اس وقت جو مضمون آپ پڑھنے جا رہے ہیں ، یہ ایک دوشیزہ کے ایک اہم سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے ، چونکہ مغربی دانشور ہمیشہ اپنے مد مقابل صرف اسلام کو سمجھتے ہیں اور ان کو جب انسانی حقوق و قوانین کے حوالے سے حملہ کرنا ہوتا ہے ، خاص کر مرد و خواتین کے درمیان مسوات اور آزادی کا نعرہ بلند کرنا ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے اسلام کو نشانہ بناتے ہیں ، کیونکہ ان کی اس روش سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے سوا کسی بھی مذہب کو کسی جمع خرچ میں نہیں لاتے ہیں ۔ لیکن جب ہم ان کے معاشرہ پر مرد و خواتین کے درمیان مساوات و آزادی کے نام نہاد نعروں کے نتائج دیکھتے ہیں، تو وہ انتہائی بھیانک ، اخلاق سوز اور حیوانیت کی بدترین تصویر پیش کرتے ہیں۔
علامہ اقبال یوں مغرب سے مخاطب ہوتے ہیں ؛
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زرِ کم عیار ہو گا
تمہاری تہذیب اپنےخنجرسےآپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
میں نے آج کے اس مضمون کو بڑی عرق ریزی سے لکھا ہے ، اس لئے میں اپنے مخلص قارئین سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس مضمون کو خود بھی غور و فکر کے ساتھ پڑھیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر بھی ضرور کریں ۔
____________________
چند روزہ پہلے ایک دوشیزہ نے انگریزی میں ان الفاظ میں ایک سوال کیا تھا ۔
sir I have a question ?
is islam patriarchal ?
اس سوال کا مفہوم میری سمجھ میں یہ آیا ہے ۔
"سر! میرا ایک سوال ہے: کیا اسلام ایک مردانہ غلبہ(patriarchal) کا نظام ہے؟ "
میں نے اس دوشیزہ سے پوچھا کہ کیا آپ اپنے سوال کی کچھ تھوڑی سی وضاحت کرسکیں گی ؟ تو ان کی طرف سے یہ جواب آیا ۔
” میرا یہ سوال ہے کہ کیا اسلام پدرشاہی (Patriarchal) کا دین ہے؟ اس کی وضاحت ہمیں قرآن اور سنت سے کیا ملتی ہے؟ کیونکہ "پدرشاہی” ایک سماجی اصطلاح ہے ، جو ایک مخصوص سماجی نظام کو بیان کرتی ہے۔ بہت سے علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسلام بھی اسی نظام کو قابلِ قبول سمجھتا ہے۔ اگرچہ "پدرشاہی” کا لفظ نہ قرآن میں آیا ہے اور نہ ہی سنت میں، لیکن جو نظام اسلام نے متعارف کرایا ہے ، وہ بھی اسی طرز کا معلوم ہوتا ہے۔
میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ میری رہنمائی فرمائیں، کیونکہ آپ کا مطالعہ وسیع ہے، اسی لئے میں آپ کے جواب کی منتظر ہوں۔
ثریا نبی / امپورہ بڈگام
اس توضیحی سوال میں موصوفہ نے بتایا کہ بہت سے علماء کا بھی یہی موقف ہے ۔ تو میں نے دوبارہ پوچھا کہ آپ کہتی ہیں کہ بہت سے علماء پدرشاہی کو تسلیم کرتے ہیں ۔ لیکن آپ نے کسی عالم کا حوالہ تو نہیں دیا ؟ میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ البتہ مخالفین اسلام کی طرف سے اسلام پر بہت سے اعتراضات سامنے آتے رہتے ہیں ، ان میں ایک پدرشاہی کا پروپیگنڈہ بھی شامل ہے ۔
پھر موصوفہ نے اگرچہ کسی قابل ذکر عالم دین کا نام تو نہیں بتایا ہے ، البتہ ایک انگریزی کتاب سے ایک صفحہ کی چند سطروں کی فوٹو کاپی بھیجی تھی ، اور وہ چند سطریں یہ تھیں ۔
Let me provide some disambiguation. Of course, the patriarchy does exist. Islam is a patriarchal religion. According to Islamic Law, lineage is patrilineal and social and family structures have authority flowing through the patriarch and other males figures. But patriarchy in the feminist sense is different in that it ascribes maliciousness to these structures.
ظاہر ہے کہ پدر شاہی (Patriarchy) کا وجود ایک حقیقت ہے۔ اسلام ایک پدر شاہی نظام رکھنے والا مذہب ہے، کیونکہ اسلامی قانون کے مطابق نسب (خاندانی سلسلہ) باپ کی طرف سے چلتا ہے، اور معاشرتی و خاندانی نظام میں اختیار و سربراہی باپ یا دیگر مرد ارکان کے ذریعے چلتی ہے۔
البتہ "پدر شاہی” کا جو مفہوم فیمینزم (نسوانیت) کے نقطۂ نظر سے لیا جاتا ہے، وہ اس سے مختلف ہے، کیونکہ فیمینزم ان سماجی و خاندانی ڈھانچوں کو بد نیتی، جبر اور ظلم پر مبنی قرار دیتا ہے۔
لفظ ” patriarchal ” کا مطلب ہوتا ہے: ایسا نظام یا معاشرہ جس میں مرد کو عورت پر برتری حاصل ہو، اور تمام سماجی، معاشی یا مذہبی اختیارات زیادہ تر مردوں کے ہاتھ میں ہوں۔
دراصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں مردوں کو عورتوں پر بالا دستی حاصل ہے اور کیا اسلام عورتوں کو ثانوی یا کم تر درجہ دیتا ہے؟ اسی کو موجودہ دور میں مخالفین اسلام کی طرف سے پدر شاہی یا مردانہ تسلط (patriarchal ) کا نظام بتایا جاتا ہے ۔
لیکن حقیقت یہ ہے یہ اسلامی تعلیمات کا ناقص اور معاندانہ مطالعہ و تجزیہ ہے ، جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔
اصل میں یہ ساری غلط فہمی اس آیت کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّـٰهُ بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِـهِـمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّـٰهُ ۚ وَاللَّاتِىْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَاهْجُرُوْهُنَّ فِى الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْهُنَّ ۖ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْـهِنَّ سَبِيْلًا ۗ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْـرًا۔
( النساء: 34)
اس آیت کی بہترین ترجمانی مولانا ابوالکلام آزاد نے اس طرح کی ہے ۔
” مرد عورتوں کی زندگی کے بندوبست کرنے والے ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر (خاص خاص باتوں میں) فضیلت دی ہے ۔ نیز اس لئے کہ مرد اپنا مال (جو ان کی محنت سے جمع ہوتا ہے ، عورتوں پر) خرچ کرتے ہیں ، پس جو عورتیں نیک ہیں ، ان کا شیوہ یہ ہوتا ہے کہ اطاعت شعار ہوتی ہیں ، ( اور اللہ کی حفاظت سے جو انہیں حاصل ہو جاتی ہے ) پشیدگی اور غیبت میں بھی ( شوہروں کے حقوق و مفادات کی ) حفاظت کرتی ہیں ۔ اور جن بیویوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو ( یہ نہیں کرنا چاہئے کہ فوراً دل برداشتہ ہو کر قطع تعلق کر لو بلکہ ) چاہئے انہیں (پہلے نرمی و محبت سے) سمجھاؤ ، پھر خواب گاہ میں ان سے الگ رہنے لگو اور ( اس پر بھی نہ مانیں تو ) انہیں ( بغیر نقصان پہنچائے بطور تنبیہ کے) مار بھی سکتے ہو ۔ پھر اگر وہ تمہارا کہا مان لیں تو (سختی سے درگزر کرو اور) ایسا نہ کرو کہ الزام دینے کے لئے راہیں ڈھونڈنے لگو (یاد رکھو) اللہ سب کے اوپر اور سب سے زیادہ بڑائی رکھنے والا موجود ہے "
اس آیت میں ” اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ” کا مطلب مرد عورتوں کے ذمہ دار، نگہبان اور کفیل کے ہیں۔
لفظ "قَوَّامُوْنَ ” جمع کا صیغہ ہے اور اس کی واحد ” قَوَّام ” ہے ، جس کے معنی حاکم کے ہیں ، لیکن یہاں لفظ حاکمیت یا برتری کے معنی میں نہیں بلکہ ذمہ داری، حفاظت اور کفالت کے معنی میں ہے۔
اللہ نے مردوں پر یہ ذمہ داری دو بنیادوں پر رکھی:
(1) بِمَا فَضَّلَ اللّـٰهُ بَعْضَهُـمْ عَلٰى بَعْضٍ ، یعنی مردوں کو کچھ طبعی اور جسمانی صلاحیتوں میں قوت دی گئی تاکہ وہ خاندان کی سرپرستی کر سکیں۔
(2) وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِـهِـمْ ، یعنی مرد عورتوں پر خرچ کرتے ہیں، کیونکہ عورتوں کے نان و نفقہ ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے۔
علامہ محمد بن شامی اس آیت کی تفسیر میں یہ سخت قسم کا نوٹ لکھا ہے ۔
اعلم أن حق القوامة للرجل على المرأة، فمن طلب أن يكون للمرأة حق القوامة فقد ظلم المرأة وزج بها فيما لا يتناسب مع فليتق الله! بل من اعتقد أن للمرأة حق القوامة على الرجل فهو كافر؛ لأنه مخالف للقرآن الكريم صراحة، ولذلك يجب أن یستتاب فان تاب وإلا وجبت محاكمته شرعًا، فالذين يطالبون بقوامة المرأة على الرجل فجرة خبثاء لا يجوز أن تفتح لهم الجرائد و المجلات و وسائل الإعلام ، بل يجب ردعهم وبيان شرهم للناس، وعلى النساء أن لا يسمعن ما يقول هؤلاء الذين هم غالبا من شعبة المنافقین ( العلمانيين).
(التفسیر الموجز و دروس من القرآن الکریم: ص 177/ ایڈیشن 2020ء الریاض )
جان لو کہ قوامت (یعنی سربراہی و ذمہ داری) کا حق مرد کے لیے ہے، عورت کے لیے نہیں۔ پس جو شخص یہ چاہے کہ عورت کو مرد پر قوامت کا حق دیا جائے، وہ دراصل عورت پر ظلم کرتا ہے اور اسے ایسے بوجھ میں ڈال دیتا ہے جو اس کے مزاج اور فطرت کے مطابق نہیں۔ اسے اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ بلکہ جو یہ عقیدہ رکھے کہ عورت کو مرد پر قوامت کا حق حاصل ہے، وہ کافر (منکر ) ہے، کیونکہ یہ عقیدہ صریح طور پر قرآنِ کریم کے خلاف ہے۔ لہٰذا ایسے شخص سے توبہ کروائی جانی چاہئے، اگر توبہ کرے تو بہتر، ورنہ شرعاً اس پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ جو لوگ عورت کی مرد پر قوامت کے قائل ہیں، وہ بدکار اور خبیث فطرت کے لوگ ہیں؛ ان کے لیے اخبارات، رسائل اور ذرائع ابلاغ کے دروازے کھولنا جائز نہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ ان کا فتنہ روکا جائے، ان کی گمراہی عوام پر واضح کی جائے، اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ ان کی باتوں پر کان نہ دھریں، کیونکہ یہ لوگ عموماً منافقین (یعنی علمانی و لادین طبقے) میں سے ہوتے ہیں۔
مردوں کا عورتوں پر قوام ہونے کا مطلب مردانہ غلبہ یا پدر شاہی ہرگز نہیں ہے ، اور نہ اس کا کسی فضلیت و برتری سے کوئی تعلق ہے ۔ بلکہ عورت کے صنف نازک ہونے کی وجہ سے اس کی حفاظت و نگرانی کے طور پر مردوں کو قوام بنا دیا گیا ، تاکہ وہ ان کی بہترین اور محفوظ زندگی گزارنے کا سامان مہیا کرسکیں ۔
ایک عورت اپنے طور سے بھی اللہ تعالی کی اس آیت پر غور کرسکتی ہے کہ مرد اور عورت میں جسمانی فرق کیا ہے ؟ تو وہ اس بات کو بڑی آسانی سے سمجھ سکتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر آج کی تاریخ میں دیکھا جائے تو ایک عورت گھر سے نکل کر اکیلے گاڑی چلاتی ہے ، لیکن رات کے وقت کسی سنسان علاقے میں گاڑی چلانے کی جرات کرسکتی ہے ؟ مرد تو رات دن کہیں بھی نکل سکتا ہے ، اگرچہ ان کو بھی رات کے وقت مال گنوانے یا جان جانے کا خطرہ ضرور لاحق رہتا ہے ۔ لیکن ایک عورت کو گاڑی ، سونا چاندی اور جان سے بڑھ اپنی عصمت و عزت بچانے کی فکر لاحق ہوتی ہے ، اس لئے وہ لوگوں کی بھیڑ میں یا ٹریفک ازدحام میں گاڑی تو چلا سکتی ہے ، لیکن اکیلے رات کو وہ کہیں نہیں جاسکتی ، تو اس وقت ایک سنجیدہ عورت خود ہی حفاظت و نگرانی کی ضرورت محسوس کرتی ہے ۔ اس لئے رات کے وقت ایک عورت باہر نکلنے سے ڈرتی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالی نے قرآن میں اسی فطری ضرورت کے پیش نظر مردوں کو عورتوں پر قوام یعنی محافظ بنایا ہے ۔
لیکن جو لوگ مغرب میں بیٹھ کر خواتین کے نام نہاد حقوق ، مسوات اور آزادی کے علمبردار بنے ہوئے ہیں ، اور اسلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے خواتین پر ظلم کیا ، اور برتری و فوقیت کے سارے حقوق و اختیارات مردوں کو دئے ہیں ، اور مسلم خواتین کو غلام اور مظلوم کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں ، تو کیا وہ مغربی معاشرہ کی حالت پر غور نہیں کرتے کہ مغربی معاشرہ میں جو بظاہر آزادی، مساوات اور خود اختیاری کے نعرے بلند کئے گئے ہیں ، مگر اس کی قیمت آج خاندانی نظام کے انہدام کی صورت میں ادا کی جاتی ہے ۔ میاں بیوی کے درمیان تعلق باہمی ذمہ داری کے بجائے وقتی لذت اور ذاتی مفاد پر قائم ہو گیا ہے ۔ نکاح کو بوجھ سمجھا جاتا ہے ، زنا اور ناجائز تعلقات عام پائے جاتے ہیں ، حلال اولاد اور حرام اولاد کے درمیان تمیز ختم ہوچکی ہے ، جس کے نتیجہ میں اولاد والدین سے الگ اور بیزار ہے ، یہاں تک کہ والدین کو بڑھاپے میں اولڈ ایج ہومز (Old Age Homes) میں چھوڑ آنا ایک عام رواج بن چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں خاندان کی حرارت، باہمی محبت اور نسلوں کے درمیان روحانی رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔
یہ سارا زوال دراصل خدا اور وحی سے بغاوت کا نتیجہ ہے۔ جب انسان اپنے خالق کے قانون سے منہ پھیر لیتا ہے تو خواہشات اس کے فیصلے کرنے لگتی ہیں، اور خواہش کبھی کسی نظام کو قائم نہیں رکھ سکتی۔ اسلامی نظامِ حیات نے اسی لئے مرد و عورت کے تعلق، نکاح، والدین اور اولاد کے حقوق میں توازن رکھا تاکہ محبت، ذمہ داری اور احترام کے ساتھ خاندان انسانیت کی اصل بنیاد بن سکے۔ مغرب نے جب اس بنیاد کو توڑا، تو ظاہری ترقی کے باوجود وہ باطنی طور پر تنہائی، اضطراب اور اخلاقی پستی کا شکار ہو گیا۔
لہذا ثابت ہوا کہ اسلامی تعلیمات ، خواہ وہ کسی بھی شعبہ سے متعلق ہوں ، قانون فطرت کے عین مطابق ہیں ، اور انسانیت کی بقا صرف اسلامی تعلیمات کی عمل آوری میں ہے ۔ اور ان تعلیمات سے بغاوت کی صورت میں انسانی معاشرہ بے راہ روی اور زوال کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ حیوانیت اور خواہشات کے دلدل میں پھنس کر رہ جاتا ہے ۔
قرآن کے مطابق مردوں کو ” قَوَّامُوْنَ ” قرار دینا ایک ذمہ داری کا نام ہے، اس سے برتری مراد نہیں ہے ۔ اور اس کے مقابل میں عورتوں کو اطاعت، وفاداری اور گھر کی حفاظت و نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے ، تاکہ گھر کا نظام عدل و محبت سے قائم رہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ایک یہ حدیث انتہائی قابل غور ہے ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ ۔
(صحيح البخاري : كِتَابُ النِّكَاحِ : بَابُ {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} : رقم الحدیث 5188)
سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے پوچھا جائے گا ۔ حاکم وقت نگران ہے، اس سے پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے اہل خانہ کا نگران ہے، اس سے پوچھا جائے گا ، اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے ، اس سے پوچھا جائے گا۔ اور غلام اپنے مالک کے مال کا نگران ہے، اس سے پوچھا جائے گا۔ خبردار ! تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم سے ہر ایک سے پوچھا جائے ہوگا۔
ظاہر ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں کمزور اور صنف نازک کہلاتی ہے ، اس لحاظ سے مرد جسامت میں بہت زیادہ طاقتور ہے ۔ اس لئے گھر سے باہر کمانے کی ذمہ داری مردوں پر عائد کی گئی ہے ۔ اور اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک عورت کا حاملہ ہونے کی صورت میں بچے کو نو ماہ میں بیٹ میں رکھنا ، اس کا جنم دینے کی تکلیف سے گزرنا ، اور پھر اس کی پرورش کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ، اس لئے عورت کی دیکھ بھال اور نان و نفقہ کی پوری ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے ۔ اس ذمہ داری کا تعلق ایک دوسرے پر برتری یا مردانہ غلبہ سے قطعاً نہیں ہے ، بلکہ اس کا جسمانی ساخت اور دائرہ کار سے ہے ۔ جبکہ اسلام میں مرد و خواتین کے حقوق واضح طور پر موجود ہیں ، بلکہ قرآن میں اللہ تعالی مرد و خواتین کا یکساں درجہ دیتے ہوئے یہ فکر انگیز ارشاد فرماتا ہے۔
مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ هو مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّه حَیٰوۃً طَیِّبَة ۚ و لَنَجۡزِیَنَّهمۡ اَجۡرَهمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ.
( النحل : 97)
جو شخص کوئی نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو ضرور نہایت پاکیزہ زندگی دیں گے ، اور جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا ہم ان کو بہترین بدلہ ضرور دیں گے ۔
قرآن کے مطابق نظام حیات چلانے کی غرض سے بعض معاملات میں تقسیم کار کی وجہ سے مرد کو فوقیت کا درجہ حاصل ہے ، لیکن اس آیت کے مطابق ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں مرد و خواتین کو مساوی طور پر اللہ کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ ان کو پاکیزہ زندگی عطا کی جائے گی ، اور آخرت میں دونوں کا مقام و مرتبہ یکساں ہے ، اور ان کے اجر و ثواب میں کوئی فرق نہیں ہوگا ، بلکہ جن خواتین نے شرعی احکام میں مردوں کے مقابلے میں زیادہ پاسداری کی ہوگی ، وہ آخرت میں مردوں سے بھی آگے نکل جائیں گی ۔
ایک حدیث میں یہاں تک آیا ہے کہ ایک مرد کی زندگی میں ایک عورت کیا معنی رکھتی ہے ؟ جیساکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ ۔
(ابو داؤد ، رقم الحدیث 235 /
الترمذى : رقم الحدیث 113)
بیشک عورتیں مردوں کی نصف ثانی ہیں ۔
ایک عورت ایک مرد کی زندگی میں کیا معنی رکھتی ہے ؟ اس کے لئے ایک یہ جملہ بھی قابل غور ہے ۔
” ہر کامیاب مرد کے پیچھے
ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے "
حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت مرد کی زندگی میں صرف ایک رفیقِ حیات نہیں بلکہ اس کے وجود کی تکمیل ہے۔ وہ اس کے احساسات کی نرمی، دل کی تسکین اور زندگی کی توازن بخش قوت ہے۔ مرد کے اندر جو سختی، جدوجہد اور ذمہ داری ہے، عورت اس میں محبت، رحمت اور سکون پیدا کرتی ہے۔ قرآن نے اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے ۔
وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُـوٓا اِلَيْـهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّّرَحْـمَةً ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ .
( الروم :21)
اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
عورت مرد کی زندگی میں ایک وجودِ ثانی ہی نہیں، بلکہ اس کے احساس، فکر اور فطرت کا توازن بھی ہے۔ وہ مرد کے انقلاب جذبات و خیالات کو طاقت دیتی ہے، اس کے شعور کو احساس و فکر کی پختگی سے جوڑتی ہے، اور اس کی دنیا کو محض مادی جدوجہد سے اٹھا کر روحانی رفاقت میں بدل دیتی ہے۔ عورت مرد کے لئے صرف سکون نہیں، بلکہ اس کی انسانیت کا آئینہ ہے؛ وہ اسے محبت سکھاتی ہے، اور اسے قربانی کا مفہوم سمجھاتی ہے ۔ اس طرح عورت مرد کی دنیا میں جذباتی آسودگی، اخلاقی نرمی اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہے۔
علامہ اقبال کا یہ فکر انگیز شعر بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آتا ہے ؛
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں