عمران خان کی گرفتاری کو دو سال مکمل: اسلام آباد میں جلسے پر پابندی، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے احتجاج کا اعلان

عمران خان کی گرفتاری

5 اگست 2025 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کو دو سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی نے اسلام آباد کے ایف-نائن پارک میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے جواب میں، پارٹی نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے، جس سے ایک بار پھر ملک کے سیاسی ماحول میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔


جلسے پر پابندی: حکومتی مؤقف

اسلام آباد میں جلسے کی درخواست کو مسترد کرنے کے پیچھے سیکیورٹی خدشات، دفعہ 144 کا نفاذ، اور امن و امان کی صورتحال جیسے روایتی اسباب کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی، نومبر 2024 میں پی ٹی آئی کی "فائنل کال” ریلی سے پہلے اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

حکام کے مطابق، وفاقی دارالحکومت میں پہلے ہی حساس سیکیورٹی صورتحال ہے اور بڑے اجتماعات سے ریاستی اداروں، سفارتی تنصیبات اور عوامی املاک کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی بنا پر اسلام آباد میں کسی بھی قسم کے بڑے جلسے یا ریلی کی اجازت نہیں دی گئی۔


خیبر پختونخوا میں متبادل احتجاج

جلسے پر پابندی کے بعد پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔ یہ احتجاج صرف عمران خان کی گرفتاری کے خلاف نہیں بلکہ پارٹی کے مطابق چوری شدہ مینڈیٹ، سیاسی انتقام، اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھی ہیں۔

پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اعلان کیا کہ احتجاج پرامن ہوگا لیکن پارٹی کارکنان اپنے قائد کی رہائی کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ پشاور، مردان، سوات، نوشہرہ، اور ڈی آئی خان سمیت کئی شہروں میں ریلیوں اور دھرنوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔


سیاسی پس منظر: عمران خان کی گرفتاری

عمران خان کو 5 اگست 2023 کو کرپشن کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر مختلف مالیاتی بے ضابطگیوں، توشہ خانہ کیس، اور دیگر الزامات میں مقدمات قائم کیے گئے۔ تب سے وہ اڈیالہ جیل، راولپنڈی میں قید ہیں، جہاں وہ عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ عمران خان کو ریاستی اداروں کی ملی بھگت سے سیاسی میدان سے باہر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


احتجاج کی تاریخ اور نتائج

پی ٹی آئی ماضی میں بھی احتجاجی سیاست کا بھرپور مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ خاص طور پر نومبر 2024 کا اسلام آباد مارچ، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، ایک تاریخی مظاہرہ تھا۔ تاہم، اس میں تشدد، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی جیسے واقعات بھی پیش آئے۔

اس پس منظر میں موجودہ احتجاج کو بھی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر حکومت نے سختی سے نمٹا تو حالات بگڑ سکتے ہیں، اور اگر احتجاج قابو سے باہر ہوا تو یہ حکومت اور ریاستی اداروں کے لیے ایک نیا بحران بن سکتا ہے۔


5 اگست کی علامتی اہمیت

5 اگست کا دن عمران خان کے حامیوں کے لیے صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ علامتی احتجاج کا دن بن چکا ہے۔ پارٹی اس دن کو ہر سال "یوم اسیر” کے طور پر منانے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں کارکنوں کو عمران خان کی قربانی اور قیادت کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔


حکومتی اقدامات اور ممکنہ ردعمل

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ انٹرنیٹ سروسز کی معطلی، اہم شاہراہوں کی بندش اور ممکنہ گرفتاریوں جیسے اقدامات بھی متوقع ہیں۔

اسی طرح، وفاقی وزراء نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو "سیاسی ڈرامہ” اور "ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش” قرار دیا ہے۔


نتیجہ: سیاست کا نیا موڑ؟

پی ٹی آئی کا احتجاج اس وقت ہو رہا ہے جب ملک میں معاشی مشکلات، مہنگائی، اور گورننس کے مسائل پہلے ہی عوامی ناراضگی کو بڑھا چکے ہیں۔ ایسے میں اگر یہ احتجاج عوامی حمایت حاصل کرتا ہے، تو یہ پی ٹی آئی کے لیے سیاسی بحالی کا موقع بن سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومت سختی سے نمٹے اور احتجاج پر قابو پا لے تو یہ عمران خان اور ان کی جماعت کے لیے سیاسی تنہائی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا یہ احتجاج صرف علامتی ہوگا یا واقعی پاکستان کی سیاست میں کوئی بڑا موڑ لائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو دیدی دھمکی

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے