اٹھائیس اگست دو ہزار پچیس کی صبح ہے، میں لندن کے ہیئتھرو ہوائی اڈے کے لاؤنج میں بیٹھا ہوں، ہر لمحہ محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے یہاں رک کر میری سانسوں کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہو، شیشے کی دیواروں سے سورج کی نرم کرنیں آ رہی ہیں، اور ان کرنوں کی روشنی میرے دل کے گوشوں تک جاتی ہے، دیکھتا ہوں کہ ہر مسافر ایک الگ داستان لے کر آیا ہے، خاموشی بھی بول رہی ہے، ایک نغمہ جو صرف اندر کے کان سنتے ہیں۔
لاؤنج میں فضا نیم روشن ہے، اور سكوت وسكون میں ہلکی سی گونج ہے: کسی کے جوتوں کی چاپ، کسی کے کپڑوں کی ہلکی کھنک، ہر اعلان کی یخ صدا۔ یہ سب مل کر ایک نرم موسیقی بنا رہے ہیں جو دل کے تاروں کو چھو رہی ہے۔ ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے ہے، اور وہ بچے کی سانسوں کے ساتھ اپنی محبت کے ہر لمحے کو محسوس کر رہی ہے، ایک نوجوان اپنے بیگ کے ساتھ بے چینی سے چل رہا ہے، اور ایک شخص فون کی روشنی میں مست ہے۔ یہ تمام مناظر، یہ تمام حرکتیں، یاد دلاتی ہیں کہ ہر انسان اپنی دنیا میں محو ہے، اور ہر دل کے اندر ایک جہان ہے جو شاید کبھی سامنے نہیں آتا۔
باہر رن وے پھیلا ہوا ہے۔ جہاز اپنے فولادی پروں کو تھام کر کھڑے ہیں، جیسے پرندے جو آسمان کی پناہ میں پرواز کے لمحے کا انتظار کر رہے ہوں۔ اور آسمان لندن کا ہے—دھندلا، سنجیدہ، بادلوں میں لپٹا ہوا، گویا اپنے بوجھ میں تھکا ہوا، لیکن ہر لمحے کے لئے تیار۔ میں سوچتا ہوں کہ جیسے ہی جہاز اڑے گا، سب کچھ بدل جائے گا: شہر کی روشنی، سڑکیں، لوگ، سب ایک دھند میں مِس ہو جائیں گے۔ مگر میرے اندر کا سفر، میرے خیالات، خواب، اور امیدیں وہیں رہیں گے، اور شاید یہی اصل سفر ہے۔
کافی کی تلخ خوشبو فضا میں گھل رہی ہے، اور فرش کی چمک روشنی کو پانی کی طرح لوٹاتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ لمحے صرف انتظار کے نہیں ہیں؛ یہ لمحے مجھے میرے اندر کے افق سے ملوا رہے ہیں۔ میں اپنے دل کی دھڑکن سنتا ہوں، اور ہر لمحے کو محسوس کرتا ہوں: پروں کے کانپنے کو، بادلوں کی سرسراہٹ کو، ہوا کی نرم حرکت کو، اور اپنے دل کی گہرائی کو۔ ہر چیز ایک تمثیل لگتی ہے، ہر لمحہ ایک پیغام، اور ہر پرواز ایک اندرونی کشف۔
اہلیہ کا فون آتا ہے، اور ہم مختلف امور اور مستقبل کے سفر کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہیں۔ مریم قطر سے فون کرتی ہے اور نہ صرف سلام دعا بھیجتی ہے بلکہ اپنے مضمون کے متعلق بھی رہنمائی اور مشورہ لیتی ہے ۔ اس گفتگو میں نہ صرف علمی اور فکری پہلو زیرِ بحث آتے ہیں، بلکہ ایک گرمجوش اور خلوص بھرا تعلق بھی قائم رہتا ہے، جو فکر و محبت کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
مجلسِ فکرِ اسلامی کا گروپ متحرک ہے۔ محمود بهائی میرے سفر کی اطلاع دیتے ہیں، سلمان بهائی مسلمانوں كو مقلد اور دیوبندی بنانے کے كار ثواب میں سرگرم ہیں۔ عام طور پر فتح کا اعلان وقت سے قبل کر دیتے ہیں، مگر آج شكست ان كا مقدر ہے۔ اس کا الزام بيگم پر ڈال رہے ہیں کہ انہوں نے ناشتے کا انتظام نہیں کیا۔ ان کے دوستوں کے لئے یہ کوئی انکشاف نہیں، کیونکہ سب لوگ ابتداء ہی سے جانتے ہیں کہ سلمان بهائی کی جیت کس کی کرم فرمائی كى رہين منت ہے ۔
غور کرتا ہوں کہ زندگی کے دو پہلو ہیں: ایک وہ جو روزمرہ کے تجربات سے بنتا ہے، اور دوسرا وہ جو روحانی، تخلیقی اور فلسفیانہ پہلو رکھتا ہے، صرف نظریات یا منطقى تعریفیں انسان کو پوری طرح نہیں سمجھا سکتیں؛ اصل سمجھ وہ ہے جو تجربے اور مشاہدے سے آتی ہے۔ میں اپنے اندر کے سفر میں یہی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ لمحات، یہ انتظار، یہ سکوت—سب مجھے یہ سکھا رہے ہیں کہ زندگی صرف باہر کی نہیں، بلکہ اندر کی بھی ہے۔
دیکھتا ہوں کہ انسان تین طرح سے زندگی کو سمجھ سکتا ہے:
1. سماجی انسان: جو دنیا اور سماج کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جو اپنے گرد کے نظام اور روایات سے متاثر ہوتا ہے۔
2. عادی انسان: جو ذاتی آزادی اور خوشی کے لئے جیتا ہے، جو خواہشات اور ذاتی تجربات کے لئے جینا چاہتا ہے۔
3. نامکمل انسان: جو اپنی داخلی جدوجہد کے ذریعے مسلسل بہتر ہونے کی کوشش کرتا ہے، جو کمزوریوں اور محدودیتوں کے باوجود اپنی تخلیقی قوت سے خود کو پیدا کرتا ہے۔میں اپنے آپ کو زیادہ قریب محسوس کرتا ہوں نامکمل انسان سے۔ کیونکہ یہی انسان اپنے کمزوریوں اور مشکلات کے باوجود خود کو پہچانتا اور تخلیق کرتا ہے۔ اسی جدوجہد میں زندگی کی معنویت، وقار اور حسن چھپا ہے۔
جہاز کی پرواز کی تیاری ایک صوفیانہ منظر تخلیق کرتی ہے۔ پروں کی جنبش، دھات کا کانپنا، اور مسافروں کی گھبراہٹ اور امید، سب مل کر ایک نغمہ بناتے ہیں جو دل کے تاروں کو چھوتا ہے۔ میں تصور کرتا ہوں کہ جہاز بادلوں کی چادر سے گزرتا ہے، روشنی کے ریشمی دھاگوں میں لپٹتا ہے، اور میرے اندر کے سوالات، خواب، خوف اور امیدیں—سب ایک نئے افق کی طرف اُڑتی ہیں۔
میں دیکھتا ہوں کہ ہر پرواز میں انسان اپنے خواب، خوف، اور امید کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہر دل اپنے اندر کے سوالات سے ملاپ کرتا ہے، اور ہر روح اپنی گہرائیوں کو چھوتی ہے۔ اور میں بھی اس نغمے میں شامل ہوں، اپنے اندر کی دنیا کے ساتھ ۔
جب جہاز زمین سے اٹھتا ہے، شہر کی روشنی دھند میں گم ہو جاتی ہے، سڑکیں، لوگ، ہر چیز ایک ہلکی دھند میں چھپ جاتی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ فاصلہ صرف جسمانی نہیں؛ یہ دل اور روح کے درمیان کا فاصلہ بھی ہے۔ ہر لمحہ ہوا، روشنی، سکوت، اور جہاز کی دھات کا کانپنا میرے وجود کے ہر زاویے سے ٹکراتا ہے، اور میں ایک ساتھ اڑتا ہوں، اپنے خیالوں، خوابوں، اور اندرونی منازل کے ساتھ ۔
یہ لمحہ، یہ ساعت، یہ دھند، یہ روشنی، سب مل کر مجھے یہ سکھاتے ہیں کہ اصل سفر نہ زمین پر ہے، نہ آسمان میں، بلکہ انسان کے اپنے دل اور روح کے بیچ کے فاصلے میں ہے، جہاں ہر پرواز ایک نغمہ ہے، ہر خاموشی ایک دعا، اور ہر لمحہ ایک وصال۔ اور میں، اس خاموش پرواز کے آغاز میں، اپنے دل اور روح کو کھول کر، جانتا ہوں کہ یہی وقت ہے، یہی لمحہ ہے، اور یہی مقام ہے جہاں ہر روانگی اور ہر آمد کا اصل راز چھپا ہے۔
میں ہر لمحے کو محسوس کرتا ہوں: پروں کے کانپنے کو، بادلوں کی چادر کو، ہوا کی سرسراہٹ کو، اور اپنے دل کی دھڑکن کو۔ ہر چیز ایک تمثیل ہے، ہر لمحہ ایک پیغام، اور ہر پرواز ایک روحانی سفر، جہاں زمین کی پابندیاں نہیں، اور آسمان کی وسعتیں بھی حد نہیں۔ اور میں، اس خاموشی میں، اپنی روح کی اُڑان کا پہلا جھٹکا محسوس کرتا ہوں، اور جانتا ہوں کہ یہی لمحہ، یہی وقت، اور یہی سکوت میری اصل منزل ہے۔
زندگی کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ روزمرہ تجربات اور تخلیقی پہلو کا امتزاج ہو۔ صرف نظریات یا جذبات کے ذریعے انسان کو سمجھنا ناکافی ہے۔ زندگی میں تخلیقی عمل اور خود کو مسلسل تخلیق کرنے کی جدوجہد ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔
قلمکار: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى
آکسفورڈ لندن
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں