ہندوستانی مسلمان مایوس کن اور تاریک ترین دور اپنے تشخص کی حفاظت کیسے کریں؟

ہندوستانی مسلمان

ہندوستان سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ ان حالات میں جب مسلمان خود کو بے دست و پا محسوس کرتے ہوں، ان کے حقوق یکے بعد دیگرے ان سے چھینے جا رہے ہوں، اور مایوسی غالب ہو گئی ہو، ہم کیا کریں؟ اور کس طرح اپنے وجود اور تشخص کی حفاظت کریں؟

جواب

مایوسی سے خدا کی پناہ مانگیں، قوتِ ارادی مضبوط کریں، پر سکون رہ کر سوچنے کی عادت ڈالیں، اور منصوبہ بند جدوجہد کریں۔ حالات سے بد دل نہ ہوں، کیونکہ اچھے حالات خراب حالات کے بطن سے جنم لیتے ہیں۔ کرۂ ارضی کے ہر عروج و زوال کی تاریخ اس کی شاہد ہے:

اندازِ جنوں کون سے ہم میں نہیں مجنوں
پر تیری طرح عشق کو رسوا نہیں کرتے

سببِ فساد:
پہلے یہ غور کرنا ہوگا کہ حالات اس حد تک کیوں خراب ہوئے؟ ہندوستانی آزادی کو تقریباً 75 سال ہو چکے ہیں۔ آزادی کے وقت ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ زمانہ کس رخ پر جا رہا ہے۔ اگر ہم متحد ہو کر بیٹھتے، ملت کی ترقی کا ایک طویل المدت منصوبہ بناتے اور اسے نافذ کرنے کے لئے جان توڑ کوشش کرتے تو حالات مختلف ہوتے۔
حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے، اور ہم نہ جاگے۔ ہم صرف یہ کرتے ہیں کہ جب کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو جائے تو اس کا کوئی ہنگامی حل بتا دیتے ہیں۔ بلکہ بعض واعظانِ سادہ لوح وظائف سے مسائل حل کرنے لگے ہیں۔ سنہ 2024ء کا الیکشن قریب ہے، جلد ہی ہم اس الیکشن کے نتیجہ کو اپنے حق میں کرنے کے لئے تگ و دو کریں گے۔ ظاہر ہے یہ کوشش برباد جائے گی، اور پھر ہم پانچ سال کے لئے سو جائیں گے۔ ہم چنڈو خانہ کے مکیں ہیں، بے فکری و کسل مندی کے نشے میں مست ہیں! اللہ رے سناٹا، آواز نہیں آتی۔

طویل المدت منصوبہ:
اگر ہمیں قوم و ملک کی فکر ہے تو طویل المدت منصوبہ بنانا ہوگا، جس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملی مفاد کو ترجیح دیں، فرقہ واریت کا خاتمہ کریں، مسلکی شناختوں کی دلدل سے نکلیں، ایک دوسرے کے خلاف فتوہ بازی کی مہم سے باز آئیں، اور ہر مسلمان کا بحیثیت مسلمان احترام کریں۔ یاد رکھیں کہ جب مسالک و مشارِب مضبوط ہوں گے تو دین کمزور ہوگا، اور جب دین کمزور ہوگا تو مسالک و مشارِب دین بن جائیں گے، اور ایک دین کی جگہ متعدد ادیان ہوں گے۔ ہر ایک کے متبعین خود کو فرقۂ ناجیہ کہیں گے اور دوسروں کو کافر، گمراہ اور فاسق گردانیں گے۔ یہ کوئی فرضی دعویٰ نہیں ہے بلکہ برصغیر کے منحوس اسٹیج پر عرصہ سے یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے، اور تماشائیوں کی شرکت و تائید سے اسے توثیق بھی حاصل ہوتی جا رہی ہے:
شاخ بریدہ را نظرے بر بہار نیست۔

منصوبہ کے دو بنیادی اجزاء:
اس طویل المدت منصوبہ کے بہت سے اجزاء ہیں۔ اس مضمون میں صرف ان دو اجزاء پر گفتگو ہوگی جنہیں بنیادی اہمیت حاصل ہے اور جو اولین ترجیح کے حامل ہیں، اور وہ ہیں: ربّ العالمین کی بندگی، اور بندگی کی دعوت۔ یہی دونوں اجزاء تخلیقِ انسانی کا اصلی مقصد ہیں۔ اگر یہ دونوں نہ ہوں تو انسان بہائم سے بدتر ہے۔
یعنی اس کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہئے کہ مسلمان خدا کی بندگی کریں، اور اسلام کو اپنی شناخت بنانے پر اکتفا نہ کریں۔ اگر دین شناخت بن جائے اور اس سے بندگی کی روح ختم کر دی جائے یا اسے کمزور بنا دیا جائے تو اس کی حیثیت ایک کلچر سے زیادہ نہیں رہ جاتی۔
اسی طرح اس کی بھی سنجیدہ کوشش ہونی چاہئے کہ مسلمان جہاں بھی ہوں اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کو خدا سے روشناس کرائیں، اس کی بندگی کی دعوت دیں، اور انہیں آخرت کے مراحل اور جنت و جہنم کی تفصیلات سے آگاہ کریں۔

دونوں اجزاء کی تحصیل کا ذریعہ:
ان دونوں اجزاء کی تحصیل کا ذریعہ کتابِ الٰہی ہے۔ اسے ہر جگہ اور ہر زبان میں پھیلایا جائے۔ شب و روز اسی کا ورد کیا جائے۔ لذتیں اور مسرتیں قربان کی جائیں، کانٹے چنے جائیں، اور پھول چھوڑ دیئے جائیں۔ ہر وہ لمحہ جو کسی اور شغل میں گزرے الم انگیز اور غم آور محسوس ہو:
نظارے کو تو جنبشِ مژگاں بھی بار ہے۔

اے کہ می‌گوئی چرا جامے بہ جانی می‌خری
ایں سخن با ساقی ما گو کہ ارزاں کرده است

مسلمانوں کے درمیان:
مسلمانوں کے درمیان جگہ جگہ قرآن کے حلقے قائم کئے جائیں، جہاں علماء قرآن کے درس دیں اور لوگوں کے شکوک و شبہات دور کریں۔ ان دروس میں فقہی، کلامی اور صوفیانہ مباحث سے اجتناب کریں، مختلف فیہ مسائل کے متعلق گفتگو کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ چیزیں پیغامِ خداوندی کی راہ کی بڑی رکاوٹیں ہیں اور فکری اضطراب کا باعث۔
مساجد کے ائمہ کو بھی ہدایت کی جائے کہ جمعہ کے خطبوں اور عام مواعظ میں دین کے اصول (توحید، عبادت، رسالت، آخرت، تقویٰ، خوفِ خدا، اطاعتِ رسول وغیرہ) کی تشریح کریں۔ فروع کی تعلیم صرف کلاس روم اور خصوصی نشستوں میں کریں۔ اسی طرح مفتیانِ کرام کو تاکید کی جائے کہ کبھی کوئی ایسا فتویٰ نہ دیں جو کسی مسلمان فرد یا جماعت کے خلاف استعمال ہو، کیونکہ اس سے وحدتِ اسلامی کمزور ہوگی اور فرقہ بندی کو ہوا ملے گی۔
شاید یہاں یہ سوال ذہن میں پیدا ہو کہ پھر بدعات، منکرات اور اباطیل کی تردید کیسے ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان موضوعات پر علمی اسلوب میں دعوت و اصلاح کی روح کے ساتھ مضامین لکھیں، اور مناظرہ بازی اور تردیدی انداز سے بچیں۔

غیر مسلم بھائیوں کے درمیان:
غیر مسلم بھائیوں کو بھی خدا کا پیغام پہنچائیں۔ اس کا آسان راستہ یہ ہے کہ انہیں کمیونٹی سینٹرز، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہال، کافی ہاؤسوں یا دوسری عوامی جگہوں پر عزت و احترام کے ساتھ جمع کریں، ان کی مہمان نوازی کریں، اور قرآن کے کسی حصے کا ترجمہ انہیں سنائیں۔ تفسیر سے بچیں، اور اگر کہیں کوئی چیز ان کے لئے مبہم ہو تو اختصار سے اس کی تشریح کر دیں۔
غیر مسلموں کو احکام و مسائل کی آیتیں نہ سنائیں، بلکہ ان کے سامنے صرف وہ آیتیں پڑھیں جن میں خدا کی بندگی کی دعوت ہے، پیغمبروں اور ان کی قوموں کے قصے ہیں، یا آخرت اور جنت جہنم کی تفصیلات ہیں۔ مثلاً: سورۂ فاتحہ، سورۂ انعام، سورۂ یونس، ہود، یوسف، طٰہٰ، قصص، مریم، شعراء، صافات وغیرہ، اور سورۂ ق سے سورۂ ناس تک۔
اگر کوئی غیر مسلم قرآنِ کریم کے کسی جزئیہ مثلاً غلام و باندی کے احکام کے متعلق سوال کرے تو خوش اسلوبی سے اس موضوع کو بدل دیں، اور اسے قرآن کی بنیادی دعوت کی طرف متوجہ کریں۔ جس بات کو آپ سمجھا نہ سکیں، اس کے متعلق خاموشی ہی بہتر ہے۔
غیر مسلموں میں جو با اثر و رسوخ لوگ ہیں جیسے تعلیم یافتہ طبقہ، اہلِ مناصب، اصحابِ ثروت و جاہ، انہیں ان کی زبانوں میں قرآنِ کریم کے ترجمے دیں، ان سے صرف خدا کے لئے ملیں، اور ان کے سامنے اپنی کوئی دنیوی غرض نہ رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کے ساتھ اپنی بندگی اور بندگی کی دعوت کی توفیق دے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے