امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا پر اضافی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔ ٹرمپ نے خاص طور پر انڈیا کی روس سے تیل کی خریداری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انڈیا نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو 25 فیصد ٹیرف کے علاوہ مزید محصولات لگائے جائیں گے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ نے اسے "غیر منصفانہ اور غیر معقول” قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا، اور کہا کہ روس سے تیل کی درآمدات توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ملکی مفادات کے لیے ضروری ہیں۔
بھارتی اپوزیشن، خصوصاً کانگریس کے رہنما جے رام رمیش اور راہول گاندھی، نے وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی بار بار کی تنقید اور دھمکیاں انڈیا کی عزت کے خلاف ہیں، اور مودی کی خاموشی کمزوری کی علامت ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی مودی کی خاموشی کو ناکامی سے تعبیر کیا، جبکہ کچھ نے ٹرمپ کی منافقت پر تنقید کی، خاص طور پر غزہ تنازعے میں ان کے کردار کے حوالے سے۔
دوسری جانب، مودی نے ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی ہے، جیسا کہ ان کی حالیہ ٹیلی فونک گفتگو اور واشنگٹن کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے مسلسل دباؤ اور محصولات کے اعلانات نے مودی حکومت کو سفارتی اور معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا کی معیشت پر ٹرمپ کے اقدامات اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور مودی کو اس کا جواب دینے کے لیے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہےاور ماہرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی صدر ٹرمپ کو انہی کے لہجے میں جواب دینا ہوگا اور شاید مودی بہت جلد ایسا کریں گے ۔
مزید خبریں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں