جاوید اختر

جاوید اختر کے نام غلام نبی کشافی کا فکری مکتوب مذہب، خدا اور قرآن پر مکالمے کی دعوت

مکتوب خاص

بسم الله الرحمن الرحيم

مکرمی و محترمی ! جناب جاوید اختر صاحب

اّلسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

اللہ کرے آپ ہر طرح خیر و عافیت سے ہوں ۔

چونکہ الحمدللہ میں مسلمان ہوں ، اس لئے اسلامی آداب کا لحاظ کرتے ہوئے میں آپ کے نام اپنے اس خط کا آغاز مسنون طریقہ سے کیا ہے ۔

میری عمر 65 سال سے تجاوز کرچکی ہے ، اس لئے میں نہ صرف آپ کے والد جان نثار اختر اور آپ کے سسر جی کیفی اعظمی کے شعر و شاعری سے واقف ہوں ، بلکہ میں آپ کو بھی اچھی طرح سے فلمی دنیا کے توسط سے جانتا ہوں ، ٹیلیویژن کے ذریعے سے بھی آپ سے متعارف ہوں اور پھر پچھلی تقریباً ایک دہائی سے سوشل میڈیا کی وساطت سے آپ کو باربار ویڈیوز کے ذریعہ دیکھنے اور سننے کا موقع ملا ۔

آپ کی اردو زبان و ادب پر جو زبردست پکڑ ہے ، وہ قابل ستائش ہے ، بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بھارتی فلمی انڈسٹری میں اردو شعر و ادب کا سب سے زیادہ حصہ ہے ۔ شکیل بدایونی ، فانی بدایونی ، سردار جعفری ، حسرت موہانی اور ساحر لدھیانوی وغیرہ کو بھی میں نے پڑھا ہے ۔ خاص کر ساحر لدھیانوی میرے پسندیدہ شعراء میں سے ایک ہیں ، اور ان پر میں نے مضامین بھی لکھے ہیں ۔

مجھے اس بات کے کہنے یا اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک یا دریغ نہیں ہے کہ آپ بلاشبہ ایک ذہین ، باصلاحیت اور دیدہ ور شخصیت کے مالک انسان ہیں ۔ اگرچہ میں نے آپ کی کوئی کتاب پڑھی نہیں ہے ، لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر آپ ایک کھلی کتاب کی طرح عیان ہیں ، اور آپ کے کلام میں سے کافی کچھ سننے اور پڑھنے کا بھی موقع ملا ۔ آپ کے کلام سے کسی کو فائدہ ہو یا نہ ہو ، مگر اردو زبان کو فوقیت اور اہمیت اور اس کی مٹھاس کو دوسروں کے سامنے پیش کرنے میں آپ کا بھی ایک اچھا خاصا کنٹروبیوشن ضرور ہے ۔

لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے آپ کے کچھ ایسے بیانات سامنے آئے ہیں ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مذہب بیزار انسان ہیں ، اور خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ چونکہ آپ کا نام بظاہر مسلم اور فارسی زبان کا ہے ، اس لئے ناواقف لوگ آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں ، لیکن شاید ان کو معلوم نہیں ہے کہ آپ نہ صرف منکر خدا ہیں ، بلکہ آپ اپنے بیانات اور اپنی تقاریر میں اکثر اسلام کو نشانہ بناتے ہیں ، جنت و جہنم کے عقیدہ کا مذاق اڑاتے ہیں ، اور ایسے لوگوں کے سامنے آپ بڑی بے تکلفی سے اسلامی عقائد پر حملہ کرتے ہیں کہ آپ کے ہم خیال و ہم نوالہ قسم کی ذہنیت کے لوگ آپ کے خیالات پر تالیاں بھی بجا دیتے ہیں ، اور شاید آپ اس سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ آپ کی باتوں میں وزن ہے ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہے ۔

آپ کا ذاتی نظریہ کیا ہے ، آپ خدا یا مذہب میں یقین رکھتے ہیں یا نہیں ؟ یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے ، اس پر ہم زور زبردستی کرنے کے روادار نہیں ہیں اور اسلام ہمیں اس کی اجازت بھی نہیں دیتا کہ کسی کو زبردستی مسلمان یا خدا پرست بنا دیا جائے ، کیونکہ قرآن ہمیں اس کے لئے بہترین رہنمائی کرتا ہے ، جیساکہ ارشاد خداوندی ہے ۔

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۔

( البقرہ : 256)

دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔ پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے ایک ایسی مضبوط ڈوری مضبوطی سے تھام لی جس کا کبھی ٹوٹنا نہیں۔ اور اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

اس آیت کے مطابق کسی انسان کو زبردستی کسی دین ، کسی عقیدہ اور کسی نظریہ پر زبردستی کھڑا کیا جاسکتا ہے اور نہ قبول کرایا جاسکتا ہے ، لیکن‌ اس کے باوجود یہ آیت ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے ، کیونکہ دعوت ہی ایسا واحد ذریعہ ہے ، جس سے کسی انسان کو راہ حق پر لایا جاسکتا ہے ، اور اس کے لئے علم ، دلیل اور عقل کی ضرورت ہے ۔

میں نے آپ کی کچھ ویڈیوز دیکھ کر آپ کے بارے میں سوچ رہا تھا ، اور قرآن مجید سے اس مسئلہ کے بارے میں استفسار کر رہا تھا ، تو خیال آیا یا اسے الہام بھی کہہ سکتے ہیں کہ میں قرآن کی ایک‌ مخصوص سورہ کا مطالعہ کرکے آپ پر اتمام حجت کروں ۔‌

میں ذاتی طور پر جذباتی باتیں یا مناظرہ بازی میں یقین نہیں رکھتا ، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا ایک بہترین ذریعہ ہے کہ ہم اپنے دل کی باتیں ایک دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں ۔‌ آپ مجھے نہیں جانتے ہیں کیونکہ میں ایک عام آدمی ہوں اور آپ ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت کے مالک ہیں ، اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میں سلسلہ وار طریقہ سے خطوط کے ذریعے اپنی بات آپ تک پہنچا سکوں ، لیکن میری تحریریں آپ تک پہنچیں گی بھی یا نہیں ؟ اس کا تو میں نہیں جانتا ، لیکن اس ناچیز کو بھی کبھی ہزاروں اور کبھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ پڑھتے ہیں ، تو ہوسکتا ہے کہ ان میں آپ کا بھی کوئی قریبی ساتھی ہو ، تو وہ میری تحریریں آپ تک پہنچانے کا ذریعہ بنیں ۔ میں اللہ تعالی سے یہی دعا کرتا ہوں کہ کوئی ذریعہ آپ سے تعلق کے حوالے سے غائبانہ نکل آئے ۔ یا واٹساپ نمبر مل جائے تو میں اس کے ذریعے بھی آپ سے رابطہ میں رہنے کے لئے تیار ہوں ۔

میری خط و کتابت سابق ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد ہاشم قدوائی مرحوم (1921ء ۔ 2017ء) جو سابق نائب صدر حامد انصاری(پیدائش 1937ء) کے استاد بھی تھی اور مولانا عبد الماجد دریابادی کے بھتیجے بھی تھے ، وغیرہ اہل دانش سے رہی ہے ، اور وہ بہت ہی ملنسار اور علم دوست انسان تھے ، اور میری چند کتابوں پر انہوں نے تبصرے بھی لکھے ، اور میں نے بھی ان کی ایک کتاب پر تبصرہ لکھا ، جو ماہ نامہ اردو بک ریویو میں شائع ہوئے تھے ۔ اس لئے خط و کتابت ایک بہترین ذریعہ ہے اور پیغمبر اعظم و آخر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ترسیل خطوط کا طریق کار پسند تھا ۔

اس وقت دنیا میں کہاں کیا کچھ ہو رہا ہے ؟ اور سائنس مذہب و خدا کے بارے میں کیا کچھ کہہ رہا ہے ؟ان تمام چیزوں سے ہٹ کر صرف قرآن کی روشنی میں آپ سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں ، کیونکہ میں دنیا میں اس سے بہتر کلام اور اس سے بہتر دلیل کوئی نہیں جانتا ۔ اور ہمارے نبی آخر الزماں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآن کے ذریعے کفار و ملحدین اور مشرکین کو خدا کے وجود پر قائل کرکے ان کو اسلام میں داخل کرایا تھا ، بلکہ میں آپ کو قرآن کی ایسی آیات دکھانا چاہوں گا ، تاکہ آپ قرآن کا مطالعہ کرنے پر راضی ہوجائیں ۔

میں آپ کے ساتھ قرآن مجید کے حوالے سے گفتگو کروں ، یہ ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے ، اور یہی تعلیم اللہ تعالی نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ان آیات میں دی ہے ۔

وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ

وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

( الذاریات : 47 تا 51)

اور آسمان کو ہم نے دست قدرت سے بنایا، اور بیشک ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔

اور زمین کو ہم نے بچھایا، تو ہم کیا ہی خوب بچھانے والے ہیں۔

اور ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

پس اللہ ہی کی طرف دوڑو، یقیناً میں تمہارے لئے اس کی طرف سے کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بناؤ، بیشک میں تمہارے لئے اس کی طرف سے کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

اس لئے آنے والے دنوں میں میں آپ سے خطوط کے ذریعہ کلمہ حق پہنچانے کی کوشش کروں گا ، اور میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ اگر میرے خطوط آپ تک پہنچ گئے ، تو آپ ان کو ضرور بغور پڑھ لیجئے گا۔

آخر پر میری دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے قلب میں ایمان کی روشنی جگائے اور آپ خدا کے ماننے والوں میں شامل ہوجائیں ۔

آپ کا خیر اندیش

غلام نبی کشافی

آنچار صورہ سرینگر

مؤرخہ 21 دسمبر 2025ء

بروز اتوار بوقت 2 بجکر 30 منٹ

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے