آزادی کی اہمیت
|

آزادی کی اہمیت: اسلام کی روشنی میں انسانی وقار، مساوات اور حقِ حیات

زندگی رب العالمین کی جانب سے ایک بیش بہا قیمتی سرمایہ ہے لیکن زندگی کی حسن ولطافت اور اسکی حقیقی رعنائیوں سے صرف وہی شخص فائدہ حاصل کر سکتا ہے جس کو حیات مستعار کے ساتھ ساتھ اپنی نیک تمناؤں اور خواہشات کو پورا کرنے کی فضا بھی میسر ہو
آزادی کے بنا انسان مرجھایا ہوا پھول ہے جس میں نہ وہ تازہ خوشبو ہے اور نہ ہی کشش،

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

جس شخص کو نہ بولنے کی آزادی ہو نا علم حاصل کرنے کی اور نہ ہی اپنی مرضی سے کھانے پینے کی تو اس شخص کی مثال اس قیدی با مشقت سی ہے جو بظاہر زندہ تو ہے مگر ایک زندہ لاش سے کچھ کم نہیں شاید یہی وجہ تھی کہ رب العالمین نے بنو اسرائیل پر اپنے سب سے بڑے احسان اور انعام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا

وَ اِذۡ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ یَسُوۡمُوۡنَکُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ یُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَکُمۡ وَ یَسۡتَحۡیُوۡنَ نِسَآءَکُمۡ ؕ وَ فِیۡ ذٰلِکُمۡ بَلَآ ءٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَظِیۡمٌ ﴿۴۹﴾
اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی[49]

وقت کا فرعون جس نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا رب العالمین نے سب سے پہلے بنی اسرائیل کو غلامی اور ذلت بھری زندگی سے آزادی دلوائی،

قربان جاؤں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر کہ اپ نے چودہ سو سال قبل احترام انسانیت ، اخلاق کریمانہ اور آزادی نفس کا ایسا بگل بجایا کہ تا قیامت تمام جن و انس آپ کے ان احسانات کے ممنون اور مشکور ہیں اور تمام تعریفات اس خالق کائنات کے لیے ہے جس نے بنی نوع انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے ایسے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ،

اس نعمت عظمیٰ پر نہ صرف ہمیں بلکہ پوری دنیا کو رحمت اللعالمین کی بعثت اور ان کی روشن تعلیمات پر خوشیاں منانا چاہیے جیسا کہ خود رب العالمین نے فرمایا

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے[164]

جبکہ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں پر انسان آسمان پر کمندیں ڈال رہا ہو، سمندر میں مچھلیوں کی طرح تیر رہا ہو، وہیں پر معصوم اور غریب و لاچار انسانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں معصوموں کی جان سے کھیلا جا رہا ہے ان کے گھر بار چھینے جا رہے ہیں حتی کہ ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر بھی غدار وطن اور قوم و ملت کا دغا باز جیسے القاب سے نوازا جا رہا ہے خود ہمارے ملک ہندوستان میں اکیسویں صدی کے اس دور میں یہ عجب منظر ہے کہ ایک شاعر کو محض دلت ہونے کی بنا پر اس کو سرعام ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے، اس کے سر کو مونڈ کر پیشاب کیا جاتا ہے جمود اور قدامت پسندی کی شکار بھیڑ معصوموں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی ہے ذات پات اور چھوت چھات کا حوالہ دے کر غریب اور مسکینوں کو بچوں سمیت جلا دیا جاتا ہے جسے دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے
یہ داستان ہم کسی ناول یا قدیم قصے کہانیاں کی کتابوں سے نہیں لائے ہیں بلکہ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جو موجودہ دور میں ہم بنفس نفیس عینی مشاہدہ کر رہے ہیں

انہی اسباب کی بنا پر کئی لوگوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر دیگر ادیان و مذاہب میں داخل ہو گئے، خود بابا بھیم راؤ امبیڈکر ہندو مذہب چھوڑ کر بدھ مذہب میں داخل ہو گئے ساتھ ہی ان کے کئی پیروکار لوگ بھی بدھ مذہب میں داخل ہو گئے اور آج بہت سے لوگ بابا بھیم راؤ کو اپنا بھگوان بھی مانتے ہیں اور بابا صاحب کی شان میں کسی بھی قسم کے گستاخی کو برداشت نہیں کرپاتے
جبکہ ان سے پوچھا جائے کہ آپ بابا بھیم راؤ امبیڈکر سے اتنی عقیدت کیوں رکھتے ہیں تو ایک سیاست دان نے بہترین جواب دیا ،

کہا ہم بابا صاحب سے اتنی عقیدت اس لیے رکھتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہم کو سماج میں عزت دلائی، روزگار دلایا اور تمام تر سہولیات فراہم کیں،

جبکہ ہم نے صدیوں سے بتوں کی پوجا کی اور اپنا کروڑوں روپیہ پوجا پاٹ میں خرچ کر دیا مگر اس کے صلے میں ہم کو کیا ملا ؟
ایک چپراسی کی نوکری تک نہیں ملی ، بابا صاحب نے ہم کو سماج میں عزت و توقیر بخشی روزگار کے مواقع فراہم کیے اس لیے ہم ان سے اتنی عقیدت رکھتے ہیں

اور دلچسپ بات یہ ہے جرائم اور انسانیت سوز حرکتیں کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہ سورما ہیں جو خود کو تہذیب انسانیت کا ٹھیکدار اور حسنِ اخلاق کا مجسم بتاتے ہیں اور آئے دن مذہب اسلام اور مسلمانوں پر نت نے اعتراضات کرتے ہیں

یورپ جو خود کو اخلاقی اقدار اور تہذیب و ثقافت کا سرپنچ کہتا ہے ظلم و زیادتی اور حقوق انسانی کی پامالی میں جس بربریت کے ساتھ پیش قدمی کر رہا ہے اس کو شرم آنی چاہیے اور اپنی ان کائرانہ حرکتوں پر پوری دنیا سے بالخصوص مسلمانوں سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ جب آپ پندرھویں صدی میں یورپ کی تاریخی اوراق کو پلٹتے جائیں تو آپ کو اس بات سے بڑی مایوسی ہوگی کہ یورپ کے تہ خانوں میں ہیرے جواہرات تو نہیں مگر انسانیت کی کوئی کرن ناپاید ہے نا اخلاقی اقدار نہ جان و مال کا تحفظ، نہ بڑوں کا احترام اور نہ ہی چھوٹوں سے پیار صنفِ نازک کی حالت زار تو ناگفتہ بیان تھی
قدامت پسندی اخلاقی بگاڑ علم و عمل سے دور ظلم و زیادتی میں تجاوز بھلا کون سی ایسی چیز تھی جو ان کے اندر نہ پائی جاتی تھی انسان نما وحشی درندے نظر اتے تھے ،

اہل عرب بھی ان خوبیوں سے پاک نہیں تھے غریب مسکینوں پر ظلم و زیادتی کرنا یتیموں کا مال چھین لینا مسافروں کا قتل عام کرنا صنف نازک کو زندہ درگور کرنا خواہش نفسانی میں مذہبی تعلیمات کو پامال کرنا جوا بازی شراب نوشی حرام خوری وہ بدکاری حتی کہ بد فعلی سے بھی یہ لوگ مبرا نہیں تھے جا وہ منصب اور دولت کے نشے میں غریبوں کو بالکل خاطر میں نہ لاتے قبل زبید کا ایک شخص اپنا مال فروخت کرنے مکہ اتا ہے تو طاقت و دولت کے بل بوتے پر اس سے سارا مال چھین لیا جاتا ہے ،،،

لیکن مذہب اسلام نے دنیا میں ظلم وزیادتی اور جفاکشی کی تاریکیوں کو اپنی روشن تعلیمات سے یکسر ختم کردیا ،

امیر غریب کا فرق مٹادیا ، حسب نسب کی زنجیریں توڑ دی ، غریب اور مسکین لوگ جو صدیوں سے ذلت آمیز زندگی بسر کررہے تھے غلامی کے پنجرے سے آزاد کردیا

زندہ رہنے کا حق
مذہب اسلام نے دنیا کی تمام بنی نوع انسانیت کو زندہ رہنے اور ان کی حفاظت کے ضمانت دی فرمایا

مِنۡ اَجۡلِ ذٰلِکَ ۚۛؔ کَتَبۡنَا عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَنَّہٗ مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا بِالۡبَیِّنٰتِ ۫ ثُمَّ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ بَعۡدَ ذٰلِکَ فِی الۡاَرۡضِ لَمُسۡرِفُوۡنَ ﴿۳۲﴾
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے واﻻ ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ﻇاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ﻇلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے[32]

اور دوسرے مقام پر فرمایا

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا ﴿٪۷۰﴾
یقیناً ہم نے اوﻻد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں اور انہیں پاکیزه چیزوں کی روزیاں دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی[70]

اسلام نے اس بات میں کوئی تفریق نہیں کی کہ آیا وہ شخص مسلمان ہے یا کافر گورا ہے یا کالا تونگر ہے یا گداگر، مرد ہے یا عورت جوان ہے یا بوڑھا حتی کہ حشرات الارض اور چرند پرند و بہائم کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے اور ان کو کسی بھی قسم کی اذیت دینے سے منع فرمایا حدیث میں مذکور ہیں ایک بلی کی وجہ سے ایک عورت جہنم میں چلی گئی
حدیث نمبر: 3482
حدثني عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية بن اسماء، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:” عذبت امراة في هرة سجنتها حتى ماتت فدخلت فيها النار لا هي اطعمتها، ولا سقتها إذ حبستها، ولا هي تركتها تاكل من خشاش الارض”.
مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(بنی اسرائیل کی) ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا تھا جسے اس نے قید کر رکھا تھا جس سے وہ بلی مر گئی تھی اور اس کی سزا میں وہ عورت دوزخ میں گئی۔ جب وہ عورت بلی کو باندھے ہوئے تھی تو اس نے اسے کھانے کے لیے کوئی چیز نہ دی، نہ پینے کے لیے اور نہ اس نے بلی کو چھوڑا ہی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3482]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تمام لوگوں کے درمیان مساوات کو قائم کرنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف نبی اور رسول بنائے جانے کے بعد بلکہ بعثت سے قبل بھی آپ اخلاق کے پیکر ، انصاف کے علمبردار اور مساوات کے مسیحا تھے بعثت سے قبل لوگ آپ کو صادق الامین کہہ کر پکارا کرتے تھے خانہ کعبہ کی تعمیر میں جب لوگ آپس میں لڑ پڑے کہ حجر اسود کس قبیلے کے ذمہ ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر بچھا کر تمام قبائل کے درمیان عدل و انصاف و مساوات کا ایسا پیارا درس دیا کہ سارے قبائل فرط مسرت سے خوش ہو گئے
ساتھ ہی بعثت نبوی کے بعد کا دور بھی ملاحظہ کیجئے
رسول پیغمبر اور نبی بنائے جانے کے باوجود رائی کے دانے برابر آپ کے اندر کوئی فخر و غرور نہیں تھا
حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود آپ کی تعریف و توصیف میں یہود و نصارٰی کی طرح غلو کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا کرتے تھے
فرماتے

  • لا تُطْرُونِي كما أَطْرَتِ النَّصارى ابْنَ مَرْيَمَ؛ فإنَّما أَنا عَبْدُهُ، فَقُولوا: عبدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ.
    الراوي: عمر بن الخطاب • البخاري، صحيح البخاري (٣٤٤٥) • [صحيح] • ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو (میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں،

مساوات کا یہ عملی نمونہ بھی دیکھ لیں
دوران سفر ایک مرتبہ سارے صحابہ کو الگ الگ خدمت تفویض کی گئی تو شان رسالت نے اپنے ذمے جنگل کی لکڑیاں جمع کرنے کی خدمت لی

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حمیدہ بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں

اور نہ کھانے پینے میں اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر ترفُّع اختیار فرماتے تھے۔ اپنے خادم کاکام خودہی کردیتے تھے۔ کبھی اپنے خادم کو اُف نہیں کہا، نہ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر عتاب فرمایا۔ مسکینوں سے محبت کرتے ، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے جنازوں میں حاضر ہوتے تھے۔ کسی فقیر کوا س کے فقر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتے تھے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔ ایک بکری کاٹنے پکانے کا مشورہ ہوا۔ ایک نے کہا : ذبح کرنا میرے ذمہ ، دوسرے نے کہا کھال اتارنا میرے ذمہ ، تیسرے نے کہا : پکانا میرے ذمہ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکڑی جمع کرنا میرے ذمہ، صحابہ نے عرض کیا : ہم آپ کاکام کردیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جانتاہوں تم لوگ میرا کام کردوگے۔ لیکن میں پسند نہیں کرتا کہ تم پر امتیاز حاصل کرو ں، کیونکہ اللہ اپنے بندے کی یہ حرکت ناپسند کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے رفقاء میں ممتاز سمجھے ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر لکڑی جمع فرمائی۔

( کتاب: الرحیق المختوم – صفحہ 1282 )

لیکن یہ عجیب طرف تماشہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگوں کو مختلف چیزوں کا غرور اور گھمنڈ ہوتا ہے کسی کو دولت کا نشہ ہے تو کسی کو جا و منصب کا کسی کو حسب و نسب پر فخر ہے تو کوئی رنگ و نسل پر اتراتا ہے لیکن مذہب اسلام نے صرف ایک جملے میں سارے لوگوں کو ایک صف میں لا کر کھڑا کر دیا فرمایا
كلُّكم بنو آدمَ وآدمُ من ترابٍ لينتهينَّ قومٌ يفخَرونَ بآبائِهم أو ليكونُنَّ أهونَ على اللهِ من الجِعلانِ
الراوي: حذيفة بن اليمان • الهيثمي، مجمع الزوائد (٨/٨٩) • فيه الحسن بن الحسين العرني وهو ضعيف • أخرجه البزار (٢٩٣٨) واللفظ له.

اسی طرح دوسری حدیث میں مذکور ہے

لا فضلَ لعربيٍّ على عجميٍّ، ولا لعجميٍّ على عربيٍّ، ولا لأبيضَ على أسودَ، ولا لأسودَ على أبيضَ -: إلّا بالتَّقوى، النّاسُ من آدمَ، وآدمُ من ترابٍ
الراوي: – • الألباني، شرح الطحاوية (٣٦١) • صحيح • شرح حديث مشابه

انسانی وسائل حاصل کرنے کا حق
اسلام نے کسی بھی ابن ادم کو مال و دولت تعلیم اور سماجی اقتدار حاصل کرنے سے کبھی نہیں روکا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان کو مکمل آزادی میسر ہو حتی کہ کھیل کود میں بھی اگے بڑھنے سے نہیں روکا گیا

امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ تاریخی کتب میں سنہرے الفاظ سے لکھا گیا ہے

متى استعبدتم الناس و قد ولدتهم أمهاتهم احرارا

تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جب کہ انکی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا

  • : أن عمرو بن العاص رضي الله عنه، عندما كان واليا على مصر في خلافة أمير المؤمنين عمر بن الخطاب رضي الله عنه، اشترك ابن لعمرو بن العاص مع غلام من الأقباط في سباق للخيول، فضرب ابن الأمير الغلام القبطي اعتمادا على سلطان أبيه، وأن الآخر لا يمكنه الانتقام منه؛ فقام والد الغلام القبطي المضروب بالسفر صحبة ابنه إلى المدينة المنورة، فلما أتى أمير المؤمنين عمر رضي الله عنه، بين له ما وقع، فكتب أمير المؤمنين إلى عمرو بن العاص أن يحضر إلى المدينة المنورة صحبة ابنه، فلما حضر الجميع عند أمير المؤمنين عمر، ناول عمر الغلام القبطي سوطا وأمره أن يقتص لنفسه من ابن عمرو بن العاص، فضربه حتى رأى أنه قد استوفى حقه وشفا ما في نفسه. ثم قال له أمير المؤمنين: لو ضربت عمرو بن العاص ما منعتك؛ لأن الغلام إنما ضربك لسطان أبيه، ثم التفت إلى عمرو بن العاص قائلا: متى استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا؟. "الولاية على البلدان”،

جب مصر کے گورنر عمرو بن عاص ؓ کے بیٹے نے ایک مصری کی بغیر کسی وجہ کے پٹائی کی تو مصری نے اس وقت کے خلیفہ حضرت عمر فاروق ؓ کے پاس اس کی شکایت کی، خلیفہ نے گورنر اور ان کے بیٹے کو مدینہ بلایا، پھر مصری سے کہا میرے سامنے تم گورنر کے بیٹے سے ویسے ہی بدلہ لے لو، جس طرح اس نے تمہاری پٹائی کی ہے۔
پھر فرمایا:متى استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جب کہ ان کی ماؤں نے ان کو آزاد پیدا کیا تھا۔

البتہ ازادی کے نام پر کسی کی توہین کرنا دوسروں کی زندگیوں میں دخل دینا اور لوگوں کو بیجا پریشان کرنے کی اسلام نے بالکل اجازت نہیں دی ہے بلکہ مذہب اسلام تو تمام بنی نوع انسانیت کو اخلاق کا پیکر اور تقوی پرہیزگاری کا مثالی نمونہ دیکھنا چاہتا ہے اگر بالفرض اسلام میں ذات پات اونچ نیچ کا معیار ہوتا تو ہر فرد بشر کو تقوی اختیار کرنے کا حکم نہ دیا جاتا

مجھے اس بات سے انکار نہیں کہ مسلمانوں میں بھی جمود اور قدامت پسندی یکسر ختم نہیں ہوئی ہے اس کا صرف ایک سبب یہ ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو صحیح سے نہیں سمجھا ہے جس کی مثال آپ دیکھ لیں
بنگلہ دیش کے ایک سابق سیاسی لیڈر نے کہا تھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ جب تک جڑے رہے تب تک ہم نے پاکستان سے صرف تین باتیں سیکھی تھیں

اسلام ہمارا سچا مذہب ہے

اردو ہماری مادری زبان ہے

بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے

حالانکہ ایک ہی سال دونوں ممالک آزاد ہوئے لیکن بھارت ترقی کے منازل طے کرتا گیا اور پاکستان کی گاڑی ریوس گیر میں چلی گئی پاکستان اسی بحث و تکرار میں الجھ گیا کہ پاکستان میں کس فقہی مذہب کا نفاذ ہوگا
حنفی، شافعی، مالکی یا حنبلی
جس کا نتیجہ جگ ظاہر ہے پاکستان کے لوگ آپس میں بر سرِ پیکار بنے ہوئے ہیں آئے دن قتل و غارت گری کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جو کہ مسلم ممالک کے لیے بڑی شرم کی بات ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح سے سمجھیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں

اللہ تبارک و تعالی ہم تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور ہر قسم کے آفات اور پریشانیوں سے محفوظ فرمائے اور اللہ تعالی ہمارے ملک کو دن دوگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین

قلمکار: ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی ، ہری ہر ، کرناٹک

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے