پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ، قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد ایٹمی طاقت کا نیا کھیل!

سعودی دفاعی معاہدہ

مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ 9 ستمبر کو قطر کی دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی فضائی حملے نے خلیجی ریاستوں کی سلامتی کی بنیادوں کو ہلا دیا، جبکہ صرف ایک ہفتے بعد 17 ستمبر کو سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دستخط ہونے والے باہمی دفاعی معاہدے نے علاقائی طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ معاہدہ، جو "اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” (SMDA) کہلاتا ہے، سعودی عرب کو پاکستان کی ایٹمی طاقت کا بالواسطہ تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف ایک جوہری رکاوٹ کا اشارہ دیتا ہے۔ کیا یہ "اسلامی نیٹو” کی بنیاد ہے؟ یا پھر خلیج کی ریاستوں کی امریکی اتحاد سے دوری کی ابتداء؟ اس مضمون میں ہم ان سوالوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔

قطر پر اسرائیلی حملہ: خلیج کی سلامتی کی کمزوری کا انکشاف

9 ستمبر 2025 کو اسرائیلی فضائیہ نے "آپریشن سمیٹ آف فائر” کے نام سے ایک حملہ کیا، جس میں لال سمندر سے اڑنے والے 10 سے زائد لڑاکا طیاروں نے دوحہ میں ایک رہائشی اور دفاعی کمپاؤنڈ پر 10 سے زائد میزائل داغے۔ ہدف حماس کے سینئر رہنما تھے، جو قطر میں غزہ مذاکرات کے لیے موجود تھے۔ حملے میں حماس کے پانچ نچلے درجے کے ارکان اور ایک قطری اندرونی سلامتی افسر ہلاک ہوئے، جبکہ سینئر رہنما محفوظ رہے۔ قطری وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اسے "ریاستی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا کہ "نیٹن یاہو کو عالمی فوجداری عدالت میں پیش ہونا چاہیے”۔

یہ حملہ خلیجی ریاستوں کے لیے ایک وارننگ تھا۔ قطر، جو امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور جہاں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ال عدید موجود ہے، اسرائیلی حملے کو روکنے میں ناکام رہا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے حملے سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیٹن یاہو کو مطلع کیا تھا، لیکن حملہ روکا نہ گیا۔ اس سے خلیجی ممالک میں امریکی سلامتی کی ضمانتوں پر شکوک پیدا ہو گئے۔ 15 ستمبر کو دوحہ میں عرب-اسلامی ایمرجنسی سمٹ میں شرکت کرنے والے رہنماؤں نے اسرائیل کو "دشمن” قرار دیا اور علاقائی سلامتی کے لیے "فیصلہ کن اقدامات” کا اعلان کیا۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا اور ایک "عرب نیٹو” کی طرز پر مشترکہ دفاعی فورس قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

حملے کی کلیدی تفصیلاتتفصیل
تاریخ اور جگہ9 ستمبر 2025، دوحہ، قطر
ہدفحماس رہنما، غزہ مذاکرات کے دوران
حلاکتیں5 حماس ارکان + 1 قطری افسر
وسائل10+ لڑاکا طیارے، لال سمندر سے میزائل
عالمی ردعملقطر: "ریاستی دہشت گردی”؛ امریکہ: "اسرائیل کے مقاصد کی خلاف ورزی”

یہ حملہ نہ صرف قطر کی ثالثی کی حیثیت کو ختم کر گیا بلکہ خلیج کی ریاستوں کو یہ احساس دلایا کہ امریکی تحفظ اب قابل اعتماد نہیں۔

پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ: ایٹمی چھتری کی توسیع

حملے کے صرف آٹھ دن بعد، 17 ستمبر کو ریاض میں سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان SMDA پر دستخط ہوئے۔ معاہدے کے مطابق، "ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ شمار ہوگا”، اور یہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنائے گا۔ پاکستان، جو 1998 سے ایٹمی طاقت ہے، سعودی عرب کو جوہری رکاوٹ فراہم کر رہا ہے – ایک ایسی "چھتری” جو اسرائیل کی جوہری برتری کو چیلنج کرے گی۔ سعودی عرب، جو G20 کا ممبر اور عالمی تیل کی سب سے بڑی برآمد کنندہ ہے، پاکستان کو فوجی تربیت، ہتھیاروں کی ترقی اور ممکنہ طور پر تیل کی فراہمی کی ضمانت دے گا۔

یہ معاہدہ دہائیوں پرانے سعودی-پاکستانی تعلقات کی توسیع ہے، جو 1960 کی دہائی سے جاری ہیں، لیکن اب یہ رسمی اور جوہری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قطر حملے کا براہ راست نتیجہ ہے، جو سعودی عرب کو امریکی انحصار سے دور کر رہا ہے۔ سعودی عرب BRICS میں شمولیت کی طرف بڑھ رہا ہے اور روس/چین سے دفاعی نظام خرید رہا ہے، جبکہ پاکستان کو سعودی مالی مدد (6 بلین ڈالر کی حالیہ امداد) مل رہی ہے۔

ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل متنوع ہے: بھارتی صارفین اسے "اسلامی نیٹو” قرار دے رہے ہیں اور ہندوستان پر اثرات کا ذکر کر رہے ہیں، جبکہ پاکستانی صارفین اسے "اسرائیل کے خلاف جوہری وارننگ” سمجھ رہے ہیں۔ ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ "سعودی عرب اب پاکستان کی جوہری طاقت کی زد میں ہے، جو اسرائیل کو خلیج میں مہم جوئی سے روکے گا”۔

علاقائی اثرات: ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ پر دباؤ

یہ معاہدہ علاقائی طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہا ہے:

  1. اسرائیل پر جوہری خطرہ: اسرائیل، جو مشرق وسطیٰ کی واحد ایٹمی طاقت ہے، اب سعودی حملے کی صورت میں پاکستان کی جوہری جوابی کارروائی کا سامنا کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ "قطر حملے کے بعد اسرائیل کو واضح پیغام ہے”۔
  2. ہندوستان کی تشویش: پاکستان-سعودی اتحاد ہندوستان کو متاثر کرے گا، کیونکہ سعودی عرب ہندوستان کا سب سے بڑا تیل سپلائر ہے۔ بھارتی حکام "قومی سلامتی کے اثرات کا جائزہ” لے رہے ہیں، اور ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ "ہندوستان کو براہموس میزائل سے ٹیسٹ کرنا چاہیے”۔ سعودی عرب نے ہندوستان کو یقین دلایا کہ "تعاون پہلے سے زیادہ مضبوط ہے”۔
  3. امریکی اتحاد کی کمزوری: قطر حملے نے امریکی ضمانتوں کو بے نقاب کیا، جس سے سعودی عرب روس/چین کی طرف رجوع کر رہا ہے۔ BRICS کی توسیع (UAE اور سعودی شمولیت) امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہی ہے۔
فریقممکنہ اثرات
اسرائیلجوہری رکاوٹ، خلیج میں محدود کارروائیاں
ہندوستانتیل کی فراہمی کا خطرہ، دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی
امریکہخلیجی اتحاد کی کمزوری، BRICS کی طرف مائل ہونے والے ممالک
ایرانسعودی-پاکستانی بلاک سے توازن، ممکنہ تصادم

مستقبل کی جھلکیاں: نئی جغرافیائی سیاست کی بنیاد؟

یہ معاہدہ "واٹر شیڈ” (Watershed) موڑ ہے، جو خلیجی ریاستوں کو جنوبی ایشیا اور یوریشیا کی طاقتوں سے جوڑ رہا ہے۔ ترکی اور مصر جیسے ممالک بھی اسی سمت میں بڑھ رہے ہیں، جو ایک "اسلامی بلاک” کی تشکیل کا اشارہ دیتا ہے۔ تاہم، چیلنجز بھی ہیں: پاکستان کی معاشی کمزوری اور سعودی عرب کی اندرونی اصلاحات اس اتحاد کو آزمائیں گی۔

مجموعی طور پر، قطر حملہ اور سعودی-پاکستانی معاہدہ مشرق وسطیٰ کو multipolar دنیا کی طرف لے جا رہے ہیں، جہاں ایٹمی طاقت کا "نیا کھیل” امریکی بالادستی کو ختم کر دے گا۔ کیا یہ امن لائے گا یا مزید تنازعات؟ وقت بتائے گا، لیکن ایک بات واضح ہے: خلیج اب اکیلا نہیں لڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے