کامیاب زندگی کون لوگ گذارتے ہیں ؟

Students Students / Image Credit To / nasca.edu.in

ایک نجومی رات میں ستاروں کو بغور دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک کنویں میں گر گیا، اس پر کسی دانا نے کہا کہ "آسمان کا مطالعہ کرنے والے! تمہیں یہ خبر نہیں کہ تمہارے پاؤں کے نیچے کیا ہے؟”

جب کوئی شخص کسی چیز کو دیکھتا ہے تو وہ اس کے علاوہ دوسری چیزوں کو نہیں دیکھتا، یعنی وہ ایک چیز پر نظر ڈالتا ہے اور بے شمار چیزوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ جن چیزوں کو وہ نہیں دیکھ رہا ہے وہ ان چیزوں سے زیادہ اہم ہوں جنہیں وہ دیکھ رہا ہے۔ راہی سڑک کے ایک جانب پوری توجہ مرکوز کر دیتا ہے اور دوسری جانب سے آنے والی گاڑی اسے کچل دیتی ہے۔ سانپ سے بھاگنے والا شیر کا لقمہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح جب کوئی شخص ایک بات سنتا ہے تو عین اس وقت وہ بہت سی باتیں نہیں سنتا۔ کلاس روم میں ایک طالب علم اپنے ساتھی کی بات سننے لگتا ہے اور استاد کی اہم باتیں اس کے کانوں میں نہیں پڑتیں۔ اجنبی کی بات سننے والا اپنے والدین کے لیے بہرا بن جاتا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جنہیں بدخواہوں اور دشمنوں کی باتیں سنائی دیتی ہیں جبکہ خیرخواہوں اور دوستوں کی آوازوں پر کان نہیں دھرتے۔

اسی طرح جب کوئی شخص کسی مسئلے پر غور کر رہا ہوتا ہے، وہ اس وقت دوسرے بہت سے مسئلوں سے غافل ہوتا ہے۔ ہندوستان کا ایک طبقہ شب و روز اسلام اور مسلمانوں کے خطرے سے لوگوں کو ڈرا رہا ہے، اس پر بحثیں کر رہا ہے، لکھ رہا ہے اور بول رہا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں فرقہ واریت جس طرح ملک کو کمزور کر رہی ہے، معیشت جس طرح زوال پذیر ہو رہی ہے، اور ماحول کی آلودگی جو تباہی لا رہی ہے، جیسے زیادہ اہم مسئلوں پر اس کی کوئی توجہ نہیں۔ اور جب کچھ احساس ہوگا، اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوگی۔

ایک عالم کسی تحقیق کو بہت اہم سمجھتا ہے اور اپنی ساری صلاحیتیں اس پر لگا دیتا ہے، حالانکہ اس تحقیق کا فائدہ محدود ہوتا ہے۔ اس وقت ایسے بہت سے امور ہوتے ہیں جو اس سے زیادہ تحقیق طلب ہوتے ہیں لیکن ان پر ریسرچ کرنے کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ بسا اوقات جس مسئلے پر آدمی غور کرتا ہے اور اس کی افادیت کا یقین اسے بڑھتا جاتا ہے، عین اس وقت اسی مسئلے کے بہت سے نقصان دہ پہلو اس سے اوجھل ہوجاتے ہیں:

وحشت میں ہر ایک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے، لیلیٰ نظر آتا ہے

جن چیزوں کو آدمی نہیں دیکھتا، نہیں سنتا یا نہیں سمجھتا، وہ دو قسم کی ہیں:

ایک وہ جنہیں دوسرے بھی نہیں دیکھتے، نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے۔ ان کو غیبیات کہتے ہیں۔ ان کے بارے میں انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالم الغیب کی تعلیمات پر غور کرے اور انہیں دیکھے جانے والے، سنے جانے والے اور تجربے میں آنے والے حقائق سے زیادہ اہمیت دے، کیونکہ ان کو نظرانداز کرنے سے ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:
"بل تؤثرون الحياة الدنيا والآخرة خير وأبقى”
اور
"للآخرة أكبر درجات وأكبر تفضيلا”

اسی طرح قرآن میں بہت سے ایسے معارف ہیں جو بالکل بدیہی ہیں، لیکن انسانوں کے لیے ان کی تحصیل نظری دقیق معارف سے بھی زیادہ دشوار ہے۔ اس لیے سمجھداری کی بات یہ ہے کہ ان بلند و بالا حقائق کے متعلق اپنی جہالت کا اعتراف کیا جائے، نہ یہ کہ بیوقوفوں کی طرح ان کے بارے میں عالمانہ تبصرے کیے جائیں۔

دوسری قسم ان چیزوں کی ہے جنہیں اس کے علاوہ دوسرے لوگ دیکھتے، سنتے اور سمجھتے ہیں۔ ان کے متعلق اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ قابلِ اعتماد، مخلص اور عقلمند خیرخواہوں سے مشورہ کرتا رہے، تواضع سے ان کی باتوں پر کان دھرے، اور اپنی من مانی نہ کرے۔ ورنہ وہ خود بھی گمراہ ہوگا اور وہ سارے لوگ بھی جو اس خود فریب انسان کی پیروی کر رہے ہوں گے۔

دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی اسی کمزوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اہلِ علم و بصیرت سے رجوع کرنے اور ان سے مشورہ لینے کا حکم دیا ہے، بلکہ اپنے پیغمبر کو بھی حکم دیا ہے کہ دوسروں سے مشورہ کرے۔ مشورے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ساتھ بہت سی چیزیں دیکھی جا سکتی ہیں، بہت سی باتیں سنی جا سکتی ہیں، اور بہت سے مسائل سمجھے جا سکتے ہیں۔

اس لیے جہاں یہ اہم ہے کہ ہم خود دیکھیں، سنیں اور سمجھیں، وہیں یہ بھی اہم ہے کہ ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دوسرے کیا دیکھ رہے ہیں، کیا سن رہے ہیں اور کیا سمجھ رہے ہیں۔ یعنی ہم وہ چیزیں دیکھیں جنہیں ہم دیکھ نہیں رہے، وہ باتیں سنیں جنہیں ہم سن نہیں رہے، اور ان مسائل کا ادراک کریں جنہیں ہم نے اپنی نادانی اور غفلت سے نظر انداز کر دیا ہے۔

نادانی، غفلت، خودبینی، کورچشمی، خودپسندی، بددماغی اور تعلی نے پتہ نہیں کتنے انسانوں، قوموں اور تہذیبوں کو تباہ کر دیا ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جس بات کو انسان صحیح سمجھتا ہے وہ غلط ہوتی ہے، اور جس بات میں عیب نکالتا ہے وہی صحیح ہوتی ہے:

وكم من عائب قولاً صحيحاً
وآفته من الفهم السقيم
ولكن تأخذ الأفهام منه
على قدر القرائح والعلوم

آسمان اور زمین گواہ ہیں کہ کتنے وہ لوگ جنہیں عقلیں دی گئی تھیں، دوسروں کی بات پر کان نہ دھَرنے سے ان کا انجام بیوقوفوں اور جاہلوں سے بدتر ہوا۔ اور کتنے کم عقل اور جاہل دوسروں کے مشورے قبول کرنے کی وجہ سے داناؤں اور بیناؤں سے زیادہ دانا اور بینا نکلے۔ آنکھوں والے ٹھوکریں کھاتے ہیں اور نابینا آسانی سے منزل تک پہنچ جاتا ہے۔

زندگی کو وہی لوگ کامیابی سے گزارتے ہیں جو اپنی کمزوریوں کو سمجھتے ہیں اور انہیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو دو آنکھوں، دو کانوں اور ایک دماغ پر قانع نہیں ہوتے، بلکہ ہزاروں آنکھوں سے دیکھتے، ہزاروں کانوں سے سنتے، اور ہزاروں دماغوں سے سوچتے ہیں:

میں سن رہا ہوں اسے جو سنائی دیتا نہیں
میں دیکھتا ہوں اسے جو دکھائی دیتا نہیں

کتنے پڑھے لکھے سربراہانِ جمہوریتِ عالم پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے اپنے غلط فیصلوں سے خود کو اور پوری قوم کو برباد کر رہے ہیں، جبکہ کتنے جاہل اور بیوقوف بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے رموزِ پنہانی حُکماء و عُلماء پر اعتماد کر کے خود کو دانا و بینا ثابت کیا اور اپنے ملک و قوم کو فلاح سے ہمکنار کیا:

وإذا لم تر الهلال فسلم
لأناس رأوه بالأبصار


عربى زبان وادب كى تعليم

"فلسطینی منڈیلا” مروان البرغوثی کون ہیں؟

مولانا محمد الحسنى رحمه الله کی تصنیف ”الإسلامُ المُمتَحَن”جس کو میں نے بارہا پڑھا

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے