akram nadwi

طعن و تشنیع پر ميرا دفاع نہ كريں !

آج صبح سویرے میرے ایک عزیز محترم شیخ ذبیح اللہ کا پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے نہایت درد مندی کے ساتھ اپنی دل آزاری اور تکلیف کا اظہار کیا کہ بعض لوگ مجھ پر بلا وجہ طعن و تشنیع کرتے ہیں۔
نيز میرے بعض مخلص اور خیر خواہ احباب نے مجھ سے اصرار کیا ہے کہ میں اس قسم كى طعن وتشنيع کے جواب میں کوئی تحریر لکھوں، یا کم از کم انہیں اپنا دفاع کرنے کی اجازت دوں تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔

جواب:
فوری ردود اور عجلت میں دیے گئے جوابات ہمارے زمانے میں ایک عام اور مقبول رویہ بن چکے ہیں۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے ہنگامہ خیز ماحول میں یہ رجحان اور بھی نمایاں ہو گیا ہے، جہاں لمحاتی جذبات کے زیرِ اثر لکھی گئی تحریریں بظاہر بہت کچھ کہہ دیتی ہیں، مگر اکثر نہ کوئی دیرپا اثر چھوڑتی ہیں اور نہ ہی کسی حقیقی اصلاح کا سبب بنتی ہیں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
تاریخِ علم و ادب شاہد ہے کہ سنجیدگی، ٹھہراؤ اور خلوصِ نیت کے ساتھ انجام پانے والے کام ہی باقی رہتے ہیں، جب کہ اشتعال اور عجلت میں تحریر کیے گئے ردود وقت کی گرد میں دب کر بے نام ہو جاتے ہیں۔ علامہ شبلی نعمانیؒ کی مایہ ناز تصنیف موازنۂ انیس و دبیر پر اپنے عہد میں بے شمار جوابی تحریریں سامنے آئیں، لیکن آج شبلیؒ کا علمی و ادبی کام زندہ ہے اور وہ ردود تاریخ کے حاشیوں میں بھی بمشکل دکھائی دیتے ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف شاعر نے نہایت لطیف اور بلیغ انداز میں اشارہ کیا ہے:
جسے تم کوستے ہو عمر اس کی اور بڑھتی ہے
تمہیں سب کچھ تو آیا کوسنا اب تک نہیں آیا
اسی پس منظر میں، میں اپنے ان تمام مخلص، درد مند اور خیر خواہ احباب کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جو محض حسنِ نیت اور محبت کے جذبے کے تحت میری آرا اور دلائل پر ہونے والی تنقید کے جواب میں میرا دفاع کرنا چاہتے ہیں، خصوصاً انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا جیسے پلیٹ فارمز پر۔ آپ کی یہ خیر خواہی میرے لیے باعثِ مسرت اور موجبِ احترام ہے۔ تاہم، نہایت ادب، تواضع اور اخلاص کے ساتھ میں آپ سے یہ مودبانہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ براہِ کرم اس طرزِ عمل سے اجتناب فرمائیں۔ اس درخواست کی چند وجوہات ہیں، جن کا بیان میں پوری ذمہ داری کے ساتھ مناسب سمجھتا ہوں۔
اسلام ہمیں فرد کی فوقیت سے زیادہ جماعت کی سلامتی اور اصلاح کا درس دیتا ہے۔ ہم سب پر یہ عظیم دینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنے اقوال، افعال اور طرزِ عمل کے ذریعے امتِ مسلمہ کی وحدت، باہمی اعتماد اور قلبی اخوت کو محفوظ رکھیں اور حتی المقدور مضبوط کریں۔ جب کسی رائے کے دفاع یا کسی دوسری رائے کی تردید میں شدت اور جذباتیت در آتی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر دلوں میں بدگمانی، بے اعتمادی اور رنجشیں جنم لیتی ہیں۔ یہی کیفیات رفتہ رفتہ اختلاف کو نزاع، اور نزاع کو عداوت و گروہ بندی میں بدل دیتی ہیں، یہاں تک کہ لوگ ایک دوسرے کی نیک نیتی اور خیر خواہی پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔
اس مقام پر اختلافِ رائے، جو اصولاً فکری بالیدگی، باہمی تعارف اور سیکھنے سکھانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، ایک ایسی رکاوٹ بن جاتا ہے جو دلوں کو قریب لانے کے بجائے مزید دور کر دیتی ہے۔ نیتوں کا زاویہ بدل جاتا ہے، اور حق کی تلاش کے بجائے اپنی بات یا اپنے گروہ کی بات کو ہر حال میں غالب کرنا مقصود بن جاتا ہے۔ افسوس کہ "ہماری بات” کی شناخت اکثر اسی بنیاد پر قائم ہوتی ہے کہ وہ "تمہاری” یا "ان کی” بات کے خلاف ہے۔
میرے عزیز دوستو! یہ صورتِ حال نہ صرف امتِ مسلمہ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس کی فکری اور روحانی یکجہتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی ہے۔ اسی احساس کے تحت میں آپ سے نہایت خلوص کے ساتھ یہ عرض کرتا ہوں کہ براہِ کرم سوشل میڈیا یا دیگر عوامی ذرائع پر میرے ناقدین کے جواب میں میرا دفاع نہ کریں۔ اس بحث و تکرار میں صرف ہونے والا وقت اور ذہنی توانائی اگر علم کے حصول، عبادت، ذکر و فکر، اور اپنے باطن کی اصلاح میں صرف کی جائے تو وہ یقیناً زیادہ بابرکت اور نتیجہ خیز ہوگی۔ مزید برآں، جو لوگ ہم سے اختلاف رکھتے ہیں، ان کی آرا اور دلائل کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش بھی ایک مثبت، تعمیری اور بالغ نظری کی علامت ہے۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حق و باطل کا امتیاز ضروری ہے، اور یہ بھی کہ ہر بات درست نہیں ہوتی۔ مگر اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اختلاف، تنقید، اصلاح اور دعوت کے آداب اور حدود ہیں۔ ہر بات کہنے کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے، ایک موزوں موقع ہوتا ہے، اور ایک ایسا اسلوب ہوتا ہے جو خیر اور اصلاح کا دروازہ کھولتا ہے، نہ کہ دلوں کو بند کر دیتا ہے۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے ماحول میں، جہاں فریقِ مخالف عموماً موجود نہیں ہوتا، افراد پر تنقید کرنا اکثر غیبت کے زمرے میں آ جاتا ہے، اور غیبت کو اللہ تعالیٰ نے صریحاً نا پسند فرمایا ہے۔ لہٰذا اس سے اجتناب ہی تقویٰ اور احتیاط کا تقاضا ہے۔
اسی طرح ہمیں یہ فرق بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ جو رائے یا طریقہ ہم اپنی نجی مجالس میں اختیار کرتے ہیں، وہی ہر اجتماعی یا عوامی ماحول میں مناسب نہیں ہوتا۔ جب ہم کسی کے مہمان ہوں تو میزبان کے طریقِ کار اور نظم و ضبط کی پیروی کرنا شریعت اور اخلاق دونوں کا تقاضا ہے، الا یہ کہ وہ کسی صریح ممنوع امر پر مجبور کرے۔ اسی طرح مسجد میں عبادت کے دوران، اگرچہ ہماری ذاتی ترجیح کچھ اور ہو، جماعت کی ہم آہنگی اور وحدت کو مقدم رکھنا زیادہ حکیمانہ اور افضل ہے۔ عملی زندگی میں عموماً ایک واضح نظم، ترتیب اور ذمہ داری کا تعین موجود ہوتا ہے، جس کی پاسداری ہی فہم و فراست کی علامت ہے۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا اس فطری نظم سے محروم ہے۔ یہاں ہر شخص ہر موضوع پر کچھ بھی کہہ دینے کو اپنا حق سمجھتا ہے، گویا اس کا کوئی اخلاقی یا عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں: وقت کا ضیاع، دلوں میں کدورت، محاذ آرائی کا فروغ، اور گروہی تعصبات کا مزید مضبوط ہو جانا۔
الحمد للہ، میں اپنا دفاع کرنے کی اہلیت اور حق دونوں رکھتا ہوں، مگر بعض دینی، اخلاقی اور فکری مصلحتوں کے پیشِ نظر ایسا نہیں کرتا۔ اسی بنا پر میں نہایت ادب اور وضاحت کے ساتھ یہ گزارش کرتا ہوں کہ میری خیر خواہی میں آگے بڑھ کر کسی بھی نوع کی مداخلت نہ فرمائی جائے۔ اگر میری کسی بات میں واقعی کوئی خطا ہو تو اہلِ علم اور اہلِ نظر کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ علمی، مہذب اور خیر خواہانہ انداز میں اس کی نشاندہی کریں۔ لہٰذا میں پوری وضاحت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ کسی کو بھی میری جانب سے جواب یا رد تحریر کرنے کی اجازت نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاصِ نیت، حسنِ عمل، وسعتِ قلب اور اختلاف کے آداب کے ساتھ حق پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ایسے کاموں میں مشغول رکھے جو ہماری ذات کے لیے بھی اور پوری امت کے لیے بھی نفع بخش اور باعثِ خیر ہوں۔ آمین۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے