نیوزی لینڈ کے کچھ شہروں نے ایک شاندار اور دل کو چھو لینے والی پہل کی ہے — انہوں نے عوامی فٹ پاتھوں کے کنارے پھلدار درخت لگانے شروع کر دیے ہیں۔ یہ درخت، جن پر سیب، آلوچہ، فیجوا اور مختلف قسم کے کھٹے میٹھے ترش پھل (سٹریس فروٹس) لگتے ہیں، ہر کسی کے لیے دستیاب ہیں۔ کوئی بھی شخص ان درختوں سے مفت پھل توڑ سکتا ہے اور تازہ، صحت بخش اسنیکس کا لطف لے سکتا ہے — وہ بھی شہر کے بیچوں بیچ۔
صحت، ماحول اور کمیونٹی — تینوں کا فائدہ
یہ پہل صرف تازہ پھلوں کی فراہمی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد صحت مند غذا کی حوصلہ افزائی کرنا، ماحول سے قربت پیدا کرنا، اور کمیونٹی کے لوگوں کو قریب لانا بھی ہے۔ لوگ اکثر پھل چنتے وقت ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں، دوست بنتے ہیں، اور یوں محلے میں ایک مضبوط سماجی رشتہ بنتا ہے۔
فضلہ میں کمی اور رضاکارانہ خدمات
اکثر لوگ اضافی پھل دوسروں میں بانٹ دیتے ہیں، انہیں محفوظ کر کے رکھتے ہیں یا فلاحی اداروں کو عطیہ کر دیتے ہیں، جس سے کھانے کے ضیاع میں واضح کمی آتی ہے۔ ان درختوں کی دیکھ بھال مقامی کونسلیں اور مقامی رضاکار کرتے ہیں، جو انہیں سال بھر صحت مند اور پھلدار رکھتے ہیں۔
شہری فضا میں قدرتی لمس
یہ سادہ سا خیال — یعنی فٹ پاتھوں اور گلیوں کو خوردنی مقامات میں بدل دینا — ایک طاقتور تبدیلی لا رہا ہے۔ یہ شہریوں کو فطرت سے جوڑتا ہے، پائیدار طرز زندگی کو فروغ دیتا ہے، اور ہر کسی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ماحول کا حصہ ہیں۔
نتیجہ
نیوزی لینڈ کا یہ ماڈل دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، جہاں شہروں کو نہ صرف سرسبز بلکہ خود کفیل اور سماجی طور پر مربوط بنایا جا سکتا ہے۔ یہ درخت نہ صرف پھل دیتے ہیں، بلکہ خوشی، صحت اور ایک بہتر سماج کی امید بھی بانٹتے ہیں۔
مزید خبریں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں