2025ء میں پاکستانیوں کی غیر ممالک میں بھیک مانگنے اور غیر قانونی ہجرت، ڈی پورٹیشن کے وجوہات بنے
2025 پاکستان کے لیے بیرونِ ملک سفر اور امیگریشن کے حوالے سے ایک غیر معمولی اور تشویشناک سال ثابت ہوا۔ اس سال ہزاروں پاکستانی شہریوں کو یا تو ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا گیا یا مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ان اقدامات کے پیچھے دو بنیادی وجوہات نمایاں ہو کر سامنے آئیں:
- بیرونِ ملک بھیک مانگنے کے الزامات
- عمرہ یا دیگر ویزوں کے بہانے غیر قانونی ہجرت کی کوششیں
یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس کے سماجی، معاشی اور اخلاقی اثرات بھی گہرے ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
آف لوڈنگ کیا ہے اور 2025 میں کیا ہوا؟
آف لوڈنگ اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں مسافر کو ایئرپورٹ پر ہی جہاز میں سوار ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے مطابق، 2025 میں تقریباً 51 ہزار پاکستانی شہریوں کو مختلف ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا گیا۔
آف لوڈنگ کی بڑی وجوہات:
- مشکوک یا نامکمل سفری دستاویزات
- مناسب ہوٹل بکنگ یا واپسی ٹکٹ کا نہ ہونا
- سفر کے لیے ناکافی رقم
- غیر قانونی ہجرت کے شواہد
- عمرہ ویزے پر سفر مگر یورپ یا دیگر ممالک جانے کے خفیہ منصوبے
کئی کیسز میں مسافروں نے دعویٰ کیا کہ وہ عمرہ کے لیے جا رہے ہیں، لیکن ان کے موبائل فونز، دستاویزات یا بیانات سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ سعودی عرب کے بعد یورپ یا کسی اور ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونا چاہتے تھے۔
بھیک مانگنے پر ڈی پورٹیشن: ایک سنگین مسئلہ
2025 میں پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن کی سب سے شرمناک اور سنگین وجہ بیرونِ ملک بھیک مانگنا بنی۔
اعداد و شمار:
- سعودی عرب سے 24,000 پاکستانی ڈی پورٹ
- متحدہ عرب امارات (UAE) سے 6,000
- آذربائیجان سے 2,500
زیادہ تر افراد عمرہ یا حج ویزے پر سعودی عرب گئے، مگر وہاں مقدس مقامات خصوصاً مکہ اور مدینہ میں بھیک مانگتے ہوئے پکڑے گئے۔ یہ عمل سعودی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور حرمین شریفین کے تقدس کے بھی منافی سمجھا جاتا ہے۔
سعودی حکومت نے اس معاملے پر پاکستان کو متعدد بار باضابطہ شکایات بھیجیں، جس کے بعد پاکستان میں ایجنٹوں اور منظم گروہوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئیں۔
انسانی سمگلنگ اور 2024 یونان کشتی حادثہ
2024 میں یونان کے قریب پیش آنے والا المناک کشتی حادثہ، جس میں درجنوں پاکستانی ہلاک ہوئے، اس پورے معاملے کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔
اس واقعے کے بعد:
- انسانی سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع ہوا
- جعلی ٹریول ایجنٹس اور ایجنسیوں پر مقدمات درج کیے گئے
- ایئرپورٹس پر اسکریننگ کا نظام سخت کر دیا گیا
نتیجتاً:
- پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ 118 سے بہتر ہو کر 92 پر آ گئی
- یورپ جانے والے غیر قانونی پاکستانیوں کی تعداد 8,000 سے کم ہو کر 4,000 رہ گئی
یہ ایک مثبت پیش رفت ہے، مگر مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
مسئلے کی جڑ: معاشی بحران اور بے روزگاری
ماہرین کے مطابق، اس سارے بحران کی اصل جڑ پاکستان کی معاشی مشکلات ہیں:
- بڑھتی ہوئی بے روزگاری
- مہنگائی
- محدود روزگار کے مواقع
- بیرونِ ملک بہتر زندگی کے خواب
انہی حالات کا فائدہ اٹھا کر منظم گروہ اور ایجنٹس لوگوں کو جھوٹے وعدوں، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی راستوں سے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں۔ بعض افراد مجبوری کے تحت بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو آخرکار پاکستان کی بدنامی کا سبب بنتا ہے۔
ریاست اور عوام کی ذمہ داری
یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔
حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
- انسانی سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی
- جعلی ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت سزائیں
- عوام میں قانونی سفر سے متعلق آگاہی
- روزگار کے مواقع میں اضافہ
عوام کی ذمہ داری:
- غیر قانونی راستوں سے بیرونِ ملک جانے سے گریز
- بھیک مانگنے جیسے عمل سے اجتناب
- صرف مستند اور قانونی ذرائع سے سفر
نتیجہ
2025 میں پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن اور آف لوڈنگ ایک واضح پیغام ہے کہ دنیا اب غیر قانونی ہجرت اور بھیک مانگنے کے خلاف زیرو برداشت کی پالیسی اپنا چکی ہے۔
اگر پاکستان نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو نہ صرف اس کے شہری مشکلات کا شکار رہیں گے بلکہ ملک کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوتی رہے گی۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !