کیا مولانا طارق جمیل کو تبلیغی جماعت سے باہر نکال دیا گیا ؟
مولانا طارق جمیل، پاکستان کے معروف دینی اسکالر اور مقرر، اپنے منفرد اندازِ بیان اور دینی پیغام کو عام فہم بنانے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ وہ تبلیغی جماعت کے ایک اہم رکن رہے ہیں، جو کہ ایک غیر سیاسی، عالمگیر دینی تحریک ہے، جس کا مقصد اسلامی تعلیمات کو عام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت کے درمیان تنازعہ کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں۔ یہ مضمون اس تنازعہ کی وجوہات، پس منظر، اور اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے۔
تبلیغی جماعت کا پس منظر
تبلیغی جماعت کی بنیاد 1926 میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے رکھی تھی۔ یہ تحریک اپنے غیر سیاسی کردار اور سادہ اندازِ تبلیغ کے لیے جانی جاتی ہے۔ جماعت کا بنیادی مقصد افراد کو دینی تعلیمات پر عمل کی دعوت دینا، اخلاقیات کو فروغ دینا، اور مسلم امہ کو متحد کرنا ہے۔ تبلیغی جماعت اپنے اصولوں پر سختی سے عمل کرتی ہے، جن میں غیر سیاسی رہنا، فرقہ وارانہ بحثوں سے گریز، اور روایتی دینی تعلیمات پر توجہ شامل ہے۔
مولانا طارق جمیل کئی دہائیوں تک اس جماعت کا حصہ رہے اور انہوں نے اس کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں خطابات کیے۔ ان کا اندازِ بیان، جو کہ جدید معاشرتی مسائل اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تھا، نے انہیں خاص طور پر نوجوانوں میں مقبول بنایا۔ تاہم، ان کے بعض اقدامات اور بیانات نے جماعت کے اندر تنازعات کو جنم دیا۔
تنازعہ کی وجوہات
مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت کے درمیان تنازعہ کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں، جو کہ نظریاتی، سیاسی، اور تنظیمی نوعیت کی ہیں۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی جاتی ہے:
1. سیاسی بیانات اور تنقید
تبلیغی جماعت اپنے آپ کو غیر سیاسی تنظیم کے طور پر پیش کرتی ہے اور کسی بھی سیاسی وابستگی سے گریز کرتی ہے۔ تاہم، مولانا طارق جمیل پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کچھ سیاسی بیانات دیے، خاص طور پر 2022 میں ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت میں۔ انہوں نے عمران خان کو ایک "صادق اور امین” رہنما قرار دیا تھا، جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ تبلیغی جماعت کے کچھ اراکین نے اسے جماعت کے غیر سیاسی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کے سیاسی بیانات کی وجہ سے جماعت نے انہیں اپنے اجتماعات میں خطاب سے روک دیا۔
2. نظریاتی اختلافات
مولانا طارق جمیل اپنے خطابات میں جدید معاشرتی مسائل جیسے کہ خواتین کے حقوق، حسنِ اخلاق، اور بین المذاہب ہم آہنگی پر بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب "گلدستہ اہل بیت” میں فرقہ وارانہ تقسیم کے خلاف موقف اپنایا اور مسلم امہ کی وحدت پر زور دیا۔ تاہم، ان کے بعض بیانات، خاص طور پر صحابہ کرام سے متعلق، بعض روایتی علماء اور تبلیغی جماعت کے اراکین کو قابلِ اعتراض لگے۔ ان کے اس انداز کو جماعت کے روایتی طریقہ کار سے مختلف سمجھا گیا، جو کہ زیادہ تر "فضائل اعمال” اور روایتی دینی تعلیمات پر مرکوز ہے۔
3. وائرل آڈیو اور شکایات
2025 میں مولانا طارق جمیل کی ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ تبلیغی جماعت کے بعض رہنماؤں سے اپنی ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس آڈیو میں انہوں نے جماعت کے اندرونی فیصلوں اور رویوں پر تنقید کی، خاص طور پر ان پر عائد کردہ پابندیوں کے حوالے سے۔ اس آڈیو نے تنازعہ کو مزید ہوا دی اور سوشل میڈیا پر بحث کا باعث بنی۔ کچھ صارفین نے اسے تبلیغی جماعت کی طرف سے ان پر پابندی کا ثبوت قرار دیا، جبکہ دوسروں نے اسے اندرونی اختلافات کا نتیجہ سمجھا۔
4. تبلیغی جماعت سے اخراج یا پابندی کے دعوے
2022 سے 2025 تک، سوشل میڈیا پر کئی بار یہ دعویٰ کیا گیا کہ مولانا طارق جمیل کو تبلیغی جماعت کے مرکزی شوریٰ سے نکال دیا گیا یا ان پر تبلیغی اجتماعات میں خطاب کرنے پر پابندی عائد کی گئی۔ ان دعووں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی، لیکن بعض رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس نے اسے سیاسی دباؤ یا جماعت کے اندرونی فیصلوں سے جوڑا۔ مولانا طارق جمیل نے خود ایک موقع پر کہا کہ "تبلیغی جماعت سے کسی کو نہیں نکالا جاتا”، لیکن وائرل آڈیو نے ان دعووں کو تقویت دی۔
5. تبلیغی جماعت کے اصولوں سے انحراف
تبلیغی جماعت کا طریقہ کار روایتی ہے، جہاں وہ صوفیانہ واقعات، فضائلِ اعمال، اور سادہ دینی تعلیمات پر زور دیتی ہے۔ مولانا طارق جمیل کے خطابات جدید مسائل پر زیادہ مرکوز ہیں اور وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے کہ یوٹیوب اور فیس بک، کو اپنا پیغام پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بعض روایتی اراکین نے ان کے اس انداز کو جماعت کے اصولوں سے انحراف سمجھا۔ خاص طور پر، ان کے بعض بیانات کو "فضائل اعمال” کی روایتی تعلیمات سے ہٹ کر دیکھا گیا، جس سے جماعت کے اندر تناؤ پیدا ہوا۔
سوشل میڈیا کا کردار
سوشل میڈیا نے اس تنازعہ کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2022 سے 2025 تک، متعدد ایکس پوسٹس اور ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ مولانا طارق جمیل پر تبلیغی جماعت نے پابندی عائد کی ہے۔ ان پوسٹس میں بعض اوقات غلط یا بے بنیاد معلومات بھی شامل تھیں، جس نے تنازعہ کو ہوا دی۔ مثال کے طور پر، کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ پابندی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے، جبکہ دوسروں نے اسے نظریاتی اختلافات سے جوڑا۔ اس کے علاوہ، وائرل آڈیو نے بھی عوامی سطح پر بحث کو مزید شدت دی۔
ردِ عمل اور عوامی رائے
مولانا طارق جمیل کے مداحوں نے ان کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ ان کا منفرد اندازِ تبلیغ اور عام فہم زبان نے لاکھوں لوگوں کو دین کی طرف راغب کیا ہے۔ ان کے خیال میں، تبلیغی جماعت کو ان جیسے ہردلعزیز مقرر کو اپنے پلیٹ فارم پر موقع دینا چاہیے۔ دوسری طرف، ناقدین نے ان کے بعض بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انہوں نے تبلیغی جماعت کے اصولوں سے انحراف کیا۔
بعض مبصرین نے مشورہ دیا کہ یہ تنازعہ اندرونی طور پر حل کیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ سوشل میڈیا پر عام کیا جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تنازعات سے تبلیغی جماعت کی ساکھ اور اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حقیقت یا افواہ؟
اگرچہ سوشل میڈیا پر یہ دعوے عام ہیں کہ مولانا طارق جمیل کو تبلیغی جماعت سے نکال دیا گیا یا ان پر پابندی لگائی گئی، لیکن تبلیغی جماعت کی طرف سے اس کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ مولانا طارق جمیل نے خود بھی اس بارے میں واضح بیانات سے گریز کیا، سوائے اس وائرل آڈیو کے جس میں انہوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ کچھ میڈیا رپورٹس نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے جماعت کے اندرونی معاملات سے جوڑا۔
اثرات
اس تنازعہ کے کئی اثرات سامنے آئے ہیں:
- عوامی سطح پر بحث: سوشل میڈیا پر اس تنازعہ نے تبلیغی جماعت کے کردار اور مولانا طارق جمیل کی مقبولیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
- جماعت کے اندر تناؤ: اگرچہ سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں ہوا، لیکن یہ تنازعہ جماعت کے اندرونی اتحاد پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
- مولانا طارق جمیل کی سرگرمیاں: مولانا طارق جمیل نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں اور وہ اپنے ذاتی پلیٹ فارمز، جیسے کہ سوشل میڈیا اور ایم ٹی جے برانڈ، کے ذریعے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں۔
نتیجہ
مولانا طارق جمیل اور تبلیغی جماعت کے درمیان تنازعہ کی بنیادی وجوہات میں سیاسی بیانات، نظریاتی اختلافات، اور جماعت کے روایتی طریقہ کار سے انحراف کے الزامات شامل ہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر یہ دعوے عام ہیں کہ ان پر پابندی لگائی گئی یا انہیں جماعت سے نکال دیا گیا، لیکن اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ مولانا طارق جمیل کی مقبولیت اور ان کا منفرد اندازِ تبلیغ انہیں عوام میں ایک اہم شخصیت بناتا ہے، اور اس تنازعہ نے ان کے کردار پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ اس معاملے کو اندرونی طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تبلیغی جماعت کا پیغام اور اتحاد متاثر نہ ہو۔
تجاویز
- تبلیغی جماعت کو اس تنازعہ کو اندرونی طور پر حل کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہیے۔
- مولانا طارق جمیل کو اپنے بیانات میں تبلیغی جماعت کے اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- سوشل میڈیا پر افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات کو روکنے کے لیے دونوں فریقوں کو واضح بیانات جاری کرنے چاہئیں۔