک ایسی کتاب جو اپنے معنی میں بھی آزمائش کا مفہوم رکھتی ہے، اور اپنے پیغام میں بھی اہل ایمان کی آزمائش کا درس دیتی ہے، مولانا کے نزدیک اسلام محض عقائد و عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک، ہمہ گیر نظامِ حیات ہے، جو ہر دور میں کسی نہ کسی صورتِ امتحان سے گزرتا ہے، کبھی میدانِ جنگ میں، کبھی فلسفے کی بحث میں، اور کبھی تہذیبوں کے تصادم میں، مگر ہر بار یہ دین سرخرو ہو کر ابھرتا ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ایمانِ صادق اور یقینِ کامل پر ہے۔
یہ تصنیف دراصل بیسویں صدی کے فکری زوال کا دردناک تجزیہ ہے، وہ صدی جب عرب قومیت، مغربی مادیت، اور لا ادریت کے طوفان نے ایمان کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کی، ایسے نازک وقت میں مولانا الحسنیؒ نے علم کے چراغ کو درد کے تیل سے جلایا، اور اسلام کی فکری اساس کو ازسرِ نو زندہ کیا، انھوں نے اہلِ عرب کو ان کے تاریخی مقام، اخلاقی ذمہ داری، اور دینی پیغام کی یاد دلائی۔
ان کا قلم ردِّ عمل کا نہیں، بلکہ تعمیرِ نو کا علمبردار تھا، ان کی تنقید شعلہ نہیں، چراغ تھی، جو جلتا بھی تھا، مگر روشنی دیتا ہوا۔ ’’الإسلامُ المُمتَحَن‘‘ عقل کو مطمئن کرتی ہے اور دل کو جلا بخشتى ہے۔ اس میں استدلال بھی ہے اور وجد بھی، منطق بھی ہے اور ایمان کا سوز بھی۔ ان کے یہاں امام غزالیؒ کی حکمت، سید قطبؒ کی حرارت، اور ابوالحسن ندویؒ کی روحانیت، فکر و ادب ایک ہی رواں دھارے میں بہتی نظر آتی ہے، وہ عقل و وجدان، فکر و ایمان، اور علم و ادب کے درمیان ایسا نادر توازن پیدا کرتے ہیں کہ نہ فکر خشک رہتی ہے نہ جذبہ بے قابو۔
ادبی اعتبار سے ’’الإسلامُ المُمتَحَن‘‘ عربی نثر کے اس اعلیٰ معیار کی نمائندہ ہے جس تک پہنچنا محض قلم نہیں، بلکہ دل و دماغ کی یکجائی کا کارنامہ ہے، اس كا ہر جملہ گويا فردوس گوش اور جنت فكر وہوش ہے۔ اگر علامہ شبلیؒ، مولانا عبدالحی الحسنیؒ اور علامہ سید سلیمان ندویؒ کے بعد عربی زبان کے نمائندہ ندوی ادباء کی فہرست مرتب کی جائے، تو بلا تردید سرِ ورق پر مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا نام آئے گا، ان کے بعد مولانا مسعود عالم ندویؒ اور مولانا ناظم ندویؒ کا درجہ ہے، اور پھر وہ قافلہ رواں رہتا ہے جس نے ندوہ کی عربی نثر کو عالمی ادب کے افق تک پہنچایا، اسی قافلے میں مولانا محمد الحسنیؒ کو ان کے جلیل القدر عمِ محترم مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے فکری و ادبی تسلسل، بلکہ تکملہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی نثر گویا ندوی روایت کا نیا موسم ہے: وہی فکری عمق، وہی ایمانی حرارت، مگر ایک نئی تازگی اور ایک نیا رنگِ بیان۔
’’الإسلامُ المُمتَحَن‘‘ اس تسلسل کی درخشاں کڑی ہے، اس کی ہر سطر قرآن و سنت کی خوشبو سے معطر، ہر جملہ ایمان کی تازگی سے لبریز، اور ہر صفحہ دعوتِ عمل کے نور سے منور ہے۔ یہ کتاب محض ایک فکری تصنیف نہیں، بلکہ روحِ ایمان کی تپش اور ذہنِ عصر کی آزمائش کا مکالمہ ہے۔ اس میں علم کی وقار انگیز گہرائی بھی ہے اور جذبے کی حرارتِ ایمانی بھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ علامہ ندویؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين” کے بعد اسلامی فکر کی تاریخ میں سب سے زیادہ تاثیر انگیز، بیدار گر اور ایمان افروز تصنیف ’’الإسلامُ المُمتَحَن‘‘ ہے، تو یہ کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ ایک حقیقتِ تابندہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس نے نثر کو عبادت کا درجہ دے دیا، اور قلم کو فکر کی محراب میں سجدہ گزار کر دیا۔
یہ کتاب مولانا الحسنیؒ کے فکری ورثے کا درخشاں مینار ہے، ایک ایسی تحریر جو بیدار ذہن کو سوچنے اور زندہ دل کو عمل پر آمادہ کرتی ہے، یہ کتاب نہ صرف ایک علمی شاہکار ہے بلکہ ایک روحانی وصیت بھی۔ مولانا گویا ہر صفحے پر لکھتے چلے گئے کہ: "اسلام کا امتحان ہمیشہ جاری ہے، مگر جو اس امتحان میں ثابت قدم رہے، زمانہ ان کے نام کو فراموش نہیں کرتا۔”
یہ کتاب میں نے بارہا پڑھی اور ہر بار دل و دماغ میں ایک نئی روشنی جاگی۔ ابتدا ہی میں اس کی عالی مقام نثر نے مجھے مسحور کر دیا، مولانا محمد الحسنیؒ کی نثر میں وہی آہنگ، وقار، اور سوز موجود ہے جو عظیم ادباء کی شان ہوتی ہے؛ جملوں میں صوتی ہم آہنگی، معنی میں فکری رفعت، اور بیان میں روحانی ارتعاش ایسی شدت کے ساتھ محسوس ہوتا ہے کہ قاری کے دل کی دھڑکن اور اس کے ضمیر کی گہرائیاں ایک ساتھ جاگ اٹھتی ہیں۔ ان کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ گویا منبرِ فکر سے امت کے دلوں کو مستقیم خطاب کر رہا ہو، ہر سطر میں تعلیم، نصیحت، اور دعوت کی روشنی جھلک رہی ہو۔ وہ لکھتے نہیں تھے، بلکہ اپنے قلم کے ذریعے قلبوں میں چراغاں کرتے، روحوں کو بیدار کرتے، اور ضمیر کو جلا بخشتے تھے۔ اور یہی ان کی تحریر کی وہ ابدى عظمت ہے جو وقت کے تمام دھندلکوں اور زمانوں کے زوال میں بھی کبھی ماند نہیں پڑتی:
نغمه كاروں كے لئے ناخن مضراب كہاں
سينہ ساز سے اٹهى نہ صدا ميرے بعد
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور ندوہ کی نئی نسل میں ایسے روشن ضمیر پیدا کرے جو اس قافلے کا حصہ بننے کے لیے رات و دن یکساں محنت و لگن سے اپنے آپ کو وقف کر دیں، تاکہ وہ علم و فکر کے اس مقدس مشن کو آگے بڑھائیں اور علم و ایمان کی شمع کو ہمیشہ روشن رکھیں۔
قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
آکسفورڈ لندن
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !