نوجوان عالم کا لڑکی سے محبت پر سوال اور شرعی جواب

لڑکی سے محبت

السلام عليكم : مولانا محمد اكرم ندوى صاحب مد ظله، مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔ میں نے ایک حدیث میں پڑھا ہے کہ جب کسی سے محبت ہو جائے تو اس کا اظہار کر دینا چاہیے۔ اسی حدیث کی روشنی میں سوچ رہا ہوں کہ اگر میں اپنی محبت کا اظہار کر دوں تو ممکن ہے کہ نکاح کی راہ ہموار ہو جائے۔ آپ سے اس بارے میں رہنمائی کی درخواست ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب:

جس حديث كا آپ نے حواله ديا ہے وه سنن ابو داود وغيره كى حديث ہے: عن المقدام بن معدي كرب وقد كان أدركه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا أحب الرجل أخاه فليخبره أنه يحبه” (جب کوئی شخص اپنے بھائی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے)۔

یہ حدیث، بلاشبہ اپنی جگہ ایک عظیم اخلاقی تعلیم پر مشتمل ہے، لیکن اس کا صحیح مفہوم سمجھنا ضروری ہے، اس حدیث میں جس محبت کے اظہار کی تلقین کی گئی ہے، وہ محبت فی اللہ ہے، یعنی وہ محبت جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، جیسے کسی مؤمن کی نیکی، عبادت، تقویٰ، علم، اخلاص، یا دعوتِ دین کے جذبے سے متاثر ہو کر دل میں محبت پیدا ہو جائے، اس قسم کی محبت کا اظہار کرنا مطلوب بھی ہے اور مستحسن بھی، کیونکہ اہل ایمان کے درمیان اخوت، مودّت، اور تعاون کا رشتہ مضبوط ہونا دین کا تقاضا ہے، ایسی محبت میں دنیاوی غرض شامل نہیں ہوتی، بلکہ یہ محبت اللہ کے لیے ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی اللہ کے ذمے ہوتا ہے۔

لیکن جو محبت ایک نوجوان مرد اور عورت کے درمیان پیدا ہوتی ہے، جس کا محرّک عمومی طور پر حسن، دلکشی، یا نفسانی میلان ہوتا ہے، وہ محبت نہ تو "محبت فی اللہ” کے زمرے میں آتی ہے، نہ ہی اس حدیث کی مراد میں شامل ہے، درحقیقت، ایسی محبت طبعی ہو سکتی ہے، مگر اس کا تقاضا یہ نہیں کہ فوراً اس کا اظہار کیا جائے یا کسی ذریعے سے اس کا پیغام محبوب تک پہنچایا جائے۔ یہ رویہ نہ صرف ناپختہ ہے بلکہ نتائج کے اعتبار سے بہت خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔

نکاح ایک عظیم، سنجیدہ اور باوقار معاہدہ ہے، جس کی بنیاد محبت پر نہیں بلکہ حقوق، ذمہ داری، اور عزت و احترام پر ہونی چاہیے۔ اگر محبت ہو جائے، اور واقعی دل میں نکاح کی نیت ہو، تو پہلا قدم عقل، مشورہ، اور تحقیق ہونا چاہیے۔ جس سے نکاح کی خواہش ہے، اس کی شخصیت، دین داری، فہم و شعور، خاندانی پس منظر اور مزاج کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔ محض جذباتی کشش یا حسنِ ظاہری کو بنیاد بنا لینا، بعد ازاں شدید پشیمانی اور ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں، تو اس محبت کو صبر، ضبط اور دعا کے دائرے میں رکھیں، اظہارِ محبت سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اس کا انجام ایک صالح، پائیدار اور بابرکت رشتہ بن سکتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ امکان ہو تو شریعت کی روشنی میں مناسب طریقے سے نکاح کی پیش قدمی کریں، مگر ہرگز جلد بازی نہ کریں۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ محض اظہارِ محبت سے دوسرا فریق بھی اس جذبے میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور پھر جو بات پہلے صرف آپ کے دل میں تھی، وہ دوسرے کے دل میں بھی سرایت کر جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر نکاح کی صورت ممکن نہ ہو تو یہ محبت ایک خطرناک، تکلیف دہ اور اذیت ناک مرض بن جاتی ہے، جو نہ صرف دل کو زخمی کرتی ہے بلکہ روح اور ایمان کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

یاد رکھیں، دو طرفہ محبت اکثر اوقات دو دھارى تلوار کی مانند ہوتی ہے، جو دونوں طرف کا نقصان کر دیتی ہے۔ عشق کی داستانیں، چاہے وہ لیلیٰ و مجنوں کی ہوں یا شیریں و فرہاد کی، ادب اور تخیل کے دائرے میں تو دلکش ہو سکتی ہیں، لیکن حقیقت کی دنیا میں ان سے نہ گھر آباد ہوتا ہے، نہ معاشرہ سنورتا ہے۔ تاریخِ انسانی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ صرف جذباتی محبت نے دو انسانوں کو دنیوی اور اُخروی فلاح سے ہمکنار کیا ہو۔ اکثر اوقات ایسی محبتیں محرومی، ندامت، یا گناہ کی طرف لے جاتی ہیں۔

لہٰذا اگر کسی سے محبت ہو جائے، تو اسے فوراً اظہار کا عنوان نہ بنائیں۔ عقل، شریعت اور مشورہ کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ اگر واقعی وہ رشتہ ممکن ہے، تو ولی، سرپرست یا خاندان کی شریعت کے مطابق راہ سے اس بات کو آگے بڑھائیں۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو، تو خاموشی، صبر، عبادت، اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اختیار کریں۔

سچ یہ ہے کہ حقیقی دو طرفہ محبت وہی ہے جو اللہ کے لیے ہو، اور اللہ کے دین کے لیے تعاون کی بنیاد پر قائم ہو۔ ایسی محبت انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور ایسی ہی محبت میں دائمی سکون ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے