22 اکتوبر 2025 کو غزہ کے حوالے سے دو اہم پیش رفت سامنے آئیں۔ ایک طرف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ میں ایک "بین الاقوامی سکیورٹی فورس” کی تشکیل کا اعلان کیا، جو اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد امن کو یقینی بنائے گی۔ دوسری طرف، عالمی عدالت انصاف (ICJ) نے اسرائیل کو غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی۔ یہ مضمون ان دونوں پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے، جو موجودہ جنگ بندی اور غزہ کے مستقبل کے تناظر میں اہم ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں
امریکی اعلان: بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تشکیل
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے 22 اکتوبر 2025 کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران اعلان کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس تشکیل دی جائے گی۔ اس فورس کا مقصد اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد غزہ میں امن و استحکام کو یقینی بنانا اور حماس کی غیر موجودگی میں علاقے کی تعمیر نو کی نگرانی کرنا ہے۔
منصوبے کی اہم تفصیلات
- فورس کی ساخت: اس بین الاقوامی فورس میں عرب ممالک جیسے انڈونیشیا، ترکی، اور آذربائیجان کے فوجی شامل ہوں گے۔ تاہم، امریکہ نے واضح کیا کہ کوئی امریکی فوجی غزہ میں تعینات نہیں ہوگا۔ امریکہ صرف رابطہ کاری اور نگرانی کے کردار میں حصہ لے گا۔
- اہداف: اس فورس کا بنیادی مقصد غزہ میں حماس کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا، یرغمالوں کی واپسی کو یقینی بنانا، اور علاقے کی تعمیر نو کے لیے حالات سازگار بنانا ہے۔ وینس نے اسے "تقدیر کا دن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
- اسرائیلی حمایت: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے کی مکمل حمایت کی اور کہا کہ یہ حماس کو تنہا کرنے اور یرغمالوں کی واپسی میں کامیاب رہا ہے۔
پس منظر
یہ اعلان صدر ٹرمپ کے ستمبر 2025 میں پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کا تسلسل ہے، جو 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا۔ یہ منصوبہ حماس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مکمل طور پر غیر مسلح ہو جائے، ورنہ اسے "تیز، غضبناک اور بربری” فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ X پر صارفین اور نیوز ہینڈلز جیسے @FoxNews اور @K24English نے اسے "غزہ امن منصوبے کے لیے تقدیر کا دن” قرار دیا، جہاں وینس نے خلیجی عرب ممالک سے حماس کی غیر مسلح ہونے کی ضمانت لینے کی اپیل کی۔
چیلنجز
اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے:
- حماس کا ردعمل: حماس کی طرف سے غیر مسلح ہونے کی کوئی واضح علامت نہیں ملی، جو اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
- علاقائی تعاون: عرب ممالک کی شمولیت کے باوجود، ان کی طرف سے فورس کی قیادت اور وسائل کی فراہمی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
- امریکی کردار: امریکی فوجیوں کی عدم موجودگی کے باوجود، امریکہ پر غیر جانبداری کے حوالے سے تنقید ہو سکتی ہے۔
عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ
اسی دن، عالمی عدالت انصاف (ICJ) نے ہیگ سے ایک مشاورت رائے جاری کی، جس میں اسرائیل کو غزہ اور مغربی کنارے میں اقوام متحدہ کی امدادی کوششوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی۔
فیصلے کی تفصیلات
- امداد کی ترسیل: عدالت نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ فلسطینیوں کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، پناہ گاہ، اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دسمبر 2024 میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آیا۔
- UNRWA کی حمایت: عدالت نے اسرائیل سے کہا کہ وہ فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی (UNRWA) کی سرگرمیوں کی حمایت کرے اور اسے غزہ میں کام کرنے کی اجازت دے۔ اسرائیل کے الزامات کہ UNRWA کے ملازمین حماس سے وابستہ ہیں، عدالت کے مطابق غیر ثابت شدہ ہیں۔
- قانونی اہمیت: یہ رائے قانونی طور پر پابند نہیں ہے، لیکن اس کی اخلاقی اور سیاسی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ فلسطینی وزیر خارجہ Varsen Aghabekian Shahin نے X پر اسے "تاریخی فیصلہ” قرار دیا، جو غزہ میں امداد کی ترسیل میں اسرائیلی رکاوٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
عالمی ردعمل
- ناروے کی قرارداد: ناروے نے فوری طور پر اعلان کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرے گا تاکہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
- اسرائیلی موقف: اسرائیل نے اس فیصلے کو "سیاسی” قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ UNRWA کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا، تاہم دیگر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔
امداد کی موجودہ صورتحال
ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق، غزہ میں فی الحال روزانہ 750 ٹن امداد پہنچ رہی ہے، جبکہ ہدف 2000 ٹن ہے۔ امداد کی ناکافی ترسیل غزہ کے عوام کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے، جہاں بنیادی ضروریات کی شدید قلت ہے۔
تجزیہ: غزہ کی موجودہ صورتحال
یہ دونوں پیش رفت 10 اکتوبر 2025 کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں اہم ہیں۔ اگرچہ جنگ بندی نے فوری تشدد کو روک دیا ہے، لیکن کئی مسائل اب بھی حل طلب ہیں:
- امن کی پائیداری: بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی کامیابی کا انحصار حماس کے ردعمل اور علاقائی تعاون پر ہے۔ اگر حماس غیر مسلح ہونے سے انکار کرتا ہے، تو جنگ بندی ناکام ہو سکتی ہے۔
- امداد کی ترسیل: ICJ کے فیصلے کے باوجود، اسرائیل کی پابندیوں کی وجہ سے امداد کی ترسیل اب بھی ناکافی ہے۔ عالمی برادری کو اس پر عمل درآمد کے لیے دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔
- علاقائی اور عالمی کردار: عرب ممالک اور عالمی اداروں کے تعاون کے بغیر، نہ تو سکیورٹی فورس کامیاب ہوگی اور نہ ہی امدادی کوششیں اپنے اہداف حاصل کر سکیں گی۔
خلاصہ:
امریکہ کا بین الاقوامی سکیورٹی فورس کا اعلان اور عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ غزہ میں امن اور انسانی امداد کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ تاہم، ان کی کامیابی کا انحصار عملی عمل درآمد، علاقائی تعاون، اور حماس کے رویے پر ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ان اقدامات کی حمایت کرے اور غزہ کے عوام کے لیے ایک پائیدار اور منصفانہ حل کی طرف کام کرے۔ یہ پیش رفت امن کی طرف ایک قدم ہو سکتی ہیں، لیکن چیلنجز اب بھی بہت ہیں۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !