بنگلہ دیش کے وکٹری ڈے پر انڈیا کے ساتھ تلخی، حسنات عبداللہ کے “سیون سسٹرز” بیان سے سفارتی کشیدگی
۱۶ دسمبر ۲۰۲۵ کو بنگلہ دیش نے اپنا وکٹری ڈے (بیجائے دبس) منایا، جو ۱۹۷۱ کی جنگ میں پاکستان پر فتح اور آزادی کی یاد دلاتا ہے۔ اسی دن انڈیا میں وجے دیوس منایا جاتا ہے، جو پاکستان کی ہتھیار ڈالنے اور بنگلہ دیش کی آزادی میں انڈیا کے کردار کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔
تاہم اس سال یہ دن دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کا شکار رہا۔ تلخی بڑھنے کی بنیادی وجہ بنگلہ دیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) کے لیڈر حسنات عبداللہ کی ایک ریلی میں دی گئی دھمکی ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
حسنات عبداللہ کا بیان
۱۵ دسمبر کو ڈھاکہ میں ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حسنات عبداللہ نے کہا:
"اگر بنگلہ دیش کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی تو مزاحمت کی آگ سرحدوں سے آگے پھیل جائے گی۔ تم (انڈیا) ہمیں غیر مستحکم کرنے والوں کو پناہ دے رہے ہو، تو ہم بھی سیون سسٹرز کے علیحدگی پسندوں کو پناہ دیں گے اور پھر سیون سسٹرز کو انڈیا سے الگ کر دیں گے۔”
سیون سسٹرز سے مراد انڈیا کے شمال مشرقی صوبے ہیں: اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ۔ یہ علاقہ جغرافیائی طور پر حساس ہے کیونکہ چار صوبے بنگلہ دیش سے براہ راست سرحد شیئر کرتے ہیں، اور شمال مشرق کو باقی انڈیا سے جوڑنے والا سلگوری کوریڈور (چکن نیک) ایک تنگ گلیارہ ہے۔
تلخی بڑھنے کی وجوہات
- سیاسی پس منظر — شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے (اگست ۲۰۲۴) محمد یونس کی عبوری حکومت میں انڈیا مخالف جذبات بڑھے ہیں۔ بنگلہ دیش پاکستان اور چین کے قریب آیا ہے، جبکہ انڈیا پر مداخلت کے الزامات لگ رہے ہیں۔ حسنات عبداللہ جیسے لیڈرز (جو طلبہ تحریک سے ابھرے) انڈیا کو حسینہ کو پناہ دینے اور انتخابات میں مداخلت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
- وکٹری ڈے کا موقع — یہ دن تاریخی طور پر انڈیا کی مدد کو یاد کرتا ہے، لیکن موجودہ حکومت میں ۱۹۷۱ کی جنگ کو صرف بنگلہ دیشی جدوجہد کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ انڈیا کے کردار کو کم کیا جا رہا ہے۔ اس سال وزیراعظم مودی کے وجے دیوس پوسٹ پر بھی بنگلہ دیش میں تنقید ہوئی کہ اس میں بنگلہ دیشی جدوجہد کو نظر انداز کیا گیا۔
- انڈیا کا ردعمل — ۱۷ دسمبر کو انڈیا نے بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا۔ دھمکی کو ناقابل قبول قرار دیا اور ڈھاکہ میں انڈین مشن کی سیکیورٹی کی فکر ظاہر کی۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بیانات انتہا پسند عناصر کی طرف سے ہیں اور بنگلہ دیش کی ذمہ داری ہے کہ سفارتی مشنز کی حفاظت کرے۔
- علاقائی حساسیت — شمال مشرقی انڈیا میں ماضی میں علیحدگی پسند تحریکیں رہی ہیں۔ بنگلہ دیش سے سرحد کی وجہ سے یہ بیان انڈیا کے لیے سیکیورٹی تھریٹ سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عملی طور پر ممکن نہیں کیونکہ سلگوری کوریڈور انڈیا کے اندر ہے اور انڈیا کی فوج اس کی حفاظت کرتی ہے۔
یہ بیانات بنگلہ دیش کی اندرونی سیاست اور آنے والے انتخابات کا حصہ بھی ہیں، جہاں انڈیا مخالف نعرے مقبول ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے سے کشیدہ ہیں، اور یہ واقعہ تلخی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ تاہم سفارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !