خواہشات انسان کی ضروريات میں داخل ہیں، اور ان کے برتنے میں ایک خاص لذت ہے، ضرورت ولذت کے اجتماع نے خواہشات کو ہماری توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، ان کی حصول یابی کے جوش اور شوق میں بسا اوقات یہ یاد نہیں رہتا کہ ہمیں ان کی حاجت ہے کہ نہیں؟ اور اگر حاجت ہو بھی تو ہم اس حاجت کے حدود کو نظر انداز کرتے ہیں، خواہشات کے تعلق سے ہماری دو بنیادی غلطیاں ہیں: ایک بغیر حاجت کے خواہشات کی پیروی کرنا، دوسرے ان کے حدود سے تجاوز کرنا۔
خواہشات کی پیروی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اور اس کی ساری مصیبتوں اور پریشانیوں کی جڑ، ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ شیطان جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے وہ خواہشات کے راستے ہی سے ہمیں گمراہ کرتا ہے، دانائی کا تقاضا ہے کہ ہم خواہشات کو لگام دیں، شہوات کے دام میں پھنسنے سے بچیں، شیطان کے مکر سے ہوشیار رہیں، اور مصیبتوں اور پریشانیوں کی جڑ کاٹ دیں، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، کیونکہ یہ آسان نہیں۔
آخر خواہشات کو قابو میں رکھنے کی تدبیر کیا ہے؟ کھانے پینے کی خواہش، جنسی خواہش، انانیت کی خواہش وغیرہ تباہ کن عیوب سے کیسے آزادی حاصل کی جائے؟ اور اگر کوئی اس کا علاج بتا بھی دے تو اس علاج پر عمل کیوں کرے گا؟ میرے خیال میں ساری خواہشات کا ایک ساتھ علاج دشوار ہے بلکہ ہمت شکن ہے، اس لیے ایک ایسی خواہش کے علاج سے ابتدا کرنی چاہئے جس پر قابو پانا نسبتاً آسان ہے، اور اس پر قابو پانا دوسری خواہشات پر قابو پانے میں معاون ہو سکتا ہے۔
اور وہ ہے کھانے اور پینے کی خواہش، اگر ہم کھانے اور پینے کی خواہش کو قابو کرنے کا فن سیکھ جائیں تو نتیجتاً تمام خواہشوں سے نجات پانا سہل ہوگا، کھانے کی خواہش پر قابو پانے کی دو تدبیر ہیں، ایک علمی، اور دوسری عملی۔
1- علمی تدبیر کے چھ پہلو ہیں، جن میں بعض ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، لیکن مزید وضاحت کی غرض سے انہیں الگ الگ کر دیا گیا ہے:
اول یہ کہ ہم اچھی طرح سمجھ لیں کہ بھوک یا پیاس اشارہ ہے کہ ہمیں کھانے اور پینے کی حاجت ہے، بھوک یہ نہیں طے کر سکتی کہ ہمیں کیا کھانا ہے؟ کس وقت کھانا ہے؟ اور کتنا کھانا ہے؟ اور پیاس یہ نہیں طے کر سکتی کہ ہمیں کیا پینا ہے؟ کس وقت پینا ہے؟ اور کتنا پینا ہے؟ یعنی یہ کہ خواہش اندھی اور بیوقوف ہوتی ہے۔
دوم یہ کہ چونکہ خواہش اندھی اور بیوقوف ہے، اس لیے ہم اس کی مدد کے لیے عقل کو استعمال کریں۔
سوم یہ کہ ہم سوچیں کہ بھوک اور پیاس کی حالت میں ہم کتنی دیر تک صبر کر سکتے ہیں کہ ہم کمزور نہ ہو جائیں اور ہم اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاهی نہ کریں؟ اور جتنی دیر تک صبر کر سکتے ہیں ضرور کریں، کیونکہ صبر ساری انسانی ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید اعظم ہے۔
چہارم یہ کہ ہم وہ غذا استعمال کریں جس میں تین شرائط پائی جاتی ہوں: 1- حلال و طیب ہو، 2- صحت بخش و طاقت آور ہو، 3- جس سے ہماری خود داری مجروح نہ ہو، یعنی وہ مطعوم یا مشروب نہ کسی سے مانگا گیا ہو، اور نہ لالچ اور اشراف نفس سے حاصل کیا گیا ہو۔
پنجم یہ کہ اپنے اپنے جسم کے لحاظ سے کسی سمجھدار اور صالح طبیب سے معلوم کریں کہ دن میں کتنی بار کھانا چاہئے، کب کھانا چاہئے، اور کتنا کھانا چاہئے۔
ششم یہ کہ ہم انجام پر غور کرکے کام کرنے والے بنیں، پیٹ میں جو کچھ جاتا ہے، ہمارے جسم پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اور ان اثرات کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے، دنیا کے اندر جتنی بیماریاں ہیں ان میں سے اکثر کا تعلق کھانے اور پینے کی بے احتیاطی سے ہے۔
2- عملی تدبیر کے چار پہلو ہیں:
اول یہ کہ کھانا اس وقت تک ہرگز نہ کھائیں جب تک اچھی بھوک نہ لگ جائے، اچھی بھوک کا مطلب یہ ہے کہ جسم اپنے فرائض کی ادائیگی میں کمزور پڑنے لگے، اور کھانے کی خواہش باقی ہو تو کھانا چھوڑ دیں، جانور پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے، اور انسان اپنی ضرورت کے مطابق کھاتا ہے، نہ کہ پیٹ بھر کر۔
دوم یہ کوشش کریں کہ کھانے کی پلیٹ چھوٹی رکھیں، اور جب کھانا نکالیں تو بہت تھوڑا نکالیں، جب نکالی ہوئی مقدار کھالی، تو اگر ضرورت ہو تو دوبارہ لے لیں، ہمارے کھانے کے انداز سے یہ نہیں لگنا چاہئے کہ ہم لالچی ہیں۔
سوم یہ کہ کثرت سے روزہ رکھنے کی عادت ڈالیں، اور افطار کے وقت سحری کے مقابلے میں کم کھائیں۔
چہارم یہ کہ مفت کے کھانوں سے بچیں، دعوتوں میں کم سے کم شریک ہوں، اور اگر کسی روز دعوت میں جائیں تو گھر سے کچھ کھا کر جائیں، تاکہ دعوت میں کم کھائیں، اور اس کے بعد دو تین دن تک روزہ رکھیں۔
اگر ان اصولوں کو پیش نظر رکھیں گے تو آپ کی صحت بہتر ہوگی، آپ کی عمر لمبی ہوگی، آپ کام کے وقت نشیط ہوں گے، بیماریوں سے محفوظ رہیں گے، اور شیطان آپ کے مقابلے میں خود کو کمزور پائے گا۔
آخری بات یہ ہے کہ یہ نہ بھولیں کہ کم کھانا انبیاء علیہم السلام کی سنت اور سارے حکماء کا طریقۂ کار ہے، اور زیادہ کھانے سے عقل و قلب کمزور ہوجاتے ہیں، انسان بلید الطبع اور بیوقوف ہوجاتا ہے، اور اس کی حوصلہ مندی جواب دے جاتی ہے، اور آہستہ آہستہ شیطان سے مغلوب بلکہ اس کا بندہ محکوم ہوجاتا ہے۔
قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی مقیم لندن