کچھ دن پہلے ایک نوجوان نے اپنی ایک مسیج میں یہ سوال کیا تھاکہ” میں مولانا وحید الدین خان کو کافی عرصہ سے پڑھتا اور پسند کرتا رہا ہوں ، مگر جب سے خان صاحب کے بارے میں آپ کے تنقیدی مضامین کو پڑھنا شروع کیا ، تب سے میری بے اطمینانی کی کیفیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، چونکہ یہ بات معلوم ہے کہ آپ پہلے مولانا وحیدالدین خان کے حامی تھے اور اب آپ ان کے ناقد ہیں ، تو میں آپ سے جاننا چاہتا ہوں کہ خان صاحب کے ناقدین میں سے کس کی کتاب نے آپ کو متاثر کیا ؟ یا کون سی کتاب خان صاحب کی تنقید میں پڑھنے کے لائق ہے ؟ "
ارشد احمد / پلوامہ
اس سوال کا جواب دینا میرے لئے اس لئے مشکل ہے کہ مولانا عامر عثمانی کے بعد کسی نے بھی مولانا وحید الدین خان پر جامع اور مدلل انداز میں تنقید نہیں کی ہے ۔ چونکہ خان صاحب موجودہ دور کے ان گنے چنے علماء میں سے ایک تھے ، جو بسیار نویس اور زود نویس تھے ، لیکن ان کی کتابوں اور ان کے مضامین کا غالب پہلو تنقید و تنقیص رہا ہے ، اور انہوں نے انہوں نے پچھلی کئی صدیوں پر محیط علماء جیسے امام ابن تیمیہ سے لیکر مولانا سید ابوالحسن علی ندوی تک کوئی ایک بھی ایسا عالم نہیں ہوگا ، جس پر انہوں نے تنقید کے تیر و نشتر نہ چلائے ہوں ، اس لئے ظاہر سی بات ہے کہ اب خان صاحب کی اس شدید تنقید کا بھی ایک شدید رد عمل سامنے آنا کوئی غیر متوقع معاملہ نہیں تھا ۔ کیونکہ ان کے بھی بیشمار ناقدین پیدا ہوگئے ، لیکن ان میں اکثر ایسے لکھنے والے ہیں ، جو لفاظی کرتے ہیں یا عادت سے مجبور ہوکر لکھتے ہیں ، بعض اہل دانش خان صاحب کی زندگی میں ان کی جوابی تنقید سے اس قدر ڈرتے تھے کہ وہ ان کا نام لیکر تنقید کرنے سے کتراتے یا وہ کسی نفسیاتی خوف میں رہتے تھے کہ معلوم نہیں کہ خان صاحب کا قلم کس تیز رفتاری سے چل پڑے ، اور پھر جواب دینا مشکل ہوجائے ، کیونکہ یہ بات بہر حال صحیح ہے کہ جن علماء نے دین کی سیاسی تعبیر کی ، ان کے مقابلے میں مولانا وحیدالدین خان اور مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا موقف اقرب الی النصوص تھا ۔ بلکہ بعد میں مولانا شمس پیرزادہ نے بھی اپنی تفسیر سورۃ الشوریٰ آیت 13 کے تحت تصور دیں کے حوالے سے اپنی سابقہ تعبیرات سے رجوع کیا تھا ، اس لئے ان کمزور تنقید کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ خان صاحب نے کیسے بڑے بڑے علماء کو چکر میں ڈال رکھا تھا ۔
اصل یہ کہ خان صاحب کی تنقید میں مولانا عامر عثمانی کے بعد ایک بھی عالم کی کتاب تنقیدی معیار کے اعتبار سے مجھے پسند نہیں آئی ہے ، مثال کے طور پر ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی نے خان صاحب کی تنقید میں تین کتابیں شائع کی تھیں ، جن میں دو کتابیں ان کی خود کی لکھی ہوئی تھیں اور ایک کتاب مرتب کردہ ہے ، جس کا نام ‘ وحید الدین خان علماء اور دانشوروں کی نظر میں ” ہے ۔ لیکن افسوس کہ ان کی خود کی لکھی ہوئی دو کتابیں انتہائی سطحی اور غیر علمی ہیں ، میرے نزدیک وہ دونوں کتابیں کوڑے دان میں پھینکنے کے قابل ہیں ، لیکن جو ان کی تیسری مرتب کردہ کتاب ہے ، اس کے بعض مضامین پڑھنے کے لائق ہیں ۔ کشمیر میں بھی خان صاحب کی تنقید میں توہین رسالت کے حوالے سے ایک کتاب نظر سے گزری تھی ، جو کہ کسی طفل مکتب سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں تھی ۔ اس طرح کے نادان قلمکار جس طرف ہوا کا دباؤ دیکھتے ہیں تو وہ بھی اپنی ٹوٹی پھوٹی اور بیکار کشتی طرف دوڑا دیتے ہیں ۔ اس طرح کے افراد پر ظفر گورکھپوری کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے ؛
کتنی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کو
میں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کر
اسی طرح حیدر آباد کے محمد اشفاق حسین مرحوم نے خان صاحب کی تنقید میں ایک درجن کے قریب کتابیں لکھی ہیں ، لیکن وہ سب کی سب علمی خیانت و بد دیانتی اور صریحاً جہالت و ذاتی عناد پر مبنی ہیں ۔ ان کے ساتھ میری طویل خط و کتابت بھی رہی ہے ، اور ان کی تمام کتابوں کے علاوہ ان کے بہت سارے خطوط اور مضامین ایک فائل میں آج بھی میرے پاس موجود ہیں ، لیکن سب چیزیں پڑھنے کے بجائے نذر آتش کرنے کے قابل ہیں ۔
اس طرح کے افراد کے بارے میں کسی شاعر نے ایک فکر انگیز شعر کہا ہے ؛
دور ہی کچھ ایسا آگیا ہے ، بے ہنر خطیب ہوگئے
زاغ عند لیب ہو گئے ، مسخرے ادیب ہو گئے
خان صاحب کی تنقید میں ایک کتاب پاکستان سے بھی شائع ہوئی ہے ، لیکن اس میں بھی زیادہ تر مضامین غیر علمی اور گھسے پٹے ہیں ، اس لئے مجھے ان میں ایک بھی کتاب پسند نہیں آئی ۔
اسی طرح ندوۃ العلماء کے ایک عالم مولانا عتیق احمد بستوی مرحوم کی ایک کتاب ” فکر کی غلطی ” بھی ہے , میرے پاس اس کے دو ایڈیشن موجود ہیں ، ایک پرانا اور دوسرا نیا اضافہ شدہ ہے ، اگرچہ اس کتاب کی بعض متفرق باتیں پڑھنے کے لائق ہیں ۔ لیکن مجموعی طور پر یہ کتاب بھی اس معیار کی نہیں ہے ، جس معیار کا اس کتاب کا نام تقاضا کر رہا تھا ، مثال کے طور پر مولانا عتیق احمد بستوی نے ” اہل حدیث گروہ ” کے ذیلی عنوان کے تحت خان صاحب کی ایک کتاب ” تجدید دین ” کے حوالے سے ایک یہ اقتباس نقل کیا ہے ۔
” موجودہ عبادتی فقہ نے اس طرح بیک وقت دو تحفے دئے ہیں ، ایک اختلاف دوسرے مذہبی جمود ، اہل حدیث کا گروہ اسی فقہی خرابی کو ختم کرنے کے لئے وجود میں آیا تھا ، مگر وہ خود ایک شدید تر قسم کا فقہی گروہ پیدا کرنے کا سبب بن گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بھی وہی غلطی کی جو ان کے پیش رؤوں نے کی تھی ، آمین آہستہ کہی جائے یا بلند آواز سے ، امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے جائے یا نہ پڑھی جائے ، اس قسم کے ضمنی فروق جو عبادتی افعال کے بارے میں روایات ملتی ہیں ، ان میں سے ہر ایک کو تسلیم کرنے کے بجائے وہ دوبارہ اس کوشش میں لگ گئے کہ ایک کو راجح قرار دے کر بقیہ کو مرجوح ثابت کریں ، اور اس طرح دوسروں کے بالمقابل خود اپنا ایک ” صحیح تر ” نظام عبادت مقرر کریں ۔ اس قسم کی کوشش صرف ایک نیا فقہی فرقہ وجود میں لاسکتی تھی اور اس نے وہی انجام دیا "
( فکر کی غلطی : ص 210 ، جدید ایڈیشن 2014ء / تجدید دین : ص 13-14/ دوسرا ایڈیشن ص 35-36 ۔ ایڈیشن 1990ء)
اگر غور سے دیکھا جائے ، اس اقتباس میں کوئی قابل اعتراض کی نہیں تھی ، بلکہ اس میں موجودہ اہلحدیث جماعت کے مسلکی شدت پسندی کی صحیح ترجمانی کی گئی تھی ، اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس اس اقتباس پر مولانا عتیق احمد بستوی نے خود بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ، تاکہ پتہ چل جاتا کہ اس اقتباس میں کون سی قابل اعتراض بات ہے ؟ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ بستوی صاحب خود بھی جانتے تھے کہ خان صاحب کا یہ تنقیدی نوٹ جماعت اہلحدیث پر مبنی برحق ہے ، لیکن انہوں نے محض اہلحدیث حضرات کو خوش کرنے کے لئے اس اقتباس کو نقل کیا ہے ، تاکہ اپنی اس غیر علمی کتاب کی داد ان سے بھی وصول کرسکیں ، اور وہ بھی خان صاحب کے خلاف مورچہ کھولیں ۔ اس لئے میرے نزدیک اس طرح کی تنقید درست نہیں ہے ۔
جب بستوی صاحب کی کتاب ” فکر کی غلطی ” پہلی بار شائع ہوئی تھی ، اس وقت میں نے اس کے رد میں ایک مضمون لکھا تھا ، جسے خان صاحب نے اپنے ادارتی نوٹ کے ساتھ الرسالہ کے ایک شمارہ ( تاریخ یاد نہیں) میں بھی شائع کیا تھا ۔ اس کتاب میں تنقید کے کچھ نمونے ایسے بھی ہیں ، جو تحصیل حاصل کے سوا کچھ نہیں ہیں ، کیونکہ یہ کتاب روایتی اسلوب میں لکھی گئی غیر علمی کتاب ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے خان صاحب کے مشن پر کچھ خاص اثر نہیں پڑا تھا ۔
لیکن جب میں نے خان صاحب کی تنقید میں پہلی بار کتاب لکھی تھی ، تو میں نے ان کا ہی اسلوب تحریر اختیار کرتے ہوئے ان پر مکمل حوالوں کے ساتھ تنقید کی تھی ، جس کا جواب خان صاحب نے نہیں دیا تھا ، جبکہ میں نے اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اس کا مسودہ بھی خان صاحب کی خدمت میں بھیجا تھا ، لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ، پھر کتاب شائع ہونے کے بعد اس کی ایک عدد کاپی سب سے پہلے خان صاحب ہی کی خدمت میں بھیجی گئی تھی ، تاکہ ایک سند اور حجت قائم رہے ۔
میری اس کتاب کے بعد مولانا عتیق احمد بستوی پر نفسیاتی دباؤ پڑ گیا تھا ، تو انہوں نے اپنی اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنے کا فیصلہ کیا ، اور جن خاص اہل دانش نے خان صاحب کی تنقید میں مضامین اور کتابیں لکھی تھیں ، ان کا ذکر کیا ، لیکن میرا ذکر نہیں کیا ، اس عدم ذکر کی دو وجہ ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ میں نے ان کی کتاب ” فکر کی غلطی ” پر بہت پہلے تنقید کی تھی ، جس کا رد عمل لازمی تھا ، اس لئے اپنی اس لاحاصل کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں میری کتاب کا ذکر نہیں کیا ، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے الرسالہ مئی 2010ء کے شمارہ پر جو تنقید کی تھی ، وہ اصل میں میری کتاب سے مستفاد و ماخوذ تھی ، کیونکہ میں نے ہی اس شمارہ کو ایکسپوز کیا تھا ، اور جس کی تنقید میں میرا قسط وار مضمون ماہ نامہ الفرقان میں جنوری فروری 2011ء کے دو شماروں میں شائع ہوا تھا ، اور پھر وہی مضمون مزید اضافہ کے ساتھ مولانا سجاد نعمانی نے اسے کتاب کی شکل میں ” مولانا وحید الدین خان اور دعوائے مسیحیت و مہدویت ” کے نام سے اپنے ادارہ نعمانی اکیڈمی سے شائع بھی کیا تھا ، اور قابل غور بات یہ ہے کہ اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد خان صاحب نے پہلی بار میری اس کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الرسالہ کے ایک شمارہ میں یہ لکھا تھا ۔
” اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا مشن خالص دعوتی مشن ہے ، لیکن خلاف واقعہ کے طور پر ہمارے خلاف اتنا زیادہ منفی پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ساری دنیا میں لوگ ہمارے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ، یہ طاقتور منفی پروپیگنڈہ بلاشبہ ویسا ہی تھا جیساکہ ابرہہ کا کعبہ پر حملہ "
( الرسالہ جنوری 2012ء : ص 35)
خان صاحب کا میری اس تنقید کو زبردست پروپگنڈہ کہنا اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ خان صاحب کو میری کتاب نے داخلی و خارجی طور پر ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ چونکہ میں بزدلوں کی طرح چوری چھپے تنقید کرنے والا نہیں ہوں ، بلکہ میں متعین طور پر نام لیکر ڈنکے کی چوٹ پر علم اور دلیل کی زبان میں تنقید کرتا ہوں ، تاکہ اس شخص تک حق بات پہنچ جائے ، جو خود دوسروں پر تنقید کرتا ہے ، اور وہ بھی اپنے افکار و نظریات پر غور کرکے نظر ثانی کی زحمت اٹھائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر خان صاحب کے افکار و نظریات پر تنقید نہ بھی کی جائے ، لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ ان کے مشن کے ساتھ خدائی تائید شامل نہیں تھی ، اس لئے مسلمانوں میں ان کے افکار و نظریات کا کوئی قابل ذکر اثر نہیں پایا جاتا ہے ، اور اس کے ذمہ دار خود خان صاحب ہی تھے کہ جب وہ پے در پے اپنے نظریات لباس کی طرح بدلتے رہے ، جس کی وجہ سے ان کا مشن اپنے آپ فلاپ ہوگیا ، اور اب جو ان کے ادارے سے کتابیں چھپتی ہیں ، وہ ان کے افراد خانہ کا روز گار کا ذریعہ تو ہے ، مگر دعوت الی اللہ نہیں ، اور وہ خان صاحب ہی کے نام پر ان کے عقیدت مندوں سے الرسالہ مشن چلانے کے لئے معقول چندہ بھی وصول کرتے رہتے ہیں ، لیکن بہر حال یہ ساری چیزیں اسلام کے بول بالا کے لئے نہیں ، بلکہ خان صاحب کا بول بالا کرنے پر صرف کی جاتی ہیں ، حد یہ کہ سوشل میڈیا پر صرف خان صاحب کے اقوال و ارشادات شئیر کئے جاتے ہیں ، اور اب ان کے حلقہ میں قرآن و حدیث کو حاشیہ میں بھی جگہ کہیں نظر نہیں آتی ، اور اس کے لئے اب ان کے خاندان یا ان کے حلقہ سے کوئی عالم دین سامنے نہیں آرہا ہے ، البتہ ان کی ایک پوتی ماریہ خان سوشل میڈیا پر خان صاحب کے افکار ونظریات کی تبلیغ کرنے میں ہر وقت سرگرم عمل نظر آتی ہیں ۔ مگر اس کا فائدہ صفر کے درجے میں بھی نہیں ۔
آنچار صورہ سرینگر
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں