خدا رحم کرے موجودہ دور کے تعلیم یافتہ جاہل حکمرانوں پر کہ جنہوں نے اپنے ظلم و بربریت سے دنیا میں جنگ و جدال کا ایک لا امتنا ہی سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اسرائیل فلسطین کا قضیہ ہو یا روس و یوکرین کا مسئلہ شہر خموشاں کی چار دیواروں میں کیا جوان کیا بوڑھا، کیا خواتین کیا بچے ہر کسی کی صدائیں اور پکار گونجتی سنائی دیتی ہیں.
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
2012 سے برما میں چل رہی ظالموں کی حیوانیت اور درندگی پر دنیا خاموش تماشہ بیں بنی رہی،
1947 سے تا حال ظالم اسرائیل کی بربریت اور قتل و غارتگری پر عدل و انصاف اور حقوق انسانی کا علمبردار تنظیمیں صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی کار خیر انجام نہ دے سکیں اور نہ دے رہی ہیں،
جبکہ یہی وہ تنظیمیں اور انصاف کے علمبردار ہیں کہ اسلامی ممالک یا کسی مسلمان کی آنکھ کا تنکا بھی ان کو شہ تیر نظر آتا ہے اور یہ لوگ ہائے توبہ مچانے لگتے ہیں بالخصوص مسلمانوں کے تیں یہود و نصاری نے جو محاذ کھول رکھا ہے وہ ناقابل بیاں ہے
کبھی مسلمانوں کو جذباتی طور پر پریشان کر کے ان کی جان و مال پر حملہ کرنے کے لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کارٹون بنا کر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچا نی کی کوشش کرتے ہیں کبھی ہماری مقدس کتاب قرآن مجید کو سڑکوں پر چوراہوں پر جلاتے ہیں، کبھی ہماری مائیں امہات المومنین پر فلم بنا کر نہیں ہمیں برانگیختہ کرتے ہیں اور کبھی ظلم و بربریت سے ہمارے معصوم بچوں و خواتین کا ناحق خون بہاتے ہیں،
کیا ہم نے کبھی نعوذ بالله حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی ؟
کیا ہم نے ان مقدس انبیاء علیهم السلام کی تصویر پر بنا کر ان کی شان رسالت میں توہین کی ؟
کیا ہم نے تورات و انجیل آسمانی کتابوں پر کوئی لب کشائی کی نعوذ بالله جبکہ اس کے برعکس ہمارا ایمان ہے کہ جو شخص ان مقدس انبیاء کرام پر ایمان نہیں رکھتا اور آسمانی کتابوں کے نزول کی تصدیق نہیں کرتا وہ شخص مومن تو کجا مسلمان بھی نہیں کہلا سکتا،
اسرائیل جو مسلسل بمباری کر کے لاکھوں بے قصور اور معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے مگر مجال ہے کہ انسانیت کے علمبردار ظالم اور جابر کے خلاف کوئی کاروائی کر سکیں یا اس کو ظلم سے روک سکے،
ساری دنیا اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل فلسطین پر جبرا قابض ہو گیا ہے اور مسلسل قتل و غارتگری کر کے معصوم فلسطینیوں کا خون بہا رہا ہے مگر مجال ہے کہ دنیا اسرائیل کو سبق سکھائیں یا فلسطینی عوام کو ایک خود مختار اور آزاد ملک مہیا کرا سکیں،
ہم سے تو وہ عرب کے جاہل لوگ کئی گنا اخلاقی اور انسانیت کے اعتبار سے بہتر نظر آتے ہیں کہ جب بھی سماج میں حد سے زیادہ ظلم وہ بربریت بڑھنے لگتی تو سارے لوگ مل بیٹھ کر ظالم کے خلاف کاروائی کرتے یا مظلوم کی بھرپور مدد فرماتے،
حلف الفضول کا واقعہ یاد کیجیے
قبیلہ بنو زبید کا ایک شخص مال لے کر مکہ آیا عاص بن وائل سے اپنا تجارتی مال فروخت کیا عاص بن وائل نے قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا شروع کر دیا، چنانچہ اس مسافر نے اس وقت جب قریش کو آواز دی کہ ایک مظلوم شخص کی پونجی لے لی گئی ایک ایسے شخص کی جو اپنے وطن اور بال بچوں سے دور ہے اور حرم محترم کی وادی میں مقیم ہیں، رحم دل لوگ اس فریاد سے مضطرب ہوگئے اور قریش مکہ کے چند اہم خاندان عبداللہ بن جدعان کے مکان میں جمع ہو کر آپس میں معاہدہ کیا کہ مکہ میں کوئی بھی مظلوم ہو خواہ وہ مکہ کا رہنے والا ہو یا مکہ کے باہر سے آیا ہو، ہم سب مل کر اس کی مدد کریں گے اور ظالم کو حق دینے پر مجبور کریں گے اس معاہدے کا نام حلف الفضول رکھا گیا
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ نبوت میں بھی آپ اس تنظیم کو یاد کرتے اور فرماتے تھے
لقد شهدتُّ حلفا في دار عبد الله ابن جدعان ما أحبّ أنّ لي به حمر النّعم، و لو دعيت به لأجبت (بیهقی، البدایة النهاية لابن کثیر: 3/457)
میں نے عبد اللہ ابن جدعان کے گھر میں ایک معاہدہ دیکھا ہے، جس کے بدلے میں سرخ اونٹ بھی مجھے محبوب نہیں ہے، اور اگر اس معاہدے کی طرف مجھے بلایا جائے تو میں ضرور حاضر ہوں گا۔
قربان جاؤں میں اسلامی تعلیمات پر کہ مذہب اسلام نے نہ صرف لوگوں کو رشد وہدایت کی تعلیم دی بلکہ اپنے تعلیمات سے کرہ ارض کو امن و امان کا گہوارہ بنا دیا ،
أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى،
کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر ” سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے
( عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ : ” يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ، وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ، أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى عَجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا أَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى، (مسند احمد: مسند الأنصار، حدیث رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: 23489)
ابو نضرۃ کہتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایام تشریق کے درمیانی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی عجمی کو کسی عربی پر کسی سرخ کو سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر ” سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے کیا )
فرما کر عدل انصاف کا ایسا پیمانہ قائم کر دیا جس کے کوئی نظیر نہیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صالح اور پرامن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے سماج میں عدل و انصاف کو قائم کرنے پر اور ظلم و زیادتی کو روکنے کی بھرپور تاکید فرمائی
مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ (صحیح مسلم: کتاب الایمان، باب النهي عن المنكر من الإيمان: 49)
تم میں سے جوشخص منکر (ناقابل قبول کام) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے اوراگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے زبان سے اسے بدل دے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے (اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔
اور انصاف پرور بادشاہ و حکمراں کو جنت کی خوشخبری سنا فرمایا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّهِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ فِي عِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ فِي خَلَاءٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا، قَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا صَنَعَتْ يَمِينُهُ (بخاری: کتاب الاذان: باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاۃ: 660)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔
اسی طرح دوسری حدیث میں مذکور ہے
أَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ: ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُصَدِّقٌ مُوقِنٌ، وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ بِكُلِّ ذِي قُرْبَى وَمُسْلِمٍ، وَرَجُلٌ عَفِيفٌ فَقِيرٌ مُتَصَدِّقٌ (مسند احمد: اول مسند الکوفیین، حدیث عیاض بن حمار: 18340)
اہل جنت تین طرح کے ہوں گے ایک وہ منصف بادشاہ جو صدقہ و خیرات کرتا ہو اور نیکی کے کاموں کی توفیق اسے ملی ہوئی ہو دوسرا وہ مہربان آدمی جو ہر قریبی رشتہ اور مسلمان کے لئے نرم دل ہو اور تیسرا وہ فقیر جو سوال کرنے سے بچے اور خود صدقہ کرے
لہذا آیئں شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کا مزید جائزہ لیں اور دیکھیں کہ وہ اپنے متبعین کو کس قدر اخلاق کا پیکر بناتا ہے ،
اہل کفار کے ساتھ بھی عدل وانصاف کا حکم
صلح حدیبیہ میں کفار مشرکین نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا جس سے صحابہ کرام کو بہت تکلیف ہوئی اور انہوں نے مکہ جانے والے عام مسافروں کا راستہ روکنا چاہا تو رب العالمین نے فرمایا
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّ ٰمِینَ لِلَّهِ شُهَدَاۤءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا یَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰۤ أَلَّا تَعۡدِلُوا۟ۚ ٱعۡدِلُوا۟ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِیرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ (المائدة: 8)
رب العالمین کا فرمان ہے
اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالی تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
فرمان خداوندی کہ مسلمانو تم عدل و انصاف کو قائم کرو اور مشرکین کی طرح نہ بنو کیا اس سے بڑھ کوئی نظیر مل سکتی ہیں
عام انسانوں اور خویش و اقارب کے درمیان عدل و انصاف کا حکم
رب العالمین کا فرمان ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّ ٰمِینَ بِٱلۡقِسۡطِ شُهَدَاۤءَ لِلَّهِ وَلَوۡ عَلَىٰۤ أَنفُسِكُمۡ أَوِ ٱلۡوَ ٰلِدَیۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِینَۚ إِن یَكُنۡ غَنِیًّا أَوۡ فَقِیرࣰا فَٱللَّهُ أَوۡلَىٰ بِهِمَاۖ فَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلۡهَوَىٰۤ أَن تَعۡدِلُوا۟ۚ وَإِن تَلۡوُۥۤا۟ أَوۡ تُعۡرِضُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِیرࣰا (النساء: 135)
اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ داروں عزیزوں کے، وہ شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے، اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا، اور اگر تم نے کج بیانی کی یا پہلو تہی کی، تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالی اس سے پوری طرح باخبر ہے
اپنوں اور غیروں اور عوام الناس کے مابین عدل وانصاف کو قائم کرنے کی اہمیت کا اندازہ آپ ہمارے ملک کی موجودہ صورتحال سے لگا سکتے ہیں کہ
آج کل وطن عزیز ہندوستان میں بابا امبیڈکر کو لے کر ایک طوفان کھڑا ہو گیا کیونکہ وزیر داخلہ جناب امت شاہ صاحب نے پارلیمنٹ میں جس طرح بابا امبیڈکر کا ذکر کیا اس سے بابا امبیڈکر کے لاکھوں مداح اور کروڑوں ہندوستانیوں کو سخت تکلیف پہنچی اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں، دھرنا دے رہے ہیں حتی کہ بعض لوگ وزیر داخلہ جناب امت شاہ کا استعفیٰ بھی مانگ رہے ہیں
میڈیا کی ایک رپورٹر نے بابا امبیڈکر کے مداح سے سوال کیا کہ وزیر داخلہ نے کیا غلط کہا وزیر داخلہ نے تو صرف اتنا کہا نا کہ بابا امبیڈکر کا نام لینا اج کل ایک فیشن ہو گیا ہے اتنی مرتبہ اگر لوگ بھگوان کا نام لیتے تو ساتوں جنم کے لیے سورگ (جنت) میں داخل ہو جاتے
اس سوال کے جواب میں جو بات ان صاحب نے کہی وہ واقعی ہم کو حیرت زدہ کرتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ واقعی مذہب اسلام ہمارے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں صاحب نے کہا کہ دلیتوں نے ہزاروں برس بھگوان کی پوجا ہی کی مگر اس کے باوجود ایک چپراسی، ایک کلرک اور نہ ایک زمیندار کی پوسٹ دلتوں کو ملی ،
بابا بھیم راؤ امبیڈکر ہی نے دلتوں کے اور ہمارے حقوق دلائیے ،وہ ہمارے بھگوان ہیں لوگ دلیلتوں کی پرچھائی سے ڈرتے تھے ، برداشت نہیں کرتے تھے، تالاب کا پانی نہیں پی سکتے تھے، کنویں کا پانی نہیں پی سکتے تھے دبے کچلے لوگوں کے لیے بابا بھیم راؤ امبیڈکر صاحب بھگوان ہیں جنہوں نے دلتوں کا آرکشن دلایا، دلتوں کو زمین دلائی ، یقینا بابا ایک بہت ہی بڑی اور عظیم شخصیت ہے جنہوں نے ذات پات اور امیری غریبی کو ختم کر کے غریبوں اور مظلوموں کے حق میں آواز بلند کی اور ایسا دستور بنایا کہ ہر کوئی آدمی آزادی کے ساتھ اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی بسر کر سکے،،
یہ ایک تمانچہ ہے ان لوگوں پر جو آئیے دن اسلام کی تعلیمات پر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر اعتراض کرتے ہیں،
آج اکیسویں صدی کا یہ عالم ہے کہ ملک کی عوام بابا امبیڈکر کو یاد کرتی ہے جبکہ چودہ سو سال پہلے ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عدل و انصاف کا ایسا دستور بنایا جو تاقیامت تمام انسانیت کے لیے حرزِ جاں بنے گا ان شاءاللہ
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم کو صحیح معنوں میں قرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام انسانیت کو آپس میں بھائی چارہ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
آمین یارب العالمین
✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی، ہری ہر ، کرناٹک
استاذ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !