عبادت گاہوں پر خودکش حملے بدترین دہشت گردی ہے
پاکستان میں مذہبی عبادت گاہوں پر خودکش حملے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہیں بلکہ یہ معاشرے کی بنیادی اقدار پر حملہ بھی ہیں۔ یہ حملے دہشت گردی کی بدترین شکل ہیں، جو مذہبی آزادی، رواداری اور انسانی حقوق کو براہ راست چیلنج کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شیعہ مسجد پر ہونے والا خودکش حملہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ دہشت گرد عناصر کس طرح مذہبی مقامات کو نشانہ بنا کر معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ یہ مضمون اس تازہ ترین حملے کے پس منظر میں لکھا جا رہا ہے، جہاں ہم اس واقعے کی تفصیلات، تاریخی سیاق و سباق، وجوہات، اثرات اور ممکنہ حل پر غور کریں گے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
تازہ ترین حملہ: اسلام آباد مسجد پر دھماکہ
6 فروری 2026 کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبریٰ پر ایک خودکش حملہ ہوا، جس میں کم از کم 31 سے 69 افراد ہلاک اور 130 سے 169 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ جمعہ کی نماز کے دوران پیش آیا، جب مسجد میں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پولیس کے مطابق، خودکش حملہ آور مسجد کے مرکزی دروازے پر سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے روکے جانے کے بعد پھٹ گیا، جس سے دروازہ تباہ ہو گیا اور آس پاس کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ گگ
یہ حملہ اسلام آباد میں تقریباً تین سالوں میں سب سے مہلک حملہ ہے، اور اب تک کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ابتدائی تحقیقات میں پولیس اسے خودکش حملہ قرار دے رہی ہے، اور زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ یہ واقعہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر شیعہ کمیونٹی پر بڑھتے ہوئے حملوں کی عکاسی کرتا ہے، جو فرقہ وارانہ تشدد کا شکار رہی ہے۔
تاریخی پس منظر: پاکستان میں عبادت گاہوں پر حملوں کی لہر
پاکستان میں عبادت گاہوں پر حملے کوئی نئی بات نہیں۔ 2025 اور 2026 کے دوران ایسے کئی حملے دیکھے گئے ہیں، جو دہشت گرد گروپس کی جانب سے مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر:
- فروری 2025: خیبر پختونخوا کے اکورہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ پر خودکش حملہ ہوا، جس میں مولانا حمید الحق حقانی اور چھ دیگر افراد ہلاک ہوئے۔ یہ مدرسہ افغان طالبان کے کئی رہنماؤں کی تعلیم گاہ رہا ہے۔
- مارچ 2025: جنوبی وزیرستان کے اعظم ورسک میں ایک مسجد پر خودکش حملہ، جس میں جمیعت علمائے اسلام کے ضلعی سربراہ مولانا عبداللہ نادم اور دیگر زخمی ہوئے۔
- جنوری 2026: شمال مغربی پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شادی کی تقریب پر خودکش حملہ، جس میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ افغان سرحد کے قریب مسلح گروپس کے خلاف فوجی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
- نومبر 2025: اسلام آباد میں ایک ضلعی عدالت پر خودکش حملہ، جس میں 12 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے۔
ان حملوں کی تاریخ 2000 کی دہائی سے چلی آ رہی ہے، جب طالبان اور القاعدہ جیسے گروپس نے شیعہ مساجد، احمدیہ عبادت گاہوں، چرچوں اور مندروں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان نافذ کیا گیا، لیکن 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا، جس میں کم از کم 757 افراد ہلاک ہوئے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند گروپس جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے بھی 2025 میں 250 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا۔
وجوہات: فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گرد گروپس
عبادت گاہوں پر خودکش حملوں کی بنیادی وجہ فرقہ وارانہ تقسیم ہے۔ پاکستان میں شیعہ-سنی تنازعات، احمدیہ کمیونٹی پر حملے اور دیگر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانا عام ہے۔ دہشت گرد گروپس جیسے تحریک طالبان پاکستان (TTP)، اسلامک سٹیٹ خراسان (ISIS-K)، القاعدہ اور BLA مذہبی مقامات کو نشانہ بنا کر معاشرے میں انتشار پھیلاتے ہیں۔ یہ گروپس اکثر افغان سرحد سے منسلک ہوتے ہیں، جہاں سے وہ ہتھیار اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔
حالیہ اضافے کی ایک وجہ افغان طالبان کی حکومت کا قیام ہے، جس نے پاکستان میں دہشت گردوں کو حوصلہ دیا ہے۔ حکومت کے مطابق، یہ حملے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے خلاف ردعمل ہیں، لیکن نتیجہ عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ معاشی مسائل، بے روزگاری اور مذہبی انتہا پسندی بھی ان حملوں کو ہوا دیتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، 2024-2025 میں مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا، اور حکومت مجرموں کو سزا دینے میں ناکام رہی۔
اثرات: انسانی اور معاشرتی نقصان
یہ حملے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتے ہیں بلکہ معاشرے کو تقسیم کرتے ہیں۔ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں پر نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں، جبکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اسلام آباد جیسے شہروں میں ایسے حملے سرمایہ کاری اور سیاحت کو متاثر کرتے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے، جو ملک کی سماجی ہم آہنگی کو کمزور کرتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر، یہ حملے پاکستان کی تصویر کو خراب کرتے ہیں اور اسے دہشت گردی کا مرکز قرار دینے کا موقع دیتے ہیں۔ 2025 میں 757 سے زیادہ ہلاکتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی ایک مستقل مسئلہ ہے۔
حکومت کی کارروائی اور بین الاقوامی ردعمل
پاکستانی حکومت نے ان حملوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کو مزید سخت کیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ناکافی ہے۔ افغان حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دیتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ بین الاقوامی برادری، بشمول اقوام متحدہ اور امریکہ، نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور پاکستان کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔
تاہم، مذہبی انتہا پسندی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تعلیم، معاشی ترقی اور بین المذاہب مکالمے کی ضرورت ہے۔
نتیجہ: امن کی طرف قدم
عبادت گاہوں پر خودکش حملے دہشت گردی کی بدترین شکل ہیں، جو انسانیت کے خلاف جرم ہیں۔ اسلام آباد کے تازہ ترین حملے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ دہشت گرد عناصر کسی بھی مذہب یا مقام کا احترام نہیں کرتے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دے، سیکیورٹی اقدامات کو بہتر بنائے اور دہشت گرد گروپس کے خلاف موثر کارروائی کرے۔ صرف رواداری اور اتحاد سے ہی اس بدترین دہشت گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ امن کی اپیل کرتے ہوئے، ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مذہب امن کا درس دیتا ہے، نہ کہ تشدد کا۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !