بڑی حکمت بھری اور روح پر اثر نگار بات ہے کہ انسان کو موت کے آخری لمحے تک طالبِ علم رہنا چاہیے، جو شخص اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کر دے، ہر نوآموز خیال یا نئی دریافت کو شاذ و بدعت قرار دے، اور ہر مسئلے میں صرف آخری تحریروں یا مقلدین کی کتابوں کو حجت سمجھے، وہ دراصل خداوندِ کریم کی عطا کردہ نعمتِ عقل و فہم کی حقارت کر رہا ہے، عقل و فکر وہ عظیم دولت ہے جو فقط جستجو، تحقیق اور غور و فکر کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے، علم ایک بحرِ بے کنار ہے، جس کی موجیں دلیل و برہان کی کشتی پر چلتی ہیں۔ اگر پوری دنیا بے دلیل بات کرے تو وہ صریح گمراہی ہے، لیکن اگر ایک انسان دلیل کے چراغ سے روشنی لے، تو وہی تنہا حق پر ہے، وہی صادقين کی جماعت ہے، اور وہی علمی جمہوریت کا مظہر ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والوں کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مکمل تعلیم یافتہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی فرماتے تهے: "فارغ ہونا علم کی تکمیل نہیں، بلکہ یہ سمجھو کہ تمہیں علم کی کنجی عطا کی گئی ہے”، یہی کنجی تمہیں نئے دروازے کھولنے کی دعوت دیتی ہے، نئی وادیوں میں قدم رکھنے کی جرات عطا کرتی ہے، اور یاد دلاتی ہے کہ علم کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا، اگر طالبِ علم اس کنجی سے استفادہ نہ کرے، تو وہ اپنے علم کی حقیقی طاقت سے محروم رہ جاتا اور ذہنی و روحانی جمود میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
جب میں آکسفورڈ آیا، تو حضرت مولانا عليه الرحمة نے مجھے نصیحت فرمائی: "اپنا دماغ بند نہ کرنا، اہلِ مغرب سے بھرپور استفادہ کرنا، کیونکہ اسی علم سے تم مقابلے کے لائق ہو سکو گے”، میں نے حتى المقدور ان کی نصیحت پر عمل کیا، محققین کے سیمیناروں میں شرکت کی، ان کی تصانیف کا مطالعہ کیا، اور علمی مباحثوں میں حصہ لیا، اس عمل نے مرعوبیت و تعصب کو دور کر دیا اور یہ واضح کر دیا کہ ہر قوم کے پاس قیمتی تجربات اور روشن خیالات موجود ہیں، جن سے ہر طالبِ علم کو استفادہ کرنا چاہیے۔ علم کا یہ بحرِ لامحدود تمام انسانوں کے لیے مشترک خزانہ ہے، اور جو طالبِ علم اس سے محروم رہے، وہ اندھیروں میں محصور رہتا ہے۔
یہ روحِ طلب و تحقیق مشرق و مغرب کے عظیم علما و مفکرین کی زندگی میں جلی نظر آتی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ، اپنے زمانے کے امام و فقیہ، ہمیشہ اپنے اساتذہ کے حلقوں میں بیٹھتے، امام شافعیؒ نے مکہ، مدینہ، یمن اور مصر کے طول و عرض میں سفر کیا، صرف علم کی طلب میں، اور اپنی زندگی کو تحقیق و مطالعہ کی آگ میں جلا دیا۔ امام بخاریؒ نے ہزاروں میل کا سفر کیا، سختیوں و غربت کو سہتے ہوئے ہر حدیث کی تحقیق کی، اور اپنی زندگی کو علم کی خدمت میں وقف کر دیا۔ ان کے سفر و جدوجہد نے یہ واضح کر دیا کہ علم کو حاصل کرنے کے لیے صبر، مشقت اور لگن لازمی ہیں۔
بعد کے ادوار میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ باوجود اپنے بلند علمی مقام کے، وہ مسلسل مطالعہ، تحقیق اور تجدید فکر میں مشغول رہے۔ انہوں نے حجاز کا سفر کیا، علمائے حرمین سے استفادہ کیا، اور امت کے فکری اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیا۔ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ کبھی اپنے علم پر غرور نہ کرتے، بلکہ ہر لمحہ سیکھنے اور سمجھنے کے لیے تیار رہتے۔
مغرب کے اہلِ دانش بھی اسی روش کے پیروکار رہے۔ سقراط نے فرمایا: "میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا”، اسی عاجزی نے اسے فلسفے کا بانی بنایا۔ اس کے شاگرد افلاطون اور پھر ارسطو نے دلیل، مشاہدہ اور سوال کی بنیاد پر علم کی عمارت تعمیر کی۔ صدیوں بعد اسحاق نیوٹن نے قوانینِ حرکات و کشش دریافت کیے مگر اپنی زندگی کے آخر میں کہا: "میں تو سمندر کے کنارے کھیلتے ہوا ایک بچہ ہوں، اور حقیقت کا عظیم سمندر ابھی میرے سامنے ہے”، البرٹ آئن سٹائن نے بھی اپنی زندگی کے آخری دنوں تک تحقیق و جستجو کا سفر ترک نہ کیا، اور فرماتے رہے کہ تخیل علم سے بڑھ کر ہے، کیونکہ علم محدود ہے، مگر تخیل لامحدود۔
یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ سب سے بڑے علما وہ ہیں جو ہمیشہ طالبِ علم رہے۔ انہوں نے علم کو عبادت کا درجہ دیا، تحقیق و جستجو کو زندگی کا نصب العین بنایا، اور مطالعہ و محنت کی مشقت سے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔ انہوں نے دکھایا کہ علم کا راستہ آسان نہیں، بلکہ صبر، لگن اور استقامت کا متقاضی ہے۔
آج کے زمانے میں، جب ڈگری کو علم اور سند کو حکمت سمجھ لیا جاتا ہے، یہ سبق ہر طالبِ علم کے لیے ازحد ضروری ہے کہ علم کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حقیقی علم عاجزی، سوال، تحقیق اور جستجو کا نام ہے۔ وہ دل جو طلب سے خالی ہو جائے، وہ بوجھل ہو جاتا ہے، اور وہ دماغ جو تحقیق کی روشنی سے محروم ہو، اندھیروں میں محصور ہو جاتا ہے۔
یقیناً، جو انسان زندگی بھر طالبِ علم رہے، وہ کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، اور جس دل میں جستجو کی روشنی قائم رہے، وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ جو شخص علم کے اس بحر میں مستغرق ہو، وہ دنیا کی فانی دھوپ و سایہ سے ماورا، روحانی و فکری بلندی کو پا لیتا ہے، ہر لمحہ اپنے علم کو نکھارتا، اور اس کی روشنی میں اپنے دل و دماغ کو روشن کرتا ہے۔
یہ سطور ہر مخلص طالبِ علم کی ہمت افزائی کے لیے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے، ہمیں علمِ نافع عطا کرے، اور ہمیں صالح و متقی بنائے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !