غزہ جنگ بندی

غزہ جنگ بندی پر امریکی ویٹو: سلامتی کونسل میں تنقید، انسانی بحران میں شدت

غزہ میں اسرائیلی بمباری اور محاصرہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، جہاں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 4 جون 2025 کو پیش کی جانے والی جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ نے ایک بار پھر ویٹو کر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف عالمی برادری کو مایوس کیا بلکہ اقوام متحدہ کے کردار، انسانی حقوق کی اہمیت، اور عالمی نظام انصاف پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔


قرارداد کا پس منظر

یہ قرارداد الجزائر کی قیادت میں پیش کی گئی تھی، جسے سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 اراکین نے منظور کیا، سوائے امریکہ کے۔ قرارداد میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل ممکن بنائی جا سکے اور معصوم شہریوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔

امریکہ نے قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس میں حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی مذمت شامل نہیں، اور یرغمالیوں کی رہائی کا ذکر بھی نہیں کیا گیا، لہٰذا ایسی قرارداد امریکی حمایت کے لائق نہیں۔ امریکی نائب مندوب رابرٹ ووڈ کے مطابق، “امن اسی وقت ممکن ہے جب دونوں فریقوں کی ذمہ داری تسلیم کی جائے۔”


اقوام متحدہ میں شدید ردعمل

امریکی ویٹو پر سلامتی کونسل میں شدید تنقید دیکھنے میں آئی۔ چین، روس، الجزائر، برازیل، اور پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اس اقدام کو عالمی امن کی کوششوں میں رکاوٹ قرار دیا۔

چینی مندوب فو کانگ نے کہا:

"ویٹو نے بین الاقوامی قانون کی ساکھ کو مجروح کیا ہے اور انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔”

پاکستانی سفیر عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا:

"غزہ کا حال جہنم سے بھی بدتر ہو چکا ہے، اور امریکہ کا یہ فیصلہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین قدم ہے۔”


فلسطینیوں کا ردعمل

فلسطینی اتھارٹی اور حماس دونوں نے اس ویٹو کی مذمت کی۔ حماس نے اسے "امریکہ کی جانب سے اسرائیلی نسل کشی میں شراکت” قرار دیا، جب کہ فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ جان بوجھ کر انسانی بحران کو مزید بڑھا رہا ہے۔


انسانی بحران کی سنگینی

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں حالات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں:

  • غذائی قلت: 80 فیصد آبادی قحط کے دہانے پر ہے۔
  • صحت کی سہولیات: بیشتر اسپتال یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا ادویات کی کمی سے بند ہو چکے ہیں۔
  • تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ: اسکول، یونیورسٹیاں، اور پینے کے پانی کے نظام تباہ ہو چکے ہیں۔

ایسے میں جنگ بندی کی قرارداد کا مسترد ہونا، لاکھوں افراد کے لیے زندہ رہنے کی امید ختم کرنے کے مترادف ہے۔


عالمی ردعمل اور عوامی دباؤ

دنیا بھر میں عوام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکہ کے فیصلے پر شدید غم و غصہ ظاہر کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز #GazaCeasefireNow اور #USVetoGaza ٹرینڈ کرنے لگے۔ اقوام متحدہ کے بعض ماہرین نے اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔


امریکہ کا دفاع اور ناقدین کا مؤقف

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے دفاع کے لیے کھڑا ہے اور چاہتا ہے کہ حماس کو عسکری قوت نہ ملے۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ:

  • ویٹو کا استعمال سیاسی مصلحت پر مبنی ہے۔
  • فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔
  • یہ قدم سلامتی کونسل کو غیر مؤثر بناتا ہے۔

نتیجہ

غزہ جنگ بندی کی قرارداد پر امریکی ویٹو نے ایک بار پھر دنیا کو یہ احساس دلایا ہے کہ عالمی ادارے طاقتور ملکوں کے فیصلوں کے تابع ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک طرف لاکھوں فلسطینی انسانی المیے سے گزر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بین الاقوامی سیاست انہیں انصاف سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ اس ویٹو نے نہ صرف غزہ کے معصوم عوام کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے مؤثر کردار پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اگر دنیا نے اب بھی آواز نہ اٹھائی، تو آنے والے دنوں میں انسانیت کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے