انسانی بدن

انسانی شعور، نعمت کا باطن اور شکر کا مقام — معرفتِ اوّلین کی روحانی جہات

انسان کی حقیقت محض اس کے جسمانی وجود یا خارجی افعال میں نہیں، بلکہ اس کے ادراک کے لطیف ترین زاویوں میں پوشیدہ ہے، وہ اپنے حواس کے ذریعے دنیا کو دیکھتا ضرور ہے، مگر دنیا کی جو تعبیر اس کے اندر بنتی ہے وہ بیرونی منظر سے زیادہ اس کی باطنی کیفیت کی مرہونِ منت ہوتی ہے، انسان دراصل صرف دیکھتا نہیں، دیکھنے کو معنی بھی دیتا ہے؛ اور یہ معنی ہمیشہ اس کی داخلی تہذیب، اس کے شعور کی سطح اور اس کی روحانی تربیت کے سانچے میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

اس کا تجربہ بتاتا ہے کہ وقتی خواہش اور پائیدار شعور دو الگ منطقیں رکھتے ہیں، ایک منطق اُس وقت حرکت میں آتی ہے جب انسان کسی محل، کسی دولت، کسی قوت یا کسی آسائش کو دیکھ کر اس کی ظاہری تابندگی سے متاثر ہوتا ہے، یہاں خواہش ایک چنگاری کی طرح بھڑکتی ہے اور انسان کو یہ گمان ہوتا ہے کہ زندگی کی تکمیل انہی چیزوں کے حصول سے وابستہ ہے۔ یہ مرحلہ دراصل شعور کی ابتدائی سطح ہے، جہاں انسان نعمت کو اس کے مادّی حجم سے پہچانتا ہے۔ وہ اشیا کا اسیر بن جاتا ہے اور اُس کے سوالات صرف ملکیت، قبضے اور اضافے کے گرد گھومتے ہیں۔
لیکن انسانی شعور کا تطور اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب اُس کی نظر اشیا کے ظاہر سے آگے بڑھ کر اُن کے باطن کی طرف متوجہ ہو۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان پہلی بار یہ سمجھنے لگتا ہے کہ نعمت کی حقیقت اُس کے مادی وجود میں نہیں بلکہ اُس معنوی نسبت میں ہے جو عطا کرنے والے کے ارادے سے قائم ہوتی ہے۔ ایک سادہ سا پکوان جو ماں کے ہاتھوں تیار ہوا ہو، انسان کی پوری فکری دنیا پر غالب آ سکتا ہے، کیونکہ وہ نعمت کی ایسی جہت سے متعارف کرواتا ہے جو محلات کے در و دیوار میں ممکن نہیں۔ محسن کے ایک نرم سے عمل یا دوست کی ایک ہمدردانہ بات میں وہ شفقت اور اخلاص کا جو نور جگمگاتا ہے، وہ انسان کے تصورِ نعمت کو نئے سرے سے مرتب کرتا ہے۔
یہ لمحہ دراصل معرفتِ اوّلین کی ابتدا ہے، وہ بنیادی ادراک جس میں انسان پہلی بار یہ محسوس کرتا ہے کہ نعمت ایک مادی شے نہیں، بلکہ ایک طرف سے عطا ہونے والا تعلق ہے۔ یہی ادراک اُس کے ذہن میں دو دنیاؤں کا واضح فرق قائم کرتا ہے: ایک دنیا وہ ہے جس میں انسان اشیا کا پیچھا کرتا ہے، اور دوسری وہ جس میں وہ اُن ہاتھوں کو پہچاننا شروع کرتا ہے جو اشیا کے پیچھے کارفرما ہیں۔ پہلی دنیا میں مرکزِ نگاہ شے ہوتی ہے، دوسری میں عطیہ اور معطی۔ پہلی دنیا حرص کے انتشار سے بھری ہوتی ہے، دوسری معرفت کے سکون سے معمور۔
جب انسان اس حقیقت کو محسوس کرتا ہے کہ زندگی کا ہر سانس، فکر کا ہر زاویہ، جسم کی ہر قوت، دل کا ہر جذبہ، اور دنیا کی ہر آسودگی، ان میں سے کوئی بھی اس کی ذاتی کمائی نہیں، تو اس کے اندر وجودی نوعیت کی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ کائنات میں اس کا مقام مالک کا نہیں بلکہ ایک ایسے محتاج کا ہے جسے ہر آن دستِ غیب سے فیض ملتا رہتا ہے۔ اُن نعمتوں کا جو اسے ملی ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کے اختیار کا ناگزیر نتیجہ نہیں؛ وہ فضل کی شعاعیں ہیں جو اس پر نازل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ لحظۂ شعور انسان کو مادی تفوق سے اخلاقی فروتنی کی طرف لے جاتا ہے۔
یہاں سے فریضۂ اوّلین کا دروازہ کھلتا ہے، یعنی شکر۔
شکر دراصل ایک روحانی منطق ہے: انسان نعمت کو اُس کے اصل مصدر کی طرف لوٹاتا ہے، اپنے دل کو انکسار کے لیے آمادہ کرتا ہے، اور دنیا کو ایک عظیم عطا کے طور پر دیکھنے لگتا ہے۔ شکر زبان کا ہلکا سا عمل نہیں؛ یہ شعور کی وہ گہری حرکت ہے جو انسان کے وجود کو بدل دیتی ہے۔ جس دل میں شکر کا نور اتر آئے وہ نہ فقر سے ڈرتا ہے، نہ کثرت سے مغرور ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ نعمت کا وجود دراصل محبت اور حکمت کے فیصلے سے بندھا ہے، اور شکر اس شعور کا اخلاقی اظہار ہے۔
جو دل اس معرفت سے خالی ہو وہ دولت کے انباروں کے باوجود بھی فقیر رہتا ہے؛ اور جو دل اس نور سے معمور ہو وہ فقر میں بھی ایک ایسی وسعت محسوس کرتا ہے جو دنیاوی مال و متاع کے تمام پیمانے شکست دے دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شکر ایک وجودی قوت ہے، جو انسان کی داخلی دنیا میں توازن، سکون اور معنویت پیدا کرتی ہے۔
اور جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے کہ وہ اپنی تمام نعمتوں کو شعوری طور پر پہچانتے ہوئے اپنے رب کے حضور یہ عرض کرے: "رَبِّ اَوْزِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ” تو یہ اس امر کی علامت ہے کہ وہ معرفت کی پہلی سیڑھی سے گزر کر عبادت کی معراج تک پہنچ چکا ہے، جہاں شکر محض ایک فریضہ نہیں رہتا بلکہ انسان کے وجود کا داخلی منطقہ بن جاتا ہے۔ یہی مقام وہ ہے جہاں معرفتِ اوّلین، فریضۂ اوّلین کو جنم دیتی ہے، اور انسان کی پوری زندگی عطا کے شعور اور شکر کے رویے میں ڈھل جاتی ہے۔

Dr Akram Nadwi

قلمکار: ڈاکٹر محمداکرم ندوی آکسفورڈ لندن

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے