قرآن مجيد ميں "القاء"

قرآن و سنت کا یگانہ مقام: انسانی تعبیرات کو وحی کا درجہ دینے سے امت میں تفرقہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟

قرآنِ مجید اور سنتِ رسولؐ اسلام کی وہ اصل اور آخری حجت ہیں جن پر پوری دینی عمارت قائم ہے۔ ان کی حیثیت قطعی، دائمی اور غیر متبدّل ہے۔ اس کے مقابلے میں کسی فرد کی بات، خواہ وہ کتنا ہی بڑا عالم، محقق یا زاہد کیوں نہ ہو، محض انسانی فہم کا درجہ رکھتی ہے۔ نظری سطح پر امتِ مسلمہ نے ہمیشہ اس بنیادی اصول کو قبول کیا ہے، لیکن عملی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اصول کی پاسداری میں مسلسل لغزشیں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ متعدد ادوار میں علماء کی آراء اور ان کے اجتہادات کو اتنی قوت اور مرکزیت دے دی گئی کہ وہ خود قرآن و سنت کی طرح مطلق اور واجب الاتّباع معلوم ہونے لگیں۔ اس کے نتیجے میں وہ اختلافات، جو اصل میں انسانی فہم کی فطری تنوع اور حالات کے تغیرات کی بنا پر پیدا ہوتے تھے، رفتہ رفتہ مستقل مسلکی شناختوں، فکری گروہوں اور سخت گیر تقسیمات میں بدل گئے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
اصل حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت منصوص اور الہامی ہیں، اس لیے وہ خطا سے پاک ہیں۔ اس کے برخلاف انسانی فہم اپنی جگہ قابلِ قدر ہونے کے باوجود محدود، جزوی اور خطا پزیر ہے۔ قرآنِ حکیم انسان کو بارہا اس کی فکری کمزوری، اس کے علم کی حد بندی اور اس میں موجود تعصبات اور انانیت کے خطرات سے آگاہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی علمی روایت نے ہمیشہ وحی اور انسانی تعبیر کے درمیان واضح امتیاز قائم رکھنے پر زور دیا ہے۔ اصولِ فقہ، قواعدِ فقہیہ اور اجتہادی ضوابط اسی مقصد کے لیے وضع کیے گئے کہ انسان اپنی فکری کوشش کو منظم رکھے، اپنی حدود سے آگاہ رہے اور وحی کی اصل حیثیت کو کسی بھی انسانی تعبیر پر مقدم سمجھے۔
اسی علمی روایت میں اختلافِ رائے کو نہ صرف جائز بلکہ ایک رحمت اور وسعتِ فکر کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ کلاسیکی علماء کا مشہور اصول کہ ’’میری رائے درست ہے مگر غلط ہونے کا امکان رکھتی ہے، اور آپ كى رائے غلط ہے مگر درست ہونے کا احتمال رکھتی ہے‘‘ دراصل فکری تواضع، ذاتی احتیاط اور علمی دیانت کی وہ اعلیٰ مثال ہے جس پر اسلامی علمی روایت کی بنیاد رکھی گئی۔
تاہم عملی تاریخ ہمیں یہ بھی دکھاتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی کمزوریاں علمی میدان پر بھی اثر انداز ہوئیں۔ مسلکی وابستگی، ادارہ جاتی مفاد، علمی مقام و مرتبے کا احساس، یا کسی روایت سے جذباتی وابستگی نے بعض تعبیرات کو قطعی اور حرفِ آخر سمجھنے کا رجحان پیدا کیا۔ اس رجحان نے علمی تنوع کو بتدریج سخت گیر مسلکی سرحدوں میں تبدیل کر دیا۔ جب کسی عالم یا مکتبِ فکر کی رائے کو اس طرح پیش کیا جائے کہ اس سے اختلاف گویا قرآن و سنت سے اختلاف کے مترادف قرار پائے، تو علمی مکالمہ تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر اختلافِ رائے کو علمی سرگرمی کے بجائے انحراف، بدعت یا بغاوت سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی تعبیرات کو وحی کی سطح پر لا کھڑا کیا جاتا ہے، اور یہی رویّہ امت کے فکری نظم کو اندر سے کمزور کرتا ہے۔
قرآن واضح طور پر یہ بتاتا ہے کہ تفرقہ ’’علم آنے کے بعد‘‘ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد کی جڑ جہالت نہیں بلکہ علم کا غلط استعمال، انا پرستی، گروہی مفاد اور فکری تکبّر ہے۔ یہی عوامل وہ علمی اختلاف، جو اصل میں ترقی و اجتہاد کا ذریعہ تھا، اسے تنازع اور تفرقے میں بدل دیتے ہیں۔ اس لیے اختلاف اور تفرقے میں بنیادی فرق کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ اختلاف ایک قدرتی اور مفید عمل ہے جو انسانی عقل کی محدودیت کے باوجود سچائی کی تلاش کو وسیع کرتا ہے۔ لیکن جب یہی اختلاف گروہی تعصب، ذاتی مفاد یا تکبّر سے آلودہ ہو جائے تو وہ تفرقے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور یہی تفرقہ قرآن کی نظر میں مذموم ہے۔
قرآن و سنت کی حقیقی مرکزیت اس وقت محفوظ رہتی ہے جب علماء اور طلبہ اپنے فہم کو وحی کے مقابلے میں محض انسانی کوشش سمجھیں۔ وہ اپنی رائے کو حتمی اور قطعی نہ سمجھیں، اور اس میں اصلاح یا نظرِ ثانی کو کمزوری کے بجائے علمی امانت سمجھیں۔ اس طرزِ فکر سے علمی ماحول میں کشادگی، سچائی کی تلاش میں اخلاص، اور باہمی احترام کی فضا قائم رہتی ہے۔ یہی ماحول اختلافِ رائے کو ترقی، تجدید اور اجتماعی بصیرت کا ذریعہ بناتا ہے۔
اگر امت اس اصول کو دل و جان سے اختیار کر لے کہ وحی ہی اصل معیار ہے اور انسانی تعبیرات اس کے مقابلے میں ثانوی اور قابلِ نظرِ ثانی ہیں، تو فکری تنوع نہ صرف مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک قوت بن جاتا ہے۔ پھر لوگ مختلف آراء رکھنے کے باوجود ایک ہی مرکز پر مجتمع رہتے ہیں۔ یوں قرآن و سنت کا مقام بلند اور غیر متبدّل رہتا ہے، جبکہ امت اختلاف کے ذریعے ترقی کرتی ہے، اور اختلاف کو تنازعے کے بجائے فکری ارتقاء کا ذریعہ بناتی ہے۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے