مولانا مودودی کا نام لیتے ہی کتاب فتنۂ مودودیت پڑھنے کی تلقین ؟
سوال: ایک ندوى عالم نے لکھا ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
حضورِ والا! مولانا ڈاکٹر محمد اکرام ندوی صاحب مدّ ظلّہ العالی۔
راقم جس ماحول میں مصروفِ کار ہے وہاں ایک خاص مکتبِ فکر کے حضرات کا غلبہ ہے، جن میں تعصّب کا رجحان نہایت نمایاں ہے، اگر کبھی اتفاقاً میں مولانا مودودیؒ کا نام لے دوں تو مجھ سے ایسا برتاؤ کیا جاتا ہے گویا میں نے کوئی کلمۂ کُفر ادا کردیا ہو۔ فوراً مجھے فتنۂ مودودیت نامی کتاب پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
آپ کی تحریروں سے یہ امر مترشح ہوتا ہے کہ مولانا مودودیؒ کے بارے میں آپ کا رویّہ منصفانہ اور معتدل ہے۔ اس لیے آپ کی خدمت میں مؤدبانہ درخواست ہے کہ مولانا مودودیؒ کے مقام و مرتبت کے حوالے سے ایک مدلّل تحریر رقم فرما دیجیے تاکہ حقیقتِ حال واضح ہو جائے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
مفصل اور مبسوط تحریر لکھنے کی اس وقت گنجائش نہیں، لیکن مناسب ہے کہ چند جامع اور محرّر سطور پیش کردوں جن سے معاملہ آپ پر کافی حد تک روشن ہوجائے اور جس اضطراب کا اظہار آپ نے کیا ہے، وہ کسی قدر رفع ہوسکے۔
برصغیر کے علمی و دینی پس منظر پر اگر ذرا بھی گہری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ مدرسۂ فرنگی محل اور مدرسۂ رحیمیہ کے بعد جو مدارس قائم ہوئے، اُن میں سے اکثر مسلکی بنیادوں پر وجود میں آئے۔ ان کا مقصد دین کی اصل روح کو عام کرنا کم، اور فقہِ حنفی کی مخصوص صورت، تقلید کی سختی، کلامی مباحث کی اشعری و ماتریدی تعبیرات، تصوف کے بعض خاص رجحانات اور دیگر مسلکی عناصر کا فروغ زیادہ بن گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ امت کے اندر اتحاد کے بجائے مسلکی تقسیم نے جگہ پکڑی، مناظرانہ ذہنیت کو تقویت ملی، ردّ و قدح اور ایک دوسرے پر طنز و تشنیع علمی خدمت کا قائم مقام سمجھا جانے لگا، اور مسلمانوں کے ذہنوں میں مسلکی وفاداریاں دینی وفاداریوں پر غالب آگئیں۔
اس ذہنیت کی شدت کا اندازہ صرف ان عنوانات سے ہوجاتا ہے جو اُس دور میں اہلِ علم کے ہاں رائج ہوئے: فؤوس الکملۃ علی رؤوس الجہلۃ، سوط الرحمن علی حاسد النعمان، ظفر مبین علی جمع الشیاطین، وجود الأنبیاء فی طبقات الأرض المختلفة، إمكان کذب الباری تعالیٰ، إمكان نظیر النبی ﷺ، المہند علی المفند، اور اسى طرزِ فکر کا تسلسل جدید دور میں بھی فتنۂ مودودیت، زلزلہ اور زلزلہ در زلزلہ جیسی تصانیف کی شکل میں جاری دکھائی دیتا ہے۔ ان سب کا لب لباب یہ ہے کہ علمی اختلاف کو سنجیدہ فکری مکالمے کے بجائے دشمنی، بدگمانی اور تکفیر کے ذیل میں شمار کیا گیا، اور امتِ مسلمہ علمی وسعت سے محروم ہوتی گئی۔
ایسے ناگفتہ بہ ماحول میں جس شخصیت نے سب سے پہلے مسلک و مشرب کی تنگنائیوں سے اوپر اٹھ کر خالص دین کی ترجمانی کی کوشش کی، وہ علامہ شبلی نعمانی تھے۔ شبلی نے مسلمانوں کی باہمی تردید کے بجائے مستشرقین اور معاندینِ اسلام کے اعتراضات کا علمی جواب دینے کو اپنا مشن بنایا۔ جب ندوۃ العلماء کی تحریک وجود میں آئی تو اسے اپنی وسیع المشربی، اعتدال اور فکری توازن کا صحیح مظہر پایا اور نہایت اخلاص سے اس کا حصہ بنے۔ یہ حقیقت تاریخی ہے کہ ندوہ نے امت کے اندر سے مسلکی تنگی، فرقہ وارانہ عصبیت اور غیر ضروری مناظرانہ مزاج کے خاتمے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، اس کی نظیر نہ عرب میں ملتی ہے نہ عجم میں۔
اسی سلسلے کی ایک عظیم اور محکم کڑی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی شخصیت ہے، جنہوں نے نہ صرف برصغیر میں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید کو ایک نیا دھارا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ اپنی معاصر علمی دنیا میں اعتدال، جامعیت، گہرے فکری تجزیے اور غیر معمولی علمی جرات میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
مولانا مودودى کی خدمات کو اگر کسی ترتیب میں بیان کیا جائے تو سب سے پہلے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اسلام کو منتشر اجزاء یا محدود مسلکی خانوں میں قید کرنے کے بجائے ایک مکمل، مربوط اور ہم آہنگ نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا۔ ان کی تمام تحریریں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ان کے نزدیک اصل دین کی روح قرآن و سنت میں ہے، نہ کہ صدیوں سے قائم مذہبی طبقوں کی منجمد روایتوں میں۔
دوسرا نمایاں پہلو یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے دینِ اسلام کو اُن آمیزشوں اور اضافوں سے پاک کرنے کی بھرپور کوشش کی جو وقت گزرنے کے ساتھ دین کا حصہ تصور ہونے لگے تھے؛ مثلاً غیر شرعی تصوف، مسلکی جمود، بدعات و رسوم اور بے جا تقلیدی سختیاں۔ انہوں نے اسلام کی پیشکش کو ہر طرح کی غیر دینی آمیزش سے پاک کیا اور اصل دین کی طرف امت کو واپس بلایا۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اسلام کو عصرِ حاضر کی زبان میں، جدید ذہن کی سطح پر، اور مغربی نظریات کے چیلنج کے مقابلے میں پیش کیا۔ انہوں نے اشتراکیت، لادینیت، مغربی مادیت، قوم پرستی، وجودیت اور دیگر گمراہ کن فلسفوں پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ آج بھی تنقیحات، سود، پردہ، رسائل و مسائل اور دیگر تصنیفات اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فکر کو جدید دنیا کے علمی اشتغال کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مولانا مودودیؒ جیسا ہم پلہ اسکالر مشرق و مغرب میں کہیں نظر نہیں آتا۔ ان کی تفسیر تفهیم القرآن انہی تمام خصوصیات کا جامع اور روشن ترین نمونہ ہے، جو قرآن کے پیغام کو واضح، مربوط اور معاصر زبان میں سامنے لاتی ہے۔
آپ ایسے افراد سے ہرگز نہ الجھیں جن کے ہاں تعصب علمی دلیل پر مقدم ہے۔ نہ مناظرہ کریں، نہ سخت کلامی کو جواب دیں۔ حکمت، خاموشی اور مسلسل تعلیم و دعوت کا راستہ زیادہ بابرکت ہے۔ اپنی توجہ نئی نسل پر مرکوز رکھیں، کیونکہ آج اگر وہ صحت مند علمی فکر سے آشنا ہوجائیں تو کل کے فکری انتشار بہت حد تک خود بخود ختم ہوجائیں گے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو علم، بصیرت اور حکمت کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور ہر قسم کی آزمائش سے محفوظ رکھے۔
قلمکار: ڈاکٹر محمداکرم ندوی آکسفورڈ لندن
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !