ندوۃ العلماء

اب ندوہ کی ضرورت نہیں رہی ! وعدوں، فاصلوں اور معاشرتی طنز و مزاح کی دل آویز کہانی — ایک علامتی اور بلیغ تحریر

مفتی صاحب نے خوش دلی سے بلند آواز میں اعلان کیا کہ اب ندوه کی ضرورت نہیں رہی، ان کی آواز میں وہ نشيلى مسرت تھی جو شاعروں کے قافلے میں طوطے کی چہچہاہٹ کی مانند ہر کان کو لبھاتی ہو، میر صاحب نے قدرے تلخی اور خشک لب و لہجے کے ساتھ کہا کہ ندوه سے آپ كى دشنى عياں، اور عياں را چه بياں، يه حقيقت تو آپ كے نزديكـ روز اول سى تسليم شده تهى، كيا اچانكـ كوئى نئى دليل ہاتهـ آگئى؟ مفتی صاحب نے اپنی نرم و شیریں آواز میں فرمايا: یہی سمجھ لو، اور يه لڈو کھاؤ، یہ مزہ، یہ مٹھاس، یہ علم کی تصویر ہے، لڈو میں چھپی حکمت کا مزه چکھو!
ہم نے عرض کیا کہ اب بتائیں، کیا ہوا؟ مفتی صاحب نے ایک اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور لڈو کھاؤ، دوستوں کی محفل میں ہر کوئی اپنی خوشی کا تاثر مختلف انداز میں ظاہر کر رہا تھا، کوئی ہاتھ میں لڈو گھماتے ہوئے مسکرا رہا تھا، کوئی چمکدار آنکھوں سے محفل کے لطیف نکات سنبھال رہا تھا، اور کچھ تو ایسے تھے جو مزاح کے چھوٹے چھوٹے پھونکوں کے ساتھ سب کے چہروں پر ہنسی کے جھونکے بھڑکا رہے تھے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
میر صاحب نے، جو اکثر تلخ حقیقت کو مزاح کے برقعے میں چھپاتے ہیں، بلند آواز میں کہا اب بتائیے، آواز دل نواز آئى، بورا ڈبہ ختم کرو! ہر لڈو کے ساتھ ایک داستان جڑی ہوئی تھی، ہر قہقہے کے ساتھ ایک سبق، اور ہر خوشی کے لمحے میں چھپی ہوئی تھی تلخی کی آہٹ، دوستوں کی محفل میں یہ منظر کچھ یوں تھا جیسے ہر آدمی ایک چھوٹے کردار میں اپنی زندگی کے رنگ بکھیر رہا ہو۔ کسی نے لڈو کے ذائقے پر تبصرہ کیا، کسی نے مزاحیہ تنقید کے ساتھ اسے مزے میں بدل دیا، اور کوئی خاموشی سے سوچ رہا تھا کہ علم کی یہ حقیقت، جو پہلے ہی عیاں تھی، کیسے ایک لڈو میں سما کر ہمیں سمجھائی جا رہی ہے؟۔
جب لڈو ختم ہوئے تو مفتی صاحب نے فرمایا کہ ندوه عربی سکھانے میں سات آٹھ سال لگاتا ہے، میں نے ایک اشتہار دیکھا جس پر بڑے اعتماد سے لکھا تھا: چھے ماہ میں عربی سیکھیے! میں نے سوچا کہ اب ندوه کی ضرورت واقعی ختم ہو گئی۔
ہم نے یہ سن کر زور سے قہقہہ لگایا، میر صاحب گويا ہو ئے:عربی سیکھنا کوئی ترکاری کی کیاری نہیں کہ آج بیج دبایا اور کل پھل جھولنے لگے، یہ زبان تو تہذیب کی مہک لیے ہوئے ایک درخت ہے، جس کے ہر لفظ پر صدیوں کا تجربہ اور محنت کی دھار ٹکی ہوئی ہے۔ چھے ماہ میں تو محض کھیرے کی بیل اپنی بالیدگی کا اعلان کرتی ہے، عربی نہیں۔ عربی تو بلوطِ شیراز کی مانند ہے، جڑیں زمین کے سینے میں گہری اترتی ہیں، شاخیں معانی کے آسمان سے ہم کلام، اور ہر برگ میں ادب و عقل کی چھاپ موجود۔ مگر واعظان منبر وکوچہ اپنی پنکھڑی سی آواز میں یہ دعویٰ یوں کرتے ہیں جیسے علم کے بجائے کوئی کاغذی فارم سکھا رہے ہوں، یا جیسے ديوان غالب كى بيت اول نے ان سے پہلے کسی کا وقت ضائع نہ کیا ہو۔
اسی شہرِ شطحات و دعاوى میں وہ ہوٹل دارانِ خوش ادا بھی ملتے ہیں، جن کے لبوں سے گویا شہد ٹپکتا ہے اور فرماتے ہیں: قبلہ! ہمارا ہوٹل تو بس پچاس میٹر ہے حرم سے! يہ پچاس میٹر ان کے نزدیک وہی ہے جو وعدۂ وصل اور حقیقتِ ہجر کے درمیان فاصلہ ہے، سننے میں لطیف، نبھانے میں صعب، اور جانچنے میں محال۔ گلیاں کچھ یوں پیچیدہ ہیں کہ ہر موڑ پر آدمی محسوس کرے جیسے شہر کسی رقاصہ کی کمر کی نقل ہو؛ کہیں موڑ ضرورت سے زیادہ مائل، کہیں راستہ اپنی ضد میں تنگ، اور کہیں چڑھائی اتنی بلند کہ لگے بندہ حج نہیں، بلکہ معراج كى سیڑھیِ پر چل رہا ہو۔ لیکن جب منزل پر پہنچیں تو میزبان كروبيانه معصوميت سے فرماتے ہیں: راستہ کچھ نزاکت پسند ہے، ورنہ فاصلہ تو وہی ہے، گویا راستہ کوئی بد گمان پردیسی ہے جو مسافر سے اپنی مرضی کا خراج طلب کر رہا ہو۔
قرض داروں کی دنیا میں دو دن ایک عجیب ماورائی مخلوق ہے، نہ پوری طرح موجود، نہ بالکل غائب۔ وہ اعتماد کے طاؤس پر بیٹھ کر کہتے ہیں: دو دن میں لوٹا دوں گا! اور وہ دو دن تقدیر کے آنگن میں یوں بھاگتے ہیں جیسے کسی بچے نے بلبلے پکڑنے کی کوشش کی ہو۔ برسوں بعد جب صاحبِ قرض جلوہ گر ہوتے ہیں تو اتنی معصومیت کے ساتھ گویا آسمان سے اتری ہوئی مخلوق ہوں: جناب! میں تو مدتوں سے آپ کو تلاش کر رہا تھا! جیسے معذرت خواہ نہیں، سایۂ کرم دکھا رہے ہوں، اور قرض شاید انہوں نے نہیں، بلکہ آپ نے لیا تھا۔
درزیوں کی آج شام تو فنِ وعدہ گری کی انتہا ہے۔ وہ شام کبھی آتی نہیں، بس کوئے دہر میں کہیں بھٹکتی رہتی ہے، کبھی منگل کی پیشانی پر آ بیٹھتی ہے، کبھی جمعرات کے دامن میں اٹک جاتی ہے، کبھی ہفتے کی شام کے کان میں جا کر سرگوشی کر لیتی ہے۔ اور جب سوٹ ملتا ہے تو کپڑے کی تراش و خراش میں زندگی کی تقدیر جھلکتی ہے، کہیں آستین کہہ رہی ہے کہ درزی کو فضا تھوڑی زیادہ ملی، کہیں دامن فریاد کرتا ہے کہ کپڑا کسی مقام پر خفا ہو گیا، کہیں گریبان اتنا بلند کہ لگے درزی نے سوٹ نہیں، بلکہ اپنی خود داری کی تصویر تیار کی ہے۔
رکشے والے کے دو منٹ بھی ایسے درویش ہیں جو وقت کے مزار پر بیٹھے تسبیح پھیر رہے ہوں مگر واپس نہیں آتے، وہ کہتے ہیں بابوجی، دو منٹ! اور پھر ٹریفک کا سیلاب، دھوپ کا تیشۂ غضب، شور کا ہجوم، سب اپنا اپنا طائفہ لے کر گردش کرتے رہتے ہیں، مگر ان کے وہ دو منٹ خلوتِ فنا میں گم رہتے ہیں، دکان دار جب فرماتے ہیں: جناب، یہ مال بالکل اوریجنل ہے! تو یوں لگتا ہے جیسے صداقت کا کوئی محراب انہی کے صدقِ مقال سے ابھی روشن ہوا ہو۔ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ یہی چیز آگے آدھی قیمت پر مل رہی ہے تو وہ مسکرا کر گویا ہوتے ہیں جیسے نقل بھی اجتہاد کا کوئی درجہ رکھتی ہو: وہ نقل ہے، اور یہ نقل بھی اصل کی اجازت سے بنی ہے!
اور طالب علم… وہ رات بھر کتابوں کے ورق یوں الٹتے ہیں جیسے تقدیر کی پیشانی پڑھ رہے ہوں۔ ہر صفحے پر عزمِ فولاد کا نیا جھنڈا گاڑتے ہیں، اور صبح تک دنیا کو بدل دینے کی مکمل منصوبہ بندی تیار کر لیتے ہیں۔ لیکن صبح ہوتی ہے، دنیا ویسی ہی، کتابیں ویسی ہی، وہ خود ویسے ہی، صرف آنکھوں کے نیچے دو نئی لکیریں اور خوابوں کے ذخیرے میں چند مزید ادھورے چراغ شامل ہو جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں وعدے آئینے کے سانس ہیں، دیکھنے میں روشن، پکڑنے میں دھوکا۔ فاصلے وہ خواب ہیں جو تعبیر کی ناگزیریت سے خائف ہیں۔ وقت وہ سبک خرام قاصد ہے جو پکڑاتے ہی دامن چھوڑ دیتا ہے۔ اور دعوے… دعوے تو وہ تتلیاں ہیں جو ہاتھ پر تو بیٹھتی ہیں مگر ہاتھ کی حرارت سے گھبرا کر فوراً کسی دوسرے موسم میں پرواز کر جاتی ہیں۔
یہ وہ معاشرتی حقیقت ہے جو طنز و مزاح میں بھی ہمیں سنبھل کر دیکھنے کی دعوت دیتی ہے، اور ہر وعدہ، ہر فاصلہ، ہر وعدہ خلافی، اور ہر دو دن کی کہانی ایک سبق کے طور پر سامنے آتی ہے۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے