خواتين اور چہرہ كا پرده

خواتين اور چہرہ كا پرده

آکسفورڈ کی نیک اور فاضلہ معلمہ و داعیہ محترمہ سحرش تاشفین نے دریافت فرمایا ہے کہ: خواتین کے چہرے کے پردے کے بارے میں مختلف آراء سننے میں آتی ہیں۔ کیا عورتوں کے لیے چہرہ ڈھانپنا فرض ہے؟ امید ہے کہ اس کی وضاحت سے ایک بڑا اشکال اور غلط فہمی دور ہو جائے گی۔

جواب:
عورتوں کے پردے کے متعلق میرا ایک تفصیلی مضمون "خواتین اور ستر پوشی” کے عنوان سے موجود ہے، جس میں مختلف حالات میں عورتوں کے لیے پردے کے احکام تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں آپ کے سوال کی رعایت سے صرف چہرے کے پردے کا مسئلہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جو حضرات مزید تفصیل چاہتے ہیں وہ مذکورہ مضمون کا مطالعہ فرمائیں۔

شریعتِ مطہرہ کی رو سے چہرے، ہتھیلیوں اور پیروں (فقہِ حنفی کے مطابق) کے علاوہ عورت کا پورا جسم عورت ہے، یعنی اس کی ستر پوشی فرض ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا” (سورۃ النور: 31)
ترجمہ: "اور (عورتیں) اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہو۔”

اس آیتِ کریمہ میں "جو ظاہر ہو” سے کیا مراد ہے؟ اس بارے میں اکابر صحابہ کرام اور تابعینِ عظام سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ بعض جلیل القدر مفسرین اور فقہاء کے نزدیک اس سے مراد چہرہ، ہاتھ اور پاؤں ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: "اس سے مراد چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں ہیں” (مصنف ابن ابی شیبہ 9/281)۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباسؓ، سعید بن جبیرؒ اور مکحولؒ سے بھی یہی منقول ہے (مصنف ابن ابی شیبہ 9/282-283)۔ امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں: "اس سے مراد چہرہ اور لباس ہے” (مصنف ابن ابی شیبہ 9/281)۔ امام شافعیؒ کا قول ہے: "اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلیاں ہیں” (السنن الكبرى للبیہقی، کتاب النکاح، باب تخصیص الوجه والکفین)۔

ائمہ اربعہ اور جمہور علماء کی ایک بڑی جماعت کا اس پر اتفاق ہے کہ چہرہ پردے میں داخل نہیں، یعنی عورت کے لیے چہرہ کھلا رکھنا بذاتِ خود ناجائز نہیں۔ اس پر قدیم فقہی مراجع میں واضح تصریحات موجود ہیں، جیسے: المبسوط للشيباني (3/56)، المبسوط للسرخسي (10/153)، الموطأ برواية يحيى (2/935)، النظر في أحكام النظر لابن القطان (ص 143)، المدونة (2/334)، كتاب الأم (1/89)، السنن الكبرى للبيهقي (7/85)، الإنصاف لابن حنبل (1/452)۔

بعد کے بعض فقہاء نے فتنہ (یعنی بگاڑ یا بے حیائی کے اندیشے) کے پیش نظر چہرے کے پردے کو بھی لازمی قرار دیا، مگر یہ بات سمجھنے کی ہے کہ فتنہ ایک عارضی حالت ہے، اور اسے دائمی یا مستقل حکم بنا دینا درست نہیں۔ یعنی اگر کسی زمانے یا معاشرے میں فتنہ کا اندیشہ زیادہ ہو، تو چہرے کو ڈھانپنا احتیاطاً افضل اور مستحسن قرار دیا جائے گا، لیکن اسے فرض یا لازم نہیں کہا جائے گا۔

یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہیے کہ چہرے کا پردے میں داخل نہ ہونا ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ مرد عورتوں کو گھوریں یا بے احتیاطی سے دیکھیں۔ اسلام دونوں کے لیے غضِ بصر یعنی نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن میں مردوں سے فرمایا گیا:
"قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ” (النور: 30)،
اور اسی کے فوراً بعد عورتوں سے فرمایا گیا:
"وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ” (النور: 31)،
یعنی مرد اور عورت دونوں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور پاکدامنی اختیار کریں۔

اسلام نے دونوں صنفوں کو ایک دوسرے کے احترام اور عفت کے دائرے میں رہنے کی تعلیم دی ہے۔ عورتوں کے لیے پردے کا اصل مقصد عفت، وقار اور تحفظ ہے۔ نماز کے وقت بھی عورت کے لیے حکم یہی ہے کہ چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپنا فرض ہے۔ اسی طرح اپنے گھر میں شوہر یا محرم کے علاوہ دوسرے مردوں کے سامنے آنے کے وقت بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے (تحفة الفقهاء ص 569)۔

البتہ گھر سے باہر کے معاملات اور پردے کی تفصیلات ایک مستقل بحث ہیں، جن کی وضاحت مذکورہ مضمون "خواتین اور ستر پوشی” میں مفصل طور پر کی گئی ہے۔

خلاصہ:
چہرہ پردے میں داخل نہیں، یہی ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کا متفقہ موقف ہے۔ البتہ اگر فتنہ یا بدنگاہی کا اندیشہ ہو تو چہرہ چھپانا مناسب ہے۔ اسلام کا اصل مقصد محض ظاہری پردہ نہیں، بلکہ دلوں کی پاکیزگی، نگاہوں کی حفاظت، اور معاشرے میں حیا و عفت کا قیام ہے۔


ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے