دو سال سے جاری تنازعے کے بعد غزہ میں ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے، جہاں اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پیش کردہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت فوری جنگ بندی، یرغمالوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، اور غزہ میں انسانی امداد کی بڑے پیمانے پر رسائی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس کی مرحلہ وار عملداری کے لیے پرعزم ہے۔ حماس نے بھی اسے "امن کی طرف ایک اہم قدم” قرار دیتے ہوئے تمام یرغمالوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کی حمایت کی ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
ٹرمپ پلان دو مرحلوں پر مشتمل ہے:
- پہلا مرحلہ (6 ہفتے): فوری جنگ بندی، تمام زندہ یرغمالوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، اور غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی۔ اس دوران اسرائیلی فوج غزہ سے جزوی انخلاء شروع کرے گی۔
- دوسرا مرحلہ: حماس کی عدم مسلحی، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء، اور ایک مستقل امن معاہدے کی طرف پیش رفت۔ اس مرحلے میں فلسطینیوں کے لیے خودمختاری اور اسرائیل کے لیے سلامتی کے اصولوں پر مذاکرات ہوں گے۔
اس معاہدے کی ثالثی میں مصر اور قطر نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ اقوام متحدہ اور عالمی ریڈ کراس نے انسانی امداد کی ترسیل کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔
عالمی ردعمل
عالمی برادری نے اس معاہدے کا پرتپاک خیرمقدم کیا ہے اور اسے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی امید قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اسے "تاریخی لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب ترجیح غزہ کے انسانی بحران کا خاتمہ اور معاہدے کی مکمل عملداری ہونی چاہیے۔ عالمی ریڈ کراس کی صدر مرجانا اسپولجارک ایگر نے امداد کی ترسیل اور یرغمالوں کی واپسی کے لیے اپنی تنظیم کی تیاری کا اعلان کیا۔
اہم عالمی بیانات
- برطانیہ: وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اسے "گہری راحت کا لمحہ” قرار دیا، جبکہ فارن سیکریٹری یوٹیٹ کوپر نے کہا کہ برطانیہ امن عمل میں فعال کردار ادا کرے گا۔
- فرانس: صدر ایمانویل ماکروں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دو ریاستی حل کی بنیاد بنے گا۔
- مصر: صدر عبدالفتاح السیسی نے انسانی امداد کی فوری رسائی پر زور دیا اور مصر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا۔
- قطر: وزارت خارجہ نے حماس کی تیاری اور ٹرمپ پلان کی حمایت کی۔
- بھارت: وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی قیادت کی تعریف کی اور مستقل امن کی امید کا اظہار کیا۔
- پاکستان: وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور فلسطینیوں کے لیے امداد پر زور دیا۔
- فلسطینی اتھارٹی: صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ معاہدہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کی بنیاد بن سکتا ہے۔
- آسٹریلیا: وزیر اعظم اینتھونی البانیز نے اسے "امید کی کرن” قرار دیا اور تشدد کے خاتمے کی امید ظاہر کی۔
غزہ میں صورتحال
غزہ سٹی، خان یونس، اور دیگر علاقوں میں فلسطینیوں نے جنگ بندی کی خبر پر جشن منایا، جہاں لوگوں نے "اللہ اکبر” کے نعرے لگائے اور امداد کی آمد کی امید کی۔ تاہم، دو سال کی جنگ میں 67,194 فلسطینیوں کی ہلاکت (وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق) کے بعد غم اور خوف بھی موجود ہے۔ یرغمالوں کے خاندانوں نے راحت کا اظہار کیا، مگر کچھ نے حماس کے مکمل تعاون پر شکوک کا اظہار کیا۔
چیلنجز اور مستقبل کی امید
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معاہدے کی کامیابی اس کی مکمل عملداری پر منحصر ہے۔ ام尼斯ٹی انٹرنیشنل کی سربراہ اجnés کالا مارڈ نے کہا کہ یہ "تاخیر سے آئی امید” ہے، اور انسانی حقوق کی ضمانت ضروری ہے۔ ٹرمپ نے ذاتی طور پر امن عمل کی نگرانی کا عزم ظاہر کیا ہے اور حماس کو "دائمی امن کے لیے تیار” قرار دیا۔
یہ معاہدہ نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔ اگر تمام فریقین اپنے وعدوں پر قائم رہے، تو یہ دو ریاستی حل کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، جس سے فلسطینیوں کو خودمختاری اور اسرائیل کو سلامتی ملے گی۔ تاہم، عالمی برادری کی طرف سے مسلسل نگرانی اور حمایت اس کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں